Sunan An Nasai 4646صحیح
بیع میں اگر شرط خلاف ہو تو بیع صحیح ہوجائے اور شرط باطل ہوگی
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ، قَالَتْ: فَأَعْتَقْتُهَا، قَالَتْ: فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدا تو ان کے گھر والوں نے ولاء (وراثت) کی شرط لگائی، میں نے اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا، تو آپ نے فرمایا : اسے آزاد کر دو ، کیونکہ ولاء (وراثت) اس کا حق ہے جس نے درہم (روپیہ) دیا ہے ، چناچہ میں نے انہیں آزاد کردیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلایا اور انہیں ان کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا ١ ؎ تو بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی زوجیت میں نہ رہنے کو ترجیح دی، حالانکہ ان کے شوہر آزاد تھے ٢ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٤٧٩ (صحیح) (لیکن ” وکان زوجھا حراً “ کا لفظ شاذ ہے، محفوظ روایت یہی ہے کہ بریرہ کے شوہر غلام تھے )
وضاحت : ١ ؎: یعنی چاہیں تو اس شوہر کی زوجیت میں رہیں جن سے غلامی میں نکاح ہوا تھا، اور چاہیں تو ان کی زوجیت میں نہ رہیں۔ ٢ ؎: صحیح واقعہ یہ ہے کہ وہ اس وقت غلام تھے، اسی لیے تو بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا گیا، اگر وہ آزاد ہوتے تو بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا ہی نہیں جاتا، (دیکھئیے حدیث رقم ٢٦١٥ و ٣٤٧٩ ) اس حدیث کی باب سے مناسبت یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ولاء والی شرط کو باطل قرار دے کر باقی معاملہ ( بریرہ کی بیع کو ) صحیح قرار دیا۔
قال الشيخ الألباني : صحيح دون قوله وکان زوجها حرا فإنه شاذ والمحفوظ أنه کان عبدا
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4642
It was narrated that Aishah (RA) said: "I bought Barirah and her masters stipulated that her loyalty (Wala) should be to them, I mentioned that to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Set her free, and loyalty belongs to the one who pays the silver. She said: "so I set her free. The Messenger of Allah ﷺ called her and gave her the choice regarding her husband, and she chose herself. Her husband was a free man.