Sunan An Nasai 4795صحیح
شبہ عمد کی دیت کیا ہوگی؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَتِيلُ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ بِالسَّوْطِ أَوِ الْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، أَرْبَعُونَ مِنْهَا فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا.
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : خطا یعنی شبہ عمد کے طور پر جو شخص کوڑے یا ڈنڈے سے مرجائے تو اس کی دیت سو اونٹ ہے، چالیس ان میں سے حاملہ اونٹنیاں ہوں ۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الدیات ٥ (٢٦٢٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٩١١) ، ٨٩١١، ١٩١٩٤) ، مسند احمد (١/١٦٤، ١٦٦) ، سنن الدارمی/الدیات ٢٢ ٢٤٢٨) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: شبہ عمد : ایسے آلات سے قتل کرنے کو کہتے ہیں جن سے عام طور سے قتل نہیں کیا جاتا، جیسے لاٹھی، کوڑا، اور موٹی سوئی وغیرہ ( گرچہ نیت قتل کی ہو ) اس میں جس دیت کا بیان ہے وہی دیت مغلظہ ہے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4791
It was narrated from Al-Qasim bin Rabiah, from Abdullah bin Amr, the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The accidental killing, which seems intentional, with a whip or stick, (the Diyah) is one hundred camels, of which forty should be (she-camels) which their young in their wombs.