Sunan An Nasai 2635صحیح
اس مرنے والے کی طرف سے حج کرنا کہ جس نے حج ادا نہ کیا ہو
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَال: حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: أَمَرَتِ امْرَأَةٌ سِنَانَ بْنَ سَلَمَةَ الْجُهَنِيَّ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أُمَّهَا مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ أَفَيُجْزِئُ عَنْ أُمِّهَا أَنْ تَحُجَّ عَنْهَا، قَالَ: نَعَمْ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّهَا دَيْنٌ فَقَضَتْهُ عَنْهَا أَلَمْ يَكُنْ يُجْزِئُ عَنْهَا ؟ فَلْتَحُجَّ عَنْ أُمِّهَا.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے سنان بن سلمہ جہنی (رض) سے کہا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھیں کہ میری ماں مرگئی ہے اور اس نے حج نہیں کیا ہے تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں تو اسے کافی ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، اگر اس کی ماں پر قرض ہوتا اور وہ اس کی جانب سے ادا کرتی تو کیا یہ اس کی طرف سے کافی نہ ہوجاتا ؟ لہٰذا اسے اپنی ماں کی طرف سے حج کرنا چاہیئے ۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٦٥٠٥) ، مسند احمد (١/٢٧٩) (صحیح الإسناد )
قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2633
Ibn ‘Abbas said: “The wife of Sinan bin Salamah Al-Juhani ordered that the question be put to the Messenger of Allah ﷺ about her mother who had died and had not performed Hajj; would it be good enough if she were to perform Hajj on behalf of her mother? He said: ‘Yes. If her mother owed a debt and she paid it off, would that not be good enough? Let her perform Hajj on behalf of her mother.” (Sahih)