ق

آسان قرآن

مفتی محمد تقی عثمانی

تعارف

تعارف سورة ق اس سورت کا اصل موضوع آخرت کا اثبات ہے، اسلام کے عقائد میں عقیدہ آخرت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، یہی وہ عقیدہ ہے جو انسان کے قول وفعل میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے، اور اگر یہ عقیدہ دل میں پیوست ہوجائے تو وہ ہر وقت انسان کو اس بات کی یاد دلاتا رہتا ہے کہ اسے اپنے ہر کام کا اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینا ہے، اور پھر یہ عقیدہ انسان کو گناہوں، جرائم اور ناانصافیوں سے دور رکھنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لئے قرآن کریم نے آخرت کی زندگی کو یاد دلانے پر بہت زور دیا ہے، اور اسی کا نتیجہ تھا کہ صحابہ کرام ہر وقت آخرت کی زندگی کو بہتر بنانے کی فکر میں لگے رہتے تھے، اب جو مکی سورتیں آرہی ہیں، ان میں زیادہ تر اسی عقیدے کے دلائل اور قیامت کے حالات اور جنت اور دوزخ کی منظر کشی پر زور دیا گیا ہے، سورة ق کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بکثرت فجر اور جمعہ کی نمازوں میں اس سورت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے، سورت کے آغاز حروف مقطعات میں حرف ق سے کیا گیا ہے، جس کے معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں، اسی حرف کے نام پر سورت کا نام رکھا گیا ہے۔