Sunan An Nasai 3108صحیح
جس کی صرف والدہ زندہ ہو اس کے لئے اجازت
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا.
معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ جاہمہ (رض) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور آپ کے پاس آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں، آپ ﷺ نے (ان سے) پوچھا : کیا تمہاری ماں موجود ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں، آپ نے فرمایا : انہیں کی خدمت میں لگے رہو، کیونکہ جنت ان کے دونوں قدموں کے نیچے ہے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٢ (٢٧٨١) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٧٥) ، مسند احمد (٣/٤٢٩) (حسن صحیح )
وضاحت : ١ ؎: یعنی جنت کی حصول یابی ماں کی رضا مندی اور خوشنودی کے بغیر ممکن نہیں۔
قال الشيخ الألباني : حسن صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3104
It was narrated from Muawiyah bin Jahimah As-Sulami, that Jahimah came to the Prophet ﷺ and said: “Messenger of Allah ﷺ! I want to go out and fight (in Jihad) and I have come to ask your advice.” He said: “Do you have a mother?” He said: “Yes.” He said: “Then stay with her, for Paradise is beneath her feet.” (Sahih)