تعارف
تعارف سورة الملک
سورة نمبر 67
کل رکوع 2
آیات 30
الفاظ و کلمات 335
حروف 1359
مقام نزول مکہ مکرمہ
اللہ نے فرمایا کہ اس دنیا میں رہ کر ہر شخص کو عمل کرنے کی آزادی ہے۔ آخرت میں اس کا نتیجہ سامنے آئے گا۔ وہ لوگ خوش نصیب ہیں جو اس دنیا مین اپنی صلاحیتوں سے کام لے کر اللہ کے پیغمبر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت کر کے اپنے لئے آخرت کا سامان کرلیں گے لیکن وہ لوگ بڑے بدنصیب ہیں جو قیامت میں خالی ہاتھ پہنچیں گے اور گناہوں کے بوجھ انکی پیٹھ پر رکھے ہوئے ہوں گے۔
جہنم ایک ہولناک مقام ہے۔ جب دوزخیوں کو اس دوزخ میں ڈالا جائے گا تو ان پر اللہ کے ایسے فرشتے مقرر ہوں گے جو کسی کے رونے چلانے سے متاثر نہ ہوں گے بلکہ وہی کریں گے جس کا ان کو حکم دیا جائے گا۔ جب ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو وہ جہنم میں ایک ڈرئونی آواز میں دھاڑنا شروع کردے گی کہ جیسے وہ غصے سے پھٹی جا رہی ہے۔ اس کے برخلاف اہل جنت جنت کی تمام راحتوں میں پرسکون اور عیش و آرام کی زندگی گزارتے ہوں گے۔
سورۃ الملک مکہ مکرمہ کے ابتدائی دو ر میں نازل کی جانے والی ان سورتوں میں سے ہے جس میں غفلت اور گناہوں میں ڈوبے ہوئے انسان کو خواب غفلت سے جگا کر زمین و آسمان اور اپنے اچھے یا برے اعمال پر غوروفرک کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
فرمایا کہ اللہ نے ایک مرتبہ اور منظم نظام کو بنا کر اس کو ایسے ہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ وہ اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ اور اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لئے ہر زمانہ میں اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا ہے تاکہ جو لوگ ان کی باتوں پر ایمان لا کر عمل صالح کی زندگی اختیار کریں ان کو قیامت کے دن جنت کی ابدتی راحتیں عطا کردی جائیں اور جن لوگوں نے ان کو جھٹلایا اور انکی اطاعت سے انکار کیا ان کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیاجائے۔ اس سورة کا خلاصہ یہ ہے۔
اللہ جس نے تہہ در تہہ یعنی اوپر تلے سات آسمان بنائے وہ بہت ہی برکت اور عطمت والی ذات ہے۔ اگر ان آسمانوں کی تخلیق اور پیدائش پر کوئی انسان غور کرے بار بار غور کرے تو اس کی نظریں تھک جائیں گی لیکن اس کو کہیں کسی جگہ بےترتیبی یا بدنظمی نظر نہ آئے گی۔
اللہ نے دنیا کے آسمان کو چراغوں (چاند، سورج اور ستاروں) سے روشن کر رکھا ہے۔ اگر کوئی شیطان ان آسمانوں کی طرف آکر کچھ چوری چھپے سننے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر شہاب ثاقب یعنی آگ کے گولوں کی بارش کردی جاتی ہے۔
زمین کے متعلق بتایا کہ تم اس زمین میں چل پھر کر اور مھنت کرکے اپنا رزق تلاش کرتے رہو۔ اللہ نے اس میں پہاڑوں کو بوجھ رکھ کر ایک خاص تو ازن قائم کردیا ہے ورنہ زلزلے اور تیز و تند ہوائیں ہر چیز کو برباد کرکے رکھ دیتیں۔ اس نے اس میں پانی کے ذریعہ سرسبزی و شادابی پیدا کی۔ فرمایا کہ زمین اور آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز کو اس نے انسان کے تابع کردیا یعنی اس کے کام میں لگا دیا تاکہ وہ ایک مقرر وقت تک اس دنیا میں رہ کر اپنی زندگی کا ہر سامان حاصل کرسکے اور اس میں اپنے بہترین اعمال کے ذریعہ وہ جنت کی ابدی راحتوں کا حق دار بن سکے۔
اللہ نے لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے ہر زمانہ میں اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا ہے جن انہوں نے ان کی بات مان کر ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کیا ہے اسی ایک اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ اور اعتماد کیا ہے۔ ان کے لئے معافی، درجات کی بلندی اور اجر عظیم تیار کیا گیا ہے۔ لیکن جن لوگوں نے نافرمانی کا راستہ منتخب کرکے رسولوں کو جھٹلایا ہے قیامت میں ان کو سوائے شرمندگی اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کے اور کچھ بھی نصیب نہ ہوگا۔ جہنم ایک ہیبت ناک مقام ہے چناچہ جب ان جہنمیوں کو اس آگ میں ڈالا جائے گا تو جہنم اس قدر ڈرائونی آواز میں دھاڑنا شروع کرے گی کہ جیسے وہ غصے سے پھٹی جا رہی ہے۔
فرمایا کہ اس پر ایسے سخت مزاج اور حکم کی تعمیل کرنے والے فرشتے مقرر ہوں گے جن کا کام صرف یہی ہے کہ ان کو جو کچھ حکم دیا جائے وہ اس کی تعمیل کریں یعنی کسی کے رونے، چلانے اور فریاد کرنے کا ان پر کوئی اثر نہ ہوگا۔
