Sunan An Nasai 3004صحیح
منی سے عرفات روانہ ہونے کے وقت تلبیہ پڑھنا
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ غَدَاةَ عَرَفَةَ مَا تَقُولُ فِي التَّلْبِيَةِ فِي هَذَا الْيَوْمِ ؟ قَالَ: سِرْتُ هَذَا الْمَسِيرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ وَكَانَ مِنْهُمُ الْمُهِلُّ وَمِنْهُمُ الْمُكَبِّرُ، فَلَا يُنْكِرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى صَاحِبِهِ.
محمد بن ابی بکر ثقفی کہتے ہیں کہ میں نے عرفہ کی صبح انس (رض) سے پوچھا : آج کے دن تلبیہ پکارنے کے سلسلے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : میں نے یہ مسافت رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے ساتھ طے کی ہے، ان میں سے بعض لوگ تلبیہ پکارتے تھے، اور بعض تکبیر پکارتے تھے تو ان میں سے کوئی اپنے ساتھی پر نکیر نہیں کرتا تھا۔
تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح )
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3001
It was narrated that Muhmmad bin Abi Abkr - Ath-Thaqafi - said: "I said to Anas on the morning of Arafat: What do you say about the Talbiyah on this day? I said: I walked this path with the Messenger of Allah and his Companions. Some of them recited the Talbiyah and some recited the Takbir, and none of them denounced any other.