Sunan An Nasai 4509صحیح
نجش کی ممانعت
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ النَّجْشِ.
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرضی بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے سے منع فرمایا ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحیل ٦ (٦٩٦٣) ، صحیح مسلم/البیوع ٤ (١٥١٦) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٤ (٢١٧٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٣٤٨) ، موطا امام مالک/البیوع ٤٥ (٩٧) ، مسند احمد (٢/٧، ٦٣، ٩١، ١٥٦) ، سنن الدارمی/البیوع ٣٣ (٢٦٠٩) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: نجش: ایک چیز کا خریدنا مقصود نہ ہو لیکن دوسرے کو ٹھگانے کے لیے قیمت بڑھا دینا۔
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4505
It was narrated from Ibn Umar that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade artificially inflating prices.