وہ فرشتے ان جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ کہا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ڈرانے ولاے اور برے انجام سے آگاہ کرنے والے پیغمبر نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ پیغمبر تو آئے تھے مگر ہم نے ان کو جھٹلایا اور کہا کہ اللہ نے کوئی کتاب یا حکم ناز ل نہیں کیا یہ سب تمہاری گھڑی ہوئی باتیں ہیں اور اس طرح ہم بھٹک گئے۔
وہ نہایت افسوس کے ساتھ کہیں گے کہ کاش ہم ان کی باتوں کو مان لیتے تو آج یہ بدترین دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ فرمایا جائے گا کہ تم نے خود ہی اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا ہے۔ تمہاری اس سوچ پر اللہ کی لعنت ہے۔ اس کے بعد جب ان کو جہنم کے قریب لایا جائے گا تو ان منکرین کے چہرے بگڑ جائیں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ عذاب اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہے جس کا تم مطالبہ اور تقاضا کرنے میں جلدی کیا کرتے تھے۔
دنیا میں اللہ کے پیغمبر ان کو اس دن کے برے انجام سے ڈرایا کرتے تا وہ مذاق اڑانے کے لئے کہا کرتے تھے کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی اور اس کا عذاب کیسا ہوگا ؟ فرمایا کہ قیامت کے دن اس کا جواب دیا جائے گا اور وہ اس جہنم کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ کر سخت شرمندہ ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے تمہیں سننے، دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں عطا کی ہیں جن پر تمہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ تمہارے مقابلے میں جتنی بھی مخلوقات ہیں وہ اس درجہ پر سننے، دیکھنے اور سوچنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔ فرمایا کہ تاریخ انسانی پر نظر ڈالو کہ جب کسی قوم نے اللہ کی نافرمانی کی اس کا انجام دنیا ہی میں کتنا بھیانک اور خراب ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے پوچھا ہے کہ
٭وہ اللہ جو اس نظام کائنات کو اپنی قدرت سے چلا رہا ہے اگر وہ تمہیں زمین کے اندر دھنسا دے تو کیا تم کسی طرح بھی اپنے آپ کو اس سے بچا سکتے ہو۔ تم اتنے بےفکر اور بےخوف کیوں ہوگئے ہو ؟
٭جس اللہ نے زمین مین تو ازن بنایا ہے اگر وہ بےوزن کردے تو کیا یہ زمین زلزلوں اور جھٹکوں کا شکار نہ ہوجائے گی ؟
٭کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تمہارے اوپر طوفانی اور پتھر برسانے والی ہوائیں بھیج کر تمہیں تباہ و برباد کردے ؟
٭اگر وہ رحمن تمہارا رزق روک لے تو کیا کوئی اور ذات یا طاقت ہے جو تمہارے لئے رزق کے دروازے کھول دے گی ؟
٭پانی جس سے تمہاری زندگی وابستہ ہے اگر وہ اس کو زمین کے نیچے لے جا کر غائب کردے تو کیا کوئی اس کے سوتوں کو جاری کرسکتا ہے ؟
٭رحمن کے لشکر کے سوا دوسرا کون سا لشکر ہے جو رحمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کرسکتا ہے ؟
٭تمہیں سوچنے کے لئے دل و دماغ سننے کے لئے کان اور دیکھنے کے لئے آنکھیں کس نے عطا کی ہیں ؟
٭فضاؤں میں پرندے کبھی پر کھولتے اور کبھی سمیٹ لیتے ہیں ان کو کس ذات نے فضاؤں میں سنبھال رکھا ہے ؟
٭فرمایا کہ اگر کسی کو اللہ ہی کسی مصیبت میں پھنسا دے تو اس سے چھٹکارا دلانے والا سوائے اللہ کے اور کون ہے ؟
مسلمانوں کے بد خواہوں سے فرمایا ہے کہ اللہ مومنوں پر رحم و کرم کرے یا سزا دے اس سے تمہیں کیا عرض ہے ؟ تمہیں تو اپنی فکر ہونی چاہیے جب وہ ان کافروں کو عذاب دے گا تو اس وقت ان کو بچانے والا کون ہوگا ؟
یقینا ان سب باتوں کا جواب ایک ہی ہے کہ وہ اللہ جو اس نظام کائنات کا چلا رہا ہے ہر طرف اسی کی قدرت اور طاقت ہے وہی بناتا ہے اور وہی اپنے نافرمانوں کو ان کے برے انجام تک پہنچاتا ہے۔
فرمایا کہ تم اللہ کو زور سے پکارو یا آہستہ، وہ ہر وقت ہر شخص کی فریاد کو سنتا ہے۔ وہ ہر بات کو نہایت باریکی سے دیکھ کر باخبر رہتا ہے۔ فرمایا کہ تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اس سے پہلے ہی اس کی تیاری کرلی جائے کیونکہ وہاں عمل کرنے کا وقت نہیں ہوگا۔ عمل کرنے کے لئے دنیا کا میدان ہے جو یہاں بےعملی کا شکار ہوگا اسے قیامت کی ہمیشہ کی زندگی میں کبھی سکون نہ ملے گا۔