Sunan An Nasai 3536صحیح
حاملہ کی عدت کے بیان میں
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ، قَالَا: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْمَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ،أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنَتْ أَنْ تَنْكِحَ، فَأَذِنَ لَهَا، فَنَكَحَتْ.
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمی رضی اللہ عنہا کو اپنے شوہر کے انتقال کے بعد بچہ جن کر حالت نفاس میں ہوئے کچھ ہی راتیں گزریں تھیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے دوسری شادی کرنے کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور انہوں نے شادی کرلی۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطلاق ٣٩ (٥٣٢٠) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٧ (٢٠٢٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٧٢) ، موطا امام مالک/الطلاق ٣٠ (٨٥) ، مسند احمد (٤/٣٢٧) ، ویأتي فیما یلي (صحیح )
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3506
It was narrated from Al-Miswar bin Makhramah that Subaiah Al-Aslamiyyah gave birth one day after her husband died. She came to the Messenger of Allah and asked his permission to marry, and he gave her permission to marry and she married.