Sunan An Nasai 3274صحیح
اگر والد اپنی کنواری لڑکی کا نکاح اس کے منظوری کے بغیر کر دے
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ، فَهُوَ إِذْنُهَا، وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یتیمہ کنواری لڑکی کی شادی کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا اگر وہ چپ رہے تو یہی (اس کا چپ رہنا ہی) اس کی جانب سے اجازت ہے، اور اگر وہ انکار کر دے تو اس پر کوئی زور (زور و دباؤ) نہیں ہے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٥١١٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/النکاح ٢٤ (٢٠٩٣) ، سنن الترمذی/النکاح ١٩ (١١٠٩) ، مسند احمد (٢/٢٥٩، ٤٧٥) (حسن )
وضاحت : ١ ؎: اگر وہ راضی نہیں ہوئی تو کوئی اور رشتہ دیکھو اور اگر وہ اس وقت شادی کرنا نہیں چاہتی تو اس وقت کا انتظار کرو جب وہ اس کے لیے آمادہ ہوجائے۔
قال الشيخ الألباني : حسن
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3270
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: An orphan girl should be consulted with regard to marriage, and if she remains silent, that is her permission. If she refuses then she is not to be forced.