Sunan An Nasai 4880صحیح
چور سے چوری کا اقرار کرانے کے واسطے اس کے ساتھ مار پیٹ کرنا یا اس کو قید میں ڈالنا
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَحَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ، ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُ.
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو ایک الزام میں قید میں رکھا، پھر اسے رہا کردیا۔
تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (حسن )
قال الشيخ الألباني : حسن
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4876
It was narrated from Bahz bin Hakim, from his father, from his grandfather, that: the Messenger of Allah ﷺ detained a man who was under suspicion, and then he let him go. (Hssan)