الجمعة
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
تعارف
تعارف سورة الجمعہ
اس سورت کے پہلے رکوع میں حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور آپ کی بعثت کے مقاصد بیان فرما کر پوری انسانیت کو آپ پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے، اور خاص طور پر یہودیوں کی مذمت کی گئی ہے، کہ وہ جس کتاب یعنی تورات پر ایمان رکھنے کا دعوی کرتے ہیں، اس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کی بشارت موجود ہے، اسکے باوجود وہ آپ پر ایمان نہ لاکر خود اپنی کتاب کی خلاف ورزی کررہے ہیں، پھر دوسرے رکوع میں مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ان کی تجارتی سرگرمیاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں، چنانچہ حکم دیا گیا ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد ہر قسم کی خریدو فروخت بالکل ناجائز ہے، نیز جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دے رہے ہوں اس وقت کسی تجارتی کام کے لئے آپ کو چھوڑ کر چلے جانا جائز نہیں ہے، اور اگر دنیوی مصروفیات کا شوق کسی دینی فریضے میں رکاوٹ بننے لگے تو اس بات کا دھیان کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے لئے آخرت میں جو کچھ تیار کر رکھا ہے وہ دنیا کی ان دلفریبیوں سے کہیں زیادہ بہتر ہے، اور دینی فرائض کو رزق کی خاطر چھوڑنا سراسر نادانی ہے ؛ کیونکہ رزق دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، لہذا رزق اس کی نافرمانی کرکے نہیں ؛ بلکہ اس کی اطاعت کرکے طلب کرنا چاہیے، چونکہ دوسرے رکوع میں جمعہ کے احکام بیان فرمائے گئے ہیں، اس لئے اس سورت کا نام جمعہ ہے۔