شمائل نبویہ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ عالیہ
بنیتَ لہم مِن الأخلاق رکناً
فخانوا الرکن فانہدم اضطِراباً
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے امتیوں کے لئے اخلاق عالیہ سے ایک مضبوط قلعہ تعمیر کیا تھا۔ مگر انہوں نے اپنی بد اعمالی سے اسے نقصان پہنچایا۔ خیانت کی تو وہ لرزتا ہوا دھڑام سے گر گیا۔
وکان جنأبہم فیھا مھیباً
ولَلأخلاق أجدَرُ أن تُہاباً
دشمن قلعے کی مضبوطی سے خوفزدہ تھے۔ حالانکہ اخلاقی قوت ہی سے خوفزدہ ہونا زیادہ مناسب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق
1۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ االلّٰه لِنْتَ لَہُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمْ وَ شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی االلّٰه اِنَّ االلّٰه یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ﴾
(آل عمران:159)
اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ساتھ آپ ان کے لئے نرم ہو گئے ہیں اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکھڑ مزاج، سخت دل ہوتے تو تیرے پاس سے لوگ بھاگ جاتے لہٰذا انہیں معاف کر اور ان کے لئے بخشش مانگ۔ معاملات میں ان سے مشورہ کر۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کسی امر کا) پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر توکل کیجئے بیشک اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘۔
2۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْم﴾ (سورۃ القلم آیۃ:4) ’’یقیناً آپ بڑے اخلاق کے مالک ہیں‘‘۔
3۔(کانہ خلقہ القرآن) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن کریم ہی ہے‘‘ (رواہ مسلم)
4۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت عادت جھوٹ ہے۔ (رواہ البیہقی۔ صحیح)
5۔رسول اللہ : فطری طور پر بدزبان تھے نہ تکلف سے بدزبانی کرتے تھے اور نہ لعنت کرنے والے تھے اور فرماتے تھے ’’تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو اخلاق میں تم سب سے بہتر ہو‘‘۔
6۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدزبان تھے نہ لعنت کرنے والے تھے نہ گالی گلوچ کرنے والے تھے۔ کسی سے ناراضگی کے وقت فرماتے تھے: ’’اسے کیا ہوا اس کی پیشانی خاک آلود ہو‘‘۔ یہ کلمہ تعجب کے وقت کہا جاتا ہے۔ (رواہ البخاری)۔
7۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت چہرے والے اور سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے‘‘۔ (رواہ البخاری)۔
8۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: آپ مشرکین کے خلاف دعا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے لعنت کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا بلکہ مجھے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘۔ (رواہ مسلم)۔
9۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیک فال لیتے تھے، بدفالی نہیں لیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھا نام پسند آتا تھا۔ (رواہ احمد)۔ (نیک فال لینے کی صورت یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی مریض سے کہے: سالم۔ تو اسے لفظ سے یہ خیال کرے کہ ان شاء اللہ اور صحت ہو گی۔ کوئی تکلیف نہیں یہ تو خطاؤں سے پاک کرنے کا باعث ہے۔ اس سے بیماری کو اپنے لئے بہتر خیال کرنا۔ بدشگونی یہ ہے کہ کسی ناگوار چیز کو دیکھ کر یہ خیال کرنا کہ یہ میری بدبختی کی علامت ہے۔ (مترجم)۔
10۔سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بات کرتے وقت میری طرف رخ کرتے تھے۔ میں نے خیال کیا کہ میں لوگوں سے بہتر ہوں۔
عمرو ابن العاص:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بہتر ہوں یا ابو بکر رضی اللہ عنہ؟
الرسول:ابوبکر رضی اللہ عنہ بہتر ہیں۔
عمرو ابن العاص:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بہتر ہوں یا عمر رضی اللہ عنہ؟
الرسول:عمر رضی اللہ عنہ بہتر ہیں۔
عمرو ابن العاص:میں نے جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچا جواب ہی دیا۔ تب میں نے خواہش کی کاش میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال نہ کرتا۔(رواہ الترمذی۔ حسن)۔
11۔عطاء ابن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمرو ابن العاص سے مل کر کہا: مجھے توراۃ میں مذکور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت مجھے بتائیے تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں: توراۃ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض وہ صفات ذکر کی گئی ہیں جو قرآنِ کریم میں مذکور ہیں۔ قرآنِ کریم میں ہے: ﴿یَآ اَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَ مُبَشِّرًا وَ نَذِیْرًا﴾ ’’اے نبی ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے‘‘۔ حدیث شریف میں صفت ہے: ’’ان پڑھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچاؤ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذریعہ بنایا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے۔ نہ وہ اکھڑ اور نہ سخت مزاج ہے۔ نہ بازاروں میں شور مچانے والا ہے۔ نہ برائی کا جواب برائی سے دیتا ہے بلکہ معاف کرتا اور درگزر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی روح قبض نہیں کرے گا جب تک ٹیڑھی ملت کو سیدھا نہ کر دے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار نہ کر لیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے جب تک اندھی آنکھوں کو کھول نہ دے، بہرے کانوں کو اور بند دلوں کو جب تک کھول نہ دے (اسے فوت نہیں کرے گا)‘‘ (رواہ البخاری)۔ (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بالا آیات کریمہ اور حدیث کے الفاظ بیان کر کے واضح کیا کہ قرآن و حدیث میں بیان کردہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ صفات توراۃ میں بھی مذکور ہیں)۔
