سنن الترمذی - آداب اور اجازت لینے کا بیان - حدیث نمبر 2697
حدیث نمبر: 2732
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ قَدِمَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَاهُ فَقَرَعَ الْبَابَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرْيَانًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ عُرْيَانًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ فَاعْتَنَقَهُ وَقَبَّلَهُ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
گلے ملنے اور بوسہ دینے کے متعلق
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ زید بن حارثہ مدینہ آئے (اس وقت) رسول اللہ میرے گھر میں تشریف فرما تھے، وہ آپ کے پاس آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا، تو آپ ان کی طرف ننگے بدن اپنے کپڑے سمیٹتے ہوئے لپکے اور قسم اللہ کی میں نے آپ کو ننگے بدن نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد دیکھا ١ ؎، آپ نے (بڑھ کر) انہیں گلے لگا لیا اور ان کا بوسہ لیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف زہری کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٦٦١١) (ضعیف) (سند میں " ابراہیم بن یحییٰ بن محمد " اور ان کے باپ " یحییٰ بن محمد بن عباد " دونوں ضعیف ہیں )
وضاحت: ١ ؎: یعنی کسی کے استقبال میں آپ کو اس حالت و کیفیت میں نہیں دیکھا جو حالت و کیفیت زید بن حارثہ سے ملاقات کے وقت تھی کہ آپ کی چادر آپ کے کندھے سے گرگئی تھی اور آپ نے اسی حالت میں ان سے معانقہ کیا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشکاة (4682)، مقدمة رياض الصالحين و / (5)، نقد الکتاني ص (16) //
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2732
Sayyidah Asma bint Yazid narrated: Alalh’s Messenger ﷺ passed through the mosque one day. A group of women were sitting there. He gestured his greeting with his hand. [Abu Dawud 5204, Ibn e Majah 3701]
Top