Sunan An Nasai 3070صحیح
شام ہونے کے بعد کنکریاں مارنے سے متعلق
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ أَيَّامَ مِنًى فَيَقُولُ: لَا حَرَجَفَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ؟ قَالَ: لَا حَرَجَفَقَالَ رَجُلٌ: رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ، قَالَ: لَا حَرَجَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ منیٰ کے ایام میں رسول اللہ ﷺ سے (حج کے مسائل) پوچھے جاتے تو آپ فرماتے کوئی حرج نہیں ، ایک شخص نے آپ سے پوچھا : میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈا لیا ؟ آپ نے فرمایا : کوئی حرج نہیں ، اور ایک دوسرے شخص نے کہا : شام ہوجانے کے بعد میں نے کنکریاں ماریں ؟ آپ نے فرمایا : کوئی حرج نہیں ۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٢٤ (٨٤) ، الحج ١٢٥ (١٧٢٣) ، ١٣٠ (١٧٣٥) ، الأیمان ١٥ (٦٦٦٦) ، سنن ابی داود/الحج ٧٩ (١٩٨٣) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٧٤ (٣٠٥٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٠٤٧) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الحج ٥٧ (١٣٠٧) ، مسند احمد (١/٢١٦، ٢٥٨، ٢٦٩، ٢٩١، ٣٠٠، ٣١١، ٣٢٨) (صحیح )
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3067
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ: was asked questions during the days of Mina and he said: ‘There is no harm.’ A man said: ‘I shaved my head before offering the sacrifice.’ He said: ‘There is no harm.’ Another man said: ‘I stoned (the Jamarat) after evening came.’ He said: ‘There is no harm.” (Sahih)