الدخان
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
تعارف
تعارف سورة الدخان
مستند روایات کے مطابق یہ سورت اس وقت نازل ہوئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کے کافروں کو متنبہ کرنے کے لئے ایک شدید قحط میں مبتلا فرمایا، اس موقع پر لوگ چمڑے تک کھانے پر مجبور ہوئے، اور ابو سفیان کے ذریعے کافروں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ قحط دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں، اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگر قحط دور ہوگیا تو ہم ایمان لے آئیں گے، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے قحط سے نجات عطا فرمادی، لیکن جب قحط دور ہوگیا تو یہ کافر لوگ اپنے وعدے سے پھرگئے اور ایمان نہیں لائے، اس واقعے کا تذکرہ اس سورت کی آیت نمبر ١٠ تا ١٥ میں آیا ہے، اور اسی سلسلے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ایک آسمان پر دھواں ہی دھواں نظر آئے گا (اس کا مطلب انشاء اللہ اس آیت کی تفسیر میں آئے گا) دھویں کو عربی زبان میں دخان کہتے ہیں اور اسی وجہ سے اس سورت کا نام سورة دخان ہے، سورت کے باقی مضامین توحید رسالت اور آخرت کے اثبات پر مشتمل ہیں۔