Sunan An Nasai 5732صحیح
کونسی طلاء پینا درست ہے اور کونسی نہیں؟
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي ثَابِتٍ الثَّعْلَبِيِّ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنِ الْعَصِيرِ ؟، فَقَالَ: اشْرَبْهُ مَا كَانَ طَرِيًّا، قَالَ: إِنِّي طَبَخْتُ شَرَابًا وَفِي نَفْسِي مِنْهُ، قَالَ: أَكُنْتَ شَارِبَهُ قَبْلَ أَنْ تَطْبُخَهُ ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَإِنَّ النَّارَ لَا تُحِلُّ شَيْئًا قَدْ حَرُمَ.
ابوثابت ثعلبی کہتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کے پاس تھا اتنے میں ایک شخص آیا اور ان سے رس (شیرے) کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا : جب تک تازہ ہو پیو۔ اس نے کہا : میں نے ایک مشروب کو پکایا ہے پھر بھی وہ میرے دل میں کھٹک رہا ہے ؟ انہوں نے کہا : کیا تم اسے پکانے سے پہلے پیتے ہو ؟ اس نے کہا : نہیں، انہوں نے کہا : آگ سے کوئی حرام چیز حلال نہیں ہوجاتی۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف : ٥٣٦٩) (صحیح الإسناد )
قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوف
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5729
It was narrated that Abu Thabit Ath-Thalabi said: "I was with Ibn Abbas when a man came to him and asked him about juice. He said: Drink that which is fresh. He said: I cooked a drink on the fire and I am not sure about it. He said: Did you drink it before you cooked it? He said: No. He said: Fire does not make permissible something that is forbidden." (Sahih Mawquf)