Sunan An Nasai 5296صحیح
کس قسم کے کپڑے پہننا بہتر ہیں اور کس قسم کے کپڑے برے ہیں؟
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْأَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنِي سَيِّئَ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟، قَالَ: نَعَمْ، مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللَّهُ، فَقَالَ: إِذَا كَانَ لَكَ مَالٌ فَلْيُرَ عَلَيْكَ.
ابوالاحوص کے والد عوف بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے مجھے خستہ حالت میں دیکھا، تو فرمایا : کیا تمہارے پاس کچھ مال و دولت ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر طرح کا مال دے رکھا ہے، آپ نے فرمایا : جب تمہارے پاس مال ہو تو اس کے آثار بھی نظر آنے چاہئیں ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥٢٢٥ (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: یعنی : فضول خرچی اور ریاء و نمود کے کے بغیر، اور حیثیت کے مطابق آدمی کے اوپر اچھا لباس ہونا چاہیئے، ہاں۔ اسراف، فضول خرچی اور ریاء و نمود والا لباس ناپسندیدہ اور مکروہ ہے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5294
It was narrated from Abu Al-Ahwas that his father said: "I entered upon the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he saw me looking scruffy. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Do you have anything? He said: Yes, Allah has given me all kinds of wealth. He said: If you have wealth, let it be seen on you.