الممتحنة

آسان قرآن

مفتی محمد تقی عثمانی

تعارف

تعارف سورة الممتحنہ یہ سورت صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیانی عرصے میں نازل ہوئی ہے، ان دونوں واقعات کی تفصیل پیچھے سورة فتح کے تعارف میں گزرچکی ہے، اس سورت کے بنیادی موضوع دو ہیں، ایک صلح حدیبیہ کی شرائط میں جو بات طے ہوئی تھی کہ اگر مکہ مکرمہ سے کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ منورہ آئے گا تو مسلمان اسے واپس بھیجنے کے پابند ہوں گے، اس کا اطلاق مسلمان ہو کر آنے والی عورتوں پر نہیں ہوگا، اور اگر کوئی عورت مسلمان ہو کر آئے گی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا جائزہ لے کر دیکھیں گے کہ کیا واقعی مسلمان ہو کر آئی ہے تو پھر اسے واپس نہیں بھیجا جائے گا، اس صورت میں اگر وہ شادی شدہ ہو، اور اس کا شوہر مکہ مکرمہ میں رہ گیا ہو، اس کے نکاح اور مہر وغیرہ سے متعلق کیا احکام ہوں گے ؟ وہ بھی اس سورت میں بیان فرمائے گئے ہیں، اور جن مسلمانوں کے نکاح میں ابھی تک بت پرست عورتیں تھیں، ان کے بارے میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اب وہ ان کے نکاح میں نہیں رہ سکتیں، چونکہ اس سورت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان عورتوں کا امتحان یا جائزہ لینے کا حکم دیا گیا تھا، اس لئے اس سورت کا نام ممتحنہ ہے، یعنی امتحان لینے والی۔ سورت کا دوسرا موضوع جو بالکل شروع میں بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے غیر مسلموں سے کس قسم کے تعلقات رکھنا جائز ہے اور کس قسم کے ناجائز، چنانچہ سورت کو اس حکم سے شروع فرمایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو دشمنوں سے خصوصی دوستی نہیں رکھنی چاہیے، ان آیتوں کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ سورة فتح کے تعارف میں ہم یہ بیان کرچکے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے معاہدے کو مکہ مکرمہ کے کافروں نے دو سال کے اندر اندر ہی توڑدیا تھا، اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش کے لوگوں پر واضح فرمادیا تھا کہ اب وہ معاہدہ باقی نہیں رہا، اس کے بعد آپ نے مکہ مکرمہ کے کفار پر ایک فیصلہ کن حملہ کرنے کی تیاری شروع فرمادی تھی ؛ لیکن ساتھ ہی کوشش یہ تھی کہ قریش کے لوگوں کو آپ کی تیاری کا علم نہ ہو، اسی دوران سارہ نام کی ایک عورت جو گانا بجاکر پیسے کماتی تھی، مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آئی اور اس نے بتایا کہ وہ مسلمان ہو کر نہیں آئی ؛ بلکہ وہ شدید مفلسی میں مبتلا ہے ؛ کیونکہ جنگ بدر کے بعد قریش مکہ کی عیش و عشرت کی محفلیں ویران ہوچکی ہیں، اب کوئی اسے گانے بجانے کے لئے نہیں بلاتا، اس لئے مالی امداد حاصل کرنے کے لئے آئی ہے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنوعبدالمطلب کو اس کی مدد کرنے کی ترغیب دی، اور اس کو کچھ نقدی اور کچھ کپڑے دے کر رخصت کیا گیا۔ دوسری طرف مہاجرین صحابہ کرام میں حضرت حاطب بن ابی بلتعہ (رض) ایک ایسے بزرگ تھے جو اصل میں یمن کے باشندے تھے اور مکہ مکرمہ آکر بس گئے تھے، مکہ مکرمہ میں ان کا قبیلہ نہیں تھا، وہ خود تو ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے تھے، لیکن ان کے اہل و عیال مکہ مکرمہ ہی میں رہ گئے تھے، جن کے بارے میں انہیں یہ خطرہ تھا کہ کہیں قریش کے لوگ ان پر ظلم نہ کریں، دوسرے مہاجر صحابہ جن کے اہل و عیال مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے، انہیں تو کسی قدر اطمینان تھا کہ ان کا پورا قبیلہ وہاں موجود ہے جو کافروں کے ظلم سے انہیں تحفظ دے سکتا ہے ؛ لیکن حضرت حاطب کے اہل و عیال کو یہ تحفظ حاصل نہیں تھا، جب سارہ نامی عورت مکہ مکرمہ واپس جانے لگی تو ان کے دل میں یہ خیال آیا کے اگر میں قریش کے لوگوں کو خفیہ طور پر ایک خط میں یہ اطلاع دے دوں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر حملہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں تو اس سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تو کوئی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے مکہ مکرمہ کی فتح کا وعدہ فرما رکھا ہے ؛ لیکن میری طرف سے قریش پر ایک احسان ہوجائے گا، اور اس احسان کی وجہ سے وہ میرے اہل و عیال کے ساتھ نرمی کا معاملہ کریں گے، چنانچہ انہوں نے ایک خط لکھ کر سارہ کے حوالے کردیا کہ وہ قریش کے سرداروں کو پہنچادے، ادھر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دے دی کہ سارہ ایک خفیہ خط لے کرگئی ہے اور روضہ خاخ کے مقام تک پہنچ چکی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی، حضرت مرثد اور حضرت زبیر (رض) کو اس مہم پر روانہ فرمایا کہ وہ اس عورت کا پیچھا کرکے اس سے وہ خط بر آمد کریں، اور یہاں واپس لے آئیں، یہ حضرات گئے اور انہوں نے وہ خط برآمد کرلیا، حضرت حاطب سے پوچھا گیا تو انہوں نے معذرت کی، اور اپنی اس غلطی کی وجہ بیان کی جو اوپر ذکر کی گئی ہے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی نیک نیتی کی وجہ سے ان کی اس غلطی کو معاف فرمادیا، اسی واقعے پر اس سورت کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں۔