شمائل نبویہ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور نسب
1۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰه﴾ (سورۃ الفتح آیت29) ’’محمد اللہ کے رسول ہیں‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں (یعنی کفر و شرک کو مٹانے والا)، میں حاشر ہوں (لوگ میرے قدموں میں جمع کئے جائیں گے) اور میں عاقب ہوں (آخر میں آنے والا)۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام ’’رؤف‘‘ اور ’’رحیم‘‘ بھی رکھا ہے۔ (متفق علیہ)۔
2۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مزید نام بتاتے ہوئے فرمایا: ’’میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں مقفی (آخری نبی) ہوں، میں حاشر ہوں، نبیئِ توبہ ہوں اور نبیئِ رحمت ہوں‘‘(رواہ مسلم)۔
3۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مزید نام بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا:میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں میں مقضّی (آخری نبی )ہوں میں حاشر ہوں ، نبی توبہ ہوں ، اورنبی رحمت ہوں ۔(رواہ مسلم )
4۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :’’کیا تم حیران نہیں ہوتے کس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھ سے قریش کے برابھلا کہنے اور لعنت کو پھیر دیا؟وہ قابل مذمت آدمی کو برا بھلا کہتے اور لعنت کہتے تھے اور میں محمد( قابل تعریف) ہوں ۔(یعنی میرا نام تو محمد ہے) اور وہ مذمم پر سب وشتم کرتے ہیں۔(رواہ بخاری)
5۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے اولادِ اسماعیل علیہ السلام سے قبیلہ کنانہ کو منتخب کیا ۔کنانہ سے قریش کو ، قریش سے بنی ہاشم کو اور بنی ہاشم سے اللہ نے مجھے منتخب کیا ہے۔
6۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’میرے نام پر نام رکھو ۔اور میری کنیت (ابو القاسم) پر کنیت نہ رکھو۔اس لئے کہ میں ہی قاسم ہوں اور تمہارے درمیان (اللہ کی نعمتیں تقسیم کرتا ہوں)‘‘ (رواہ مسلم )