Sunan An Nasai 501صحیح
جس وقت گرمی کی شدت ہو تو نماز ظہر ٹھنڈے وقت ادا کرنے کا حکم
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المساجد ٣٢ (٦١٥) ، سنن ابی داود/الصلاة ٤ (٤٠٢) ، سنن الترمذی/الصلاة ٥ (١٥٧) ، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٤ (٦٧٧) ، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٧ (٢٨) ، (تحفة الأشراف : ١٣٢٢٦) ، مسند احمد ٢/٢٢٩، ٢٣٨، ٢٥٦، ٢٦٦، ٣٤٨، ٣٧٧، ٣٩٣، ٤٠٠، ٤١١، ٤٦٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٤ (١٢٤٣) ، والرقاق ١١٩ (٢٨٨٧) ، وعن طریق أبی سلمة بن عبدالرحمن عن أبی ہریرة، (تحفة الأشراف : ١٥٢٣٧) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: جمہور علماء نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے یہ بطور تشبیہ و تقریب کہا گیا ہے، یعنی یہ گویا جہنم کی آگ کی طرح ہے اس لیے اس کی ضرر رسانیوں سے بچو اور احتیاط کرو۔
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 500
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘If it is very hot, wait until it cools down before you pray, for intense heat is a breeze from Hell.” (Sahih)