Sunan An Nasai 3300صحیح
بھانجی اور خالہ کو ایک وقت میں نکاح میں رکھنا حرام ہے
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَالْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں، اور پھوپھی سے اس کی بھتیجی کی موجودگی میں شادی کی جائے۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/النکاح ٢٧ (٥١٠٨) تعلیقًا، سنن ابی داود/النکاح ١٣ (٢٠٦٥) مطولا، سنن الترمذی/النکاح ٣١ (١١٢٦) مطولا، (تحفة الأشراف : ١٣٥٣٩) ، مسند احمد (٢/٤٢٦، سنن الدارمی/النکاح ٨ (٢٢٢٤) (صحیح )
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3296
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade taking a woman as a co-wife to her paternal aunt or her maternal aunt.