Sunan An Nasai 5720صحیح
کس قسم کا طلاء پینا درست ہے اور کو نسی قسم کا ناجائز؟
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَاعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَّا بَعْدُ، فَاطْبُخُوا شَرَابَكُمْ حَتَّى يَذْهَبَ مِنْهُ نَصِيبُ الشَّيْطَانِ، فَإِنَّ لَهُ اثْنَيْنِ وَلَكُمْ وَاحِدٌ.
عبداللہ بن یزید خطمی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے ہمیں لکھا : امابعد، اپنے مشروبات کو اس قدر پکاؤ کہ اس میں سے شیطانی حصہ نکل جائے ١ ؎، کیونکہ اس کے اس میں دو حصے ہیں اور تمہارا ایک۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٥٨٨) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎: شیطانی حصہ سے روایت نمبر ٥٧٢٩ میں مذکور واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5717
It was narrated that Abdullah bin Yazid Al-Khatmi said: "Umar bin Al-Khattab (RA) wrote to us (saying): Cook your drinks until the share of the Shaitan is gone, for he has two (shares) and you have one.