تعارف
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ جو زبردست حکمت والا ، نرالی شان والا ، آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ، اس کی عظمت وہیبت سے بعید نہیں کہ آسمان پھٹ پڑیں ۔ تمام فرشتے اسی کی حمد وثناء کرتے ہیں اور زمین پر بسنے والے ( نیک اور متقی لوگوں کے لیے) دعائے مغفرت مانگتے رہتے ہیں۔
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی اللہ کی طرف سے نازل کی گئی کتاب کی تبلیغ و اشاعت کے فرض کو ادا کرتے رہیے اور ہر شخص تک اس پیغام کو پہنچانے کی جدوجہد اور کوشش کرتے رہیے۔ اور جو لوگ قیامت کا انکار کرتے یا مذاق اڑاتے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ ان کے انکار کرنے سے قیامت کا ہیبت ناک دن ٹل نہیں سکتا وہ دن آ کر رہے گا ۔ اس دن تمام اولین و آخرین کا زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ہر ایک کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا جائے گا جو بہتر جزا کے مستحق ہیں ان کو خیر عطاء کی جائے گی لیکن جو سزا کے مستحق ہوں گے ان کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔
(اللہ نے سارا رزق اپنے ساتھ میں رکھا ہے وہ جس کے لیے چاہتا ہے ہر راستہ کھول دیتا ہے اور خوب رزق دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے راستے تنگ کردیتا ہے اور اس کا رزق باندھ دیا جاتا ہے۔ رزق کی فراخی اور تنگی سب اللہ کی طرف سے ہے۔ )
فرمایا کہ جن لوگوں کا کام ہی یہ ہے کہ وہ ہر چیز میں جھگڑے اور مسائل پیدا کرنے کے عادی ہیں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیجئے وہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اسی کا کائنات میں ہر طرح کے اختیارات حاصل ہیں ۔ وہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کے دروازے کھول دیتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق جس کے لیے چاہتا ہے روزق اور رزق کو باندھ دیتا ہے اور تنگ کردیتا ہے۔ وہی کائنات کی ہر حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے۔
(سمندر میں جو جہاز اور کشتیاں چلتی ہیں وہ اللہ کے حکم سے چلتی ہیں جس کے لیے اس نے ہواؤں کو چلا رکھا ہے۔ اگر وہ چاہے تو ہواؤں کو ٹھہرا دے یا ان کو طوفانی ہوائیں بنا دے اور وہ اپنی ترقیات کے باوجود بالکل بےبس ہو کر رہ جائیں ۔ اگر اللہ ایسا کر دے تو وہ برباد ہو کر رہ جائیں گے۔ اس لیے ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، کیونکہ یہ سب اسی کا کرم ہے۔ )
فرمایا کہ یہ اختلاف لوگوں نے خود ہی پیدا کر رکھے ہیں ۔ اس لیے اہل ایمان ان باتوں کی پرواہ نہ کریں ، دین اسلام کی پیروی کریں ۔ اسی کی طرف لوگوں کو بلائیں ، دعوت دیں ۔ خود بھی اس پر قائم رہیں اور دوسروں کو بھی اسی راستے پر چلائیں کسی باطل کی پیروی نہ کریں ۔ ایک دن سب کو اللہ کی بارگاہ میں جمع ہونا ہے جہاں ہر بات کا فیصلہ ہوجائے گا۔
( آخرت میں گناہ کار ، کفار و مشرکین جب کھلی آنکھوں سے اس عذاب کو دیکھیں گے جس کے متعلق اللہ کے پیغمبروں نے بتایا تھا تو وہ سخت شرمندہ ہو کر کہیں گے کہ اگر ہمیں دنیا میں جانے کا ایک موقع دیا جائے تو ہم حسن عمل کا پیکر بن جائیں گے مگر ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوگی اور وہ اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے۔ )
فرمایا کہ جو لوگ ایمان والے ہیں جب ان کے سامنے قیامت کے ہیبت ناک دن کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو وہ لرز اٹھتے ہیں کیونکہ انہیں اس دن کے واقع ہونے کا پوری طرح یقین ہوتا ہے۔ لیکن جن لوگوں کو اس کا یقین نہیں ہے وہ اس کا مذاق اڑانے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو نجانے کب سے سنتے آ رہے ہیں ۔ آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟
اللہ تعالیٰ نے انسانی اعمال کو کھیتی کی مثال دے کر بتایا ہے کہ جو شخص اس دنیا کی کھیتی کو مانگتا ہے اللہ اس کی کھیتی میں ترقی عطا فرما دیتے ہیں ۔ لیکن جو لوگ آخرت کی کھیتی کے طلب گار ہیں ان کو دنیا اور آخرت دونوں جگہ خوب عطاء کرتے ہیں ۔ ان کے لیے جنت کے باغات ہوں گے اور ہر وہ چیز عطاء کی جائے گی جس کی وہ خواہش کریں گے۔
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا جا رہا ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کفار کو اللہ دین پہنچاتے ہیں تو وہ اس سے بھڑک اٹھتے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیتیں پہنچانے میں کسر نہیں چھوڑتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہہ دیجئے کہ میں یہ جتنی باتیں تمہیں بتا رہا ہوں اس میں صرف تمہاری خیر خواہی مقصود ہے اس سے نہ تو میں تم سے کسی طرح کی کوئی اجرت مانگ رہا ہوں اور نہ معاوضہ کہ جس کی وجہ سے تمہیں بہت بوجھ محسوس ہو رہا ہے ، البتہ میں یہ چاہتا ہوں کہ تم قرابت داری کا کچھ تو خیال کرو۔ میری باتیں غور سے سنو اور مجھے ناحق تکلیفیں نہ پہنچائو۔
فرمایا کہ ان لوگوں کی یہ باتیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قرآن کو خود ہی گھڑ لیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو کہنے دیں ، پرواہ نہ کریں کیونکہ اللہ خود اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ یہ میرا کلام ہے اگر ان لوگوں نے ایسی باتوں سے توبہ کرلی تو اللہ ان کے گناہوں کو معاف فرمادے گا ۔ لیکن اگر وہ اپنے کفر پر قائم رہے اور اسی پر اصرار کرتے رہے اور ایمان نہیں لائے تو وہ یاد رکھیں کہ ان کے لیے اللہ نے ایک عذاب مقرر کردیا ہے ۔ اللہ کی ذات پر کائنات کا ذرہ ذرہ گواہی دے رہا ہے۔
اللہ کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتا بلکہ میں جو آفتیں اور مصیبتیں آتی ہیں وہ خود انسان کا کیا دھرا ہے وہ تو معاف کرتا اور نظر انداز کرتا رہتا ہے اگر وہ انسان کی ہر خطاء پر اس کو اسی وقت سزا دے دے تو پھر زمین پر کسی کا ٹھکانہ نہ رہے گا ۔
سمندر میں جہاز اور کشتیاں صرف اسی کے حکم سے چلتی ہیں ۔ اگر وہ ہوا کو ٹھہرا دے یا تیز کر دے تو وہ لوگ تباہ و برباد ہو کر رہ جائیں ۔ لیکن اللہ کا یہ کرم ہے کہ وہ انسانوں کے بہت سے گناہوں کو نظر انداز کرتا رہتا ہے البتہ کبھی کبھی گرفت بھی کرلیتا ہے۔ فرمایا کہ آدمی کو اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہیے کہ دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے جب موت آتی ہے تو اس سے سب کچھ چھن جاتا ہے۔ اس بات کو ہر شخص یاد رکھے کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے جس میں اسے ہمیشہ رہنا ہے۔
اہل ایمان وہ لوگ ہیں جو
(١) اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔
(٢) اس پر پورا پورا بھروسہ رکھتے ہیں۔
(٣) وہ چھوٹے بڑے ہر طرح کے گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
(٤) غصہ میں آجانے کے باوجود اس کو معاف بھی کردیتے ہیں۔
(٥) اللہ کے تمام احکامات کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔
(٦) نمازوں کی پورے آداب کے ساتھ پابندی کرتے ہیں۔
(٧) وہ آپس کے کاموں میں مشورہ کر کے طے کرتے ہیں۔
(٨) اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے وہ اللہ کی رضا خوشنودی کے لئے اللہ کے بندوں پر خرچ کرتے ہیں۔
(٩) جب ان پر کوئی ظلم کیا جاتا ہے تو وہ کسی پر زیادتی نہیں کرتے۔ اگر بدلہ لیتے ہیں تو برابری کا بدلہ لیتے ہیں ۔ فرمایا کہ اگر وہ معاف کردیں تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے کیونکہ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا بلکہ وہ عفو و در گزر کو بہت پسند کرتا ہے۔
(١٠) یہ زبردست حوصلے اور ہمت کی بات ہے کہ وہ ہر طرح کے حالات میں صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں۔
جب قیامت قائم ہوگی تو وہ لوگ جنہوں نے ظلم و زیادتی کی ہوگی وہ اپنے کیے ہوئے اعمال پر شرمندہ ہو کر کہیں گے کہ کاش ہمیں ایک مرتبہ پھر دنیا میں جانے کا موقع مل جائے تو پھر ہم بہتر عمل کر کے دکھائیں گے۔ ان کی یہ خواہش رد کردی جائے گی جب وہ جہنم اور اس کے عذاب کو اپنے سامنے دیکھیں گے تو ذلت و رسوائی اور شرمندگی سے ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور کن آنکھوں سے نظریں چرا چرا کر اس عذاب کو دیکھیں گے۔ اس وقت اہل ایمان کہیں گے کہ یہ کتنے بد نصیب لوگ ہیں جو خود بھی جہنم کا ایندھن بن گئے اور اپنے گھر والوں کو بھی عذاب میں مبتلا کر گئے۔
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کا پیغام ان کفار تک پہنچا دیں اگر وہ مانتے ہیں تو ان کے حق میں بہتر ہے لیکن اگر وہ نہیں مانتے تو اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی قصور نہ ہوگا ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ مانتے ہیں یا نہیں مانتے یہ ان کا معاملہ ہے لیکن کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ ساری طاقت و قوت صرف ایک اللہ کی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے وہ جس کو چاہتا ہے بیٹے دے دیتا ہے ، کسی کو بیٹیاں اور کسی کو اولاد ہی سے محروم کردیتا ہے۔
کفار کا یہ کہنا کہ اللہ خود آ کر یہ کہہ دے کر میں اللہ ہوں تو ہم اس کو مان لیں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کے سامنے آ کر اس سے باتیں کرے گا ۔ البتہ وہ اگر چاہے تو اپنے بندوں کی طرف الہام کردیتا ہے یا پردے کے باہر سے یا کسی فرشتے کے ذریعہ اپنا کلام پہنچا دیتا ہے۔ جس طرح اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کی طرف اس نے اپنا کلام بھیجا ہے ۔ فرمایا کہ یہ ایک نور ہے جس سے اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت عطاء کردیتا ہے۔
فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ خود بھی سیدھے راستے پر ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو بھی صراط مستقیم کی طرف بلا رہے ہیں ۔ آخر کار ایک دن سب کو اللہ کے سامنے حاضر ہوتا ہے جہاں پر ہر بات کا فیصلہ کردیا جائے گا ۔