Sunan An Nasai 391صحیح
اگر کسی خاتون کو طواف زیارت کے بعد ماہواری آجائے تو کیا حکم ہے؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قال: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا، قالت لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا، أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ بِالْبَيْتِ ؟قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَاخْرُجْنَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو حیض آگیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شاید وہ ہمیں روک لے گی، کیا اس نے تم لوگوں کے ساتھ طواف (افاضہ) نہیں کیا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا : کیوں نہیں (ضرور کیا تھا) ، آپ ﷺ نے فرمایا : تو پھر تو نکلو ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحیض ٢٧ (٣٢٨) ، صحیح مسلم/الحج ٦٧ (١٢١١) ، موطا امام مالک/فیہ ٧٥ (٢٢٦) ، مسند احمد ٦/٣٨، ٣٩، ٨٢، ٩٩، ١٢٢، ١٦٤، ١٧٥، ١٧٧، ١٩٣، ٢٠٢، ٢٠٧، ٢١٣، ٢٢٣، ٢٥٣ (تحفة الأشراف ١٧٩٤٩) وقد أخرجہ : سنن ابی داود/فیہ ٥٨ (٢٠٠٣) ، سنن الترمذی/فیہ ٩٩ (٩٤٣) ، سنن ابن ماجہ/فیہ ٨٣ (٣٠٧٢) ، (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: یعنی طواف زیارت جو فرض ہے ادا ہوچکا ہے اب صرف طواف وداع رہ گیا ہے جس کے لیے حائضہ کا ٹھہرنا ضروری نہیں، اور اگر طواف افاضہ نہ کیا ہو تو حیض سے فارغ ہونے تک مکہ میں انتظار کرے، اور طواف افاضہ کر کے ہی کے گھر واپس ہو، کیونکہ طواف افاضہ رکن حج ہے، فدیہ سے پورا نہیں ہوگا، اور موجودہ وقت میں فلائٹوں کی پریشانی کی وجہ سے انتظار ممکن نہ ہو تو صاف ستھرا ہو کر لنگوٹ باندھ کر اور عطر لگا کر حالت حیض ہی میں طواف افاضہ کرلے اور ایک فدیہ (دم) دیدے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 391
It was narrated from Aishah (RA) that she said to the Messenger of Allah ﷺ : “Safiyyah bint Huyai began menstruating.” The Messenger of Allah ﷺ said: “Perhaps she has detained us. Did she not circumambulate the House with you?” She said: “Yes.” He said: “Then you can leave.” (Sahih)