Sunan An Nasai 3456صحیح
اگر کوئی شخص بیوی سے اس طریقہ سے کہے کہ جا تو اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر رہ لے
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ فِي حَدِيثِهِ: إِذَا رَسُولٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَتَانِي، فَقَالَ: اعْتَزِلِ امْرَأَتَكَ، فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ لَا تَقْرَبْهَا، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ، الْحَقِي بِأَهْلِكِ.
عبدالرحمٰن بن کعب اپنے والد کعب بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے واقعے کے ذکر میں بتایا : اچانک رسول اللہ ﷺ کا ایک قاصد میرے پاس آیا اور کہا تم اپنی بیوی سے جدا ہوجاؤ، میں نے اس سے کہا : میں اسے طلاق دے دوں، اس نے کہا نہیں، طلاق نہ دو ، لیکن اس کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اس حدیث میں انہوں نے الحقی باھلک کا ذکر نہیں کیا ہے۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١١٥٤) (صحیح )
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3426
It was narrated from Abdur-Rahman bin Kab bin Malik that his father said: "The envoy of the Messenger of Allah came to me and said: Keep away from your wife. I said: Should I divorce her? He said: No, but do not approach her." And he (the narrator) did not mention (the words): "Go to your family.