12۔اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو معاملات کے درمیان ایک کو اختیار کرنے کا اختیار دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے آسان امر ہی کو اختیار کیا۔ جب تک اس میں گناہ کی بات نہ ہو۔ اگر اس آسان کام میں گناہ ہوتا تو تمام لوگوں سے زیادہ اس سے دور ہوتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی معاملے میں اپنا ذاتی انتقام نہیں لیا۔ البتہ اگر اللہ تعالیٰ کی حرمت کو توڑا جاتا تو اللہ کی خاطر اس کا انتقام لیتے تھے۔ (متفق علیہ)۔
13۔اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔ نہ کسی بیوی کو نہ کسی خادم کو۔ البتہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے کسی کو مارتے تھے۔ کسی نے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا ہو تو اس کہنے والے سے انتقام نہیں لیتے تھے۔ البتہ اگر اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو توڑا جاتا تو اللہ کی خاطر اس سے انتقام لیتے تھے۔ (رواہ مسلم)۔
14۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی سائل آتا تھا یا کوئی ضرورت مند آتا تھا (اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ ہوتا تھا تو خود عطا کر دیتے تھے ورنہ صحابہ فرماتے تھے: (اس حاجتمند کے لئے) سفارش کرو، تمہیں اجر ملے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان (فرمان) پر جو چاہتا فیصلہ کر دیتا تھا۔ (اللہ کی مشیت میں جو ہوتا تھا اس کے مطابق سائل کی ضرورت پوری کر دیتا تھا)۔
15۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ خوش خلق تھے۔ ایک دن مجھے کسی ضرورت کے لئے بھیجا۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم میں نہیں جاؤں گا۔ میرے جی میں یہ آیا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کروں۔ میں نکلا۔ کچھ بچوں کے پاس میرا گذر ہوا، وہ بازار میں کھیل رہے تھے۔ (میں کچھ دیر وہاں ٹھہر گیا)۔ پھر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پیچھے بالکل قریب تھے۔ میری گدی کے پیچھے کھڑے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصے کے کچھ آثار نہ تھے)۔
الرسول: ’’اے پیارے انس! کیا تو وہاں گیا تھا جہاں جانے کا میں نے حکم دیا تھا؟
انس: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ابھی جاتا ہوں۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں نے نو سال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کسی کام پر کبھی یہ کہا ہو: تو نے اس طرح کیوں کیا ہے؟ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کسی کام کا کبھی عیب نکالا ہے۔ اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھے اُف تک نہیں کہا۔ (رواہ مسلم)۔
16۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک سردار کو قید کیا جس نے نام ’’ثمامۃ‘‘ تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور فرمایا: اے ثمامۃ! تیرے دل میں کیا خیال ہے؟ ثمامۃ نے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میرے دل میں بھلائی ہے۔ میرا حال اچھا ہے۔ اگر آپ قتل کریں گے تو ایک قاتل کو قتل کریں گے۔ اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مجھے چھوڑ کر) احسان کریں گے تو ایک شکر گذار پر احسان کریں گے۔ (یعنی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شکر گذار ہوں گا)۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال چاہتے ہیں تو مانگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاہت کے مطابق آپ کو دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ثمامۃ کو رہا کر دو‘‘۔ (رہا ہو کر) ثمامہ چلا گیا۔ پھر غسل کر کے مسجد میں داخل ہوا اور عرض کیا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اللہ کی قسم روئے زمین پر میرے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے زیادہ قابل نفرت کوئی چہرہ نہیں تھا۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ میرے نزدیک تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہے۔ اور کوئی دین میرے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے زیادہ قابل نفرت نہیں تھا مگر اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین تمام دینوں سے زیادہ محبوب ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر سے زیادہ قابل نفرت میرے نزدیک کوئی شہر نہیں تھا مگر اب میرے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر تمام شہروں سے زیادہ محبوب ہو گیا ہے۔ جب مسلمان ہو کر ثمامہ مکے میں آیا تو ایک آدمی نے اس سے کہا: کیