Sunan An Nasai 4636صحیح
ایک بیع کے اندر دو بیع کرنا جیسے کہ اس طریقہ سے کہے کہ اگر تم نقد فروخت کرو تو سو روپیہ میں اور ادھار لو تو دو سو روپے میں
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٥١١٢) ، مسند احمد (٢/٤٣٢، ٤٧٥) (حسن صحیح )
وضاحت : ١ ؎: اور دونوں میں کسی بات پر اتفاق نہ ہوسکا ہو، اگر کسی ایک پر اتفاق ہوگیا تو پھر یہ بیع حلال اور جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني : حسن صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4632
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade two transactions in one.