الأحقاف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
تعارف
تعارف سورة الاحقاف
اس سورت کی آیت نمبر ٢٩ اور ٣٠ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس وقت نازل ہوئی تھی جب جنات کی ایک جماعت نے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن کریم سنا تھا، معتبر روایات کے مطابق یہ واقعہ ہجرت سے پہلے اس وقت پیش آیا تھا جب حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف سے واپس تشریف لارہے تھے اور نخلہ کے مقام پر فجر کی نماز میں قرآن کریم کی تلاوت فرما رہے تھے، دوسری مکی سورتوں کی طرح اس سورت میں بھی اسلام کے بنیادی عقائد یعنی توحید، رسالت اور آخرت کو دلائل کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے، اسی زمانہ میں اس قسم کے واقعات پیش آرہے تھے کہ ایک ہی گھر انے میں والدین مسلمان ہوگئے اور اولاد مسلمان نہیں ہوئی، اور اس نے اپنے والدین کو ملامت شروع کردی کہ وہ کیوں اسلام لائے، اس کے برعکس بعض گھرانوں میں اولاد مسلمان ہوگئی اور والدین مسلمان نہیں ہوئے، اور انہوں نے اولاد پر تشدد شروع کردیا، اس سورت کی آیات ١٦ و ١٧ میں اسی قسم کی صورت حال کا تذکرہ کیا گیا ہے، اور اسی پس منظر میں اولاد پر ماں باپ کے حقوق بیان فرمائے گئے ہیں، اس کے علاوہ ماضی میں جن قوموں نے کفر اور نافرمانی کی روش اختیار کی ان کے برے انجام کا حوالہ دیا گیا ہے، اور قوم عاد کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے، جس جگہ یہ قوم آباد تھی وہاں بہت سے ریت کے ٹیلے تھے جنہیں عربی زبان میں احقاف کہا جاتا ہے، اسی مناسبت سے اس سورت کا نام احقاف ہے۔