Sunan An Nasai 2162صحیح
سیدہ عائشہ صدیقہ کی حدیث میں سلیمان بن مہران کے متعلق راویوں کا اختلاف
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ: رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِلَاهُمَا لَا يَأْلُو عَنِ الْخَيْرِ، أَحَدُهُمَا يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ وَالْفِطْرَ، وَالْآخَرُ يُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْفِطْرَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْفِطْرَ، قَالَ مَسْرُوقٌ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: هَكَذَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں : میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، مسروق نے ان سے کہا : رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے دو شخص ہیں، یہ دونوں نیک کام میں کوتاہی نہیں کرتے، (لیکن) ان میں سے ایک نماز اور افطار دونوں میں تاخیر کرتے ہیں، اور دوسرے نماز اور افطار دونوں میں جلدی کرتے ہیں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : کون ہیں جو نماز اور افطار دونوں میں جلدی کرتے ہیں ؟ مسروق نے کہا : وہ عبداللہ بن مسعود (رض) ہیں، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے ہیں۔
تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢١٦٠ (صحیح )
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2160
It was narrated that Abu ‘Atiyyah said: “Masruq and I came to Aishah (RA), and Masruq said to her: ‘There are two men from among the Companions of the Messenger of Allah ﷺ both of whom are good; one of them delays the prayer and Iftar, and the other hastens the prayer and Iftar.’ Aishah (RA) said: ‘Which of them is the one who hastens the prayer and Iftar?’ Masruq said: ‘Abdullah bin Mas’ud.’ Aishah (RA) said: ‘That is what the Messenger of Allah ﷺ used to do.” (Sahih)