Sunan An Nasai 3873ضعیف
اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ الْحَنْظَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ ضَعِيفٌ لَا يَقُومُ بِمِثْلِهِ حُجَّةٌ، وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں : محمد بن زبیر ضعیف ہیں، ان جیسے سے حجت قائم نہیں ہوتی اور اس حدیث کے سلسلے میں ان کے متعلق اختلاف کیا گیا ہے۔
تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨٧١ (ضعیف) (اس کے راوی ” محمد بن زبیر “ ضعیف الحدیث ہیں، اور اس حدیث کے مضمون کا کوئی شاہد موجود نہیں )
قال الشيخ الألباني : ضعيف
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3842
It was narrated that Imran bin Husain said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: There is no vow at a moment of anger and its expiation is the expiation for an oath. Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: