تعارف
تعارف سورة الحدید۔
سورة نمبر 57
کل رکوع 4
آیات 29
الفاظ و کلمات 586
حروف 2599
مقام نزول مدینہ منورہ
فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد جو لوگ اپنے مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کریں گے اور جہاد کریں گے وہ ان لوگوں کے برابر ہرگز نہیں ہوسکتے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے جان و مال کی قربانیاں دی تھیں۔ ویسے اللہ ہر ایک کے خلوص اور قربانی کو قبول کرتا ہے۔
اللہ کے راستے میں دین اسلام کی ترقی کے لئے جو مال خرچ کیا جائے گا وہ گویا اللہ کے ذمے ایک قرض ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کو بہت بڑھا چڑھا کر ادا فرمائیں گے اور اس کے علاوہ وہ بہترین اجر کے مستحق بھی ہوں گے۔
انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ تقدیر الٰہی ہے۔ اگر دنیا میں کچھ حاصل نہ ہو تو اس پر رنج اور افسوس نہ کرنا چاہیے اور اگر بہت کچھ مل جائے تو اس پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو وہ لوگ سخت ناپسند ہیں جو شیخ باز اور فخر و غرور میں مبتلا ہوتے ہیں۔
زمین و آسمان کی ہر چیز اس حکمت والے اللہ کی پاکیزگی بیان کرتی ہے جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے اور وہ ہر طرح کی قدرت و طاقت کا مالک ہے۔ وہی اول وہی آخر وہی ظاہر اور وہی باطن ہے۔ اس نے جس چیز کو بیان کیا ہے وہ شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ اسی اللہ نے زمین وآسمان کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر وہ اپنی شان کے مطابق عرش پر جلوہ گر ہوا۔ کوئی چیز جو زمین میں داخل ہوتی ہے یا سے باہر نکلتی ہے۔ جو چیز آسمان سے اترتی یا آسمان کی طرف چڑھتی ہے اسے ہر چیز کا علم ہے۔ فرمایا کہ تم کہیں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔ تم اس سے کسی طرح بھی چھپ نہیں سکتے۔ وہ تمہارے سارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ وہی زمین وآسمان کی سلطنت کا مالک ہے۔ وہی اللہ ہے جو رات کو دن میں اور ان کو رات میں داخل کرتا ہے۔ وہ سینوں اور دلوں میں چھپے ہوئے ہر راز سے واقف ہے۔ وہ اللہ جس کی یہ شان ہے وہی اس لائق ہے کہ اس پر ایمان لا کر اس کی عبادت و بندگی کی جائے اور وہ جیسا حکم دے اس پر عمل کرنا چاہیے۔
فرمایا کہ اے ایمان والو ! تمہارے ہاتھ میں جو کچھ مال و دولت ہے درحقیقت اس کا مالک اللہ ہی ہے وہی اللہ تمہیں اپنے راستے میں خرچ کنے کا حکم دیتا ہے۔ تم کسی کنجوسی اور بخل کو قریب نہ آنے دو ۔ اللہ کے راستے میں خرچ کرنا گویا اللہ کو قرض حسنہ دینا ہے جس پر بےانتہا اجرو ثواب ہے اور اللہ اس مال کو دوگنا اور چوگنا کرکے واپس کرے گا۔ فرمایا کہ جو مومن مرد اور مومن عورتیں اللہ کے راستے میں خرچی کریں گے ان کو قیامت کے دن ایک ایسا نور عطا کیا جائے گا جو ان کے آگے اور ان کے داہنی جانب دوڑتا ہوگا جس سے پل صراط پر چلنا آسان ہوگا اور ان کو ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جو ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
لیکن وہ منافق جو پوری طرح ایمان نہ لائے تھے اور نہ انہوں نے نے اللہ کے راستے میں خرچ کیا تھا وہ اس نور سے محروم رہیں گے اور اللہ کی رحمت سے دور ہوں گے۔ جب مومنین پل صراط پر سے نور اور روشنی میں چلنے کی کوشش کریں گے اور اہل ایمان کی رفتار تیز ہوگی اس وقت وہ منافق کہیں گے کہ ذرا آہستہ چلو تا کہ ہم بھی تمہارے ساتھ چل سکیں۔ ایسی بھی کیا بےمروتی ہے کیا دنیا میں ہم ایک ساتھ نہ رہتے تھے۔ اس پر مومن جواب دیں گے کہ آج تم ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ دنیا میں تم نے اپنے ہی آپ کو گمراہی میں ڈال رکھا تھا اور تم اپنے مفادات میں اس طرح الجھے رہے کہ تم ہدایت نہ حاصل کرسکے اور تمہیں اسی حالت میں موت آگئی۔ اب تمہارا ٹھکانا جہنم ہی ہوسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس بات کو بھی بیان فرما دیا کہ اہل ایمان کا کام یہی ہے کہ وہ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے رہیں جس پر انہیں اجر عظیم عطا کیا جائے گا مگر اس سب کے باوجود ان صحابہ کرام (رض) کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے۔ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے اپنے جان و مال کی قربانیاں دی تھی ان کا اللہ کے ہاں اعلیٰ ترین مقام ہے۔
اللہ نے سوال کیا ہے کہ کیا ابھی وہ قت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کی طرف جھک جائیں ؟ اور وہ ان اہل کتاب یہود اور نصاریٰ کی طرح نہ ہوجائیں جنہوں نے اپنی بدعملیوں کی وجہ سے اپنے آپ کو غفلت میں اور دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور جب بھی ان کو کوئی نصیحت کی گئی تو انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا اور مسلسل اپنی نافرمانیوں اور گناہوں میں پھنسے رہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اللہ پر اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لا کر ان کی تصدیق کریں گے اور ان کی اطاعت کرکے گناہوں سے بچتے رہیں گے ایسے لوگ اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لئے زبردست اجر اور نور ہوگا اور کافروں کے لئے جہنم کی آگ ہوگی۔
فرمایا کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کھیل تماشہ، ایک دوسرے پر فخر و غرور، مال اور اولاد میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی جدوجہد کے سوا اور کیا ہے۔ آخرت کی زندگی ہمیشہ کی ہے اور دنیا کی زندگی انتہائی ناپائیدار ہے۔ دنیا کی زندگی اس کھیتی کی طرح ہے جو خوب پھلتی پھولتی اور سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ کسان اس کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ پھر وہی کھیتی زرد ہو کر چورہ چورہ ہوجاتی ہے۔ ایسے ہی دنیا میں ایک آدمی خوب کماتا ہے، اپنے چاروں طرف راحتوں اور آرام کے سامان جمع کرتا رہتا ہے، دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے پھر اس پر بڑھاپا آجاتا ہے اور ان تما چیزوں کی محبت کے باوجود ان میں اس کے لئے کوئی دلکشی نہیں ہوتی۔ جب کہ آخرت کی زندگی ہمیشہ کے لئے ہے اللہ سب لوگوں کو مغفرت اور اس جنت کی طرف بلاتا ہے جو ایمان والوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔
اہل ایمان کو بتایا گیا کہ آدمی پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اس کی تقدیر ہے۔ لہٰذا اگر دنیا میں کچھ حاصل نہ ہو تو اس پر رنج اور افسوس نہ کرنا چاہیے اور اگر بہت کچھ مل جائے تو اس پر اترایا نہ جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو شیخی باز اور فخر و غرور کرنے والے سخت ناپسند ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام پیغمبروں کو انسانوں کی اصلاح اور عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ فرمایا کہ اس اللہ نے لوہا نازل کیا اس میں بڑی ہیبت ہے۔ اس کے ذریعہ سامان جنگ تیار کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ جہاد کیا جائے جو انسانوں کے لئے بڑی آزمائش ہے تاکہ اللہ جان لے کہ کون اس کے دین اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ قائم کیا۔ ان کے بعد اللہ کے پیغمبر آتے رہے یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کو پیغمبر بنا کر ان کو انجیل جیسی کتاب عطا فرمائی لیکن ان کے ماننے والوں نے اس کتاب پر عمل کرنے کے بجائے رہبانیت یعنی ترک دنیا کو اختیار کرلیا حالانکہ اللہ نے ان کو اس کی کوئی تعلیم نہ دی تھی۔
فرمایا کہ جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم پر ایمان لائے تھے ان کو حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا چاہیے اور ان کی تصدیق کرنی چاہے اس طرح اللہ تعالیٰ ان کو دوگنا اجر وثواب عطا فرمائے گا یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں پر ایمان لانے کا اجردگنا کردیا جائے گا اور اللہ ان کو ایسا نور فرمائے گا جس کے ذریعہ پل صراط پر چلنا آسان ہوجائے گا۔ فرمایا کہ اللہ کے گناہ معاف فرما دے گا۔ لیکن جو لوگ ان پر ایمان نہ لائیں گے وہ اللہ کی ہر رحمت سے محروم رہیں گے اور وہ قیامت کے دن خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