Sunan An Nasai 3106صحیح
جہاد نہ کرنے والے مجاہدین کے برابر نہیں ہو سکتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95، جَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَكَانَ أَعْمَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: فَكَيْفَ فِيَّ وَأَنَا أَعْمَى ؟ قَالَ: فَمَا بَرِحَ حَتَّى نَزَلَتْ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95.
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت : لا يستوي القاعدون من المؤمنين اتری تو ابن ام مکتوم (رض) جو اندھے تھے آئے اور کہا : اللہ کے رسول ! میرے متعلق کیا حکم ہے ؟ (میں بیٹھا رہنا تو نہیں چاہتا) اور آنکھوں سے مجبور ہوں، (جہاد بھی نہیں کرسکتا) پھر تھوڑا ہی وقت گذرا تھا کہ یہ آیت : غير أولي الضرر نازل ہوئی (یعنی معذور لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں) ۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٩٠٩) (صحیح )
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3102
It was narrated that Al-Bara’ said: “When the following was revealed: ‘Not equal are those of the believers who sit (at home),’ Ibn Umm Maktum, who was blind, came and said: ‘Messenger of Allah ﷺ, what about me? I am blind.’ He said: ‘He did not leave before the following was revealed: Except those who are disabled (by injury or are blind or lame).” (Sahih)