Sunan An Nasai 1663صحیح
رات کو قرأت کرنے کے طریقہ کا بیان
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَكَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ يَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ، قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ.
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ رات میں کس طرح قرآت کرتے تھے، جہری یا سری ؟ تو انہوں نے کہا : آپ ہر طرح سے پڑھتے، کبھی جہراً پڑھتے، اور کبھی سرّاً پڑھتے۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٦٢٨٦) وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٣ (١٤٣٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٣ (٤٤٩) ، مسند احمد ٦/١٤٩ (صحیح )
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1662
It was narrated that Abdullah bin Abi Qais said: "I asked Aishah: "How did the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) recite at night- did he recite loudly or silently?" She said: He used to do both; sometimes he recited loudly and sometimes he recited silently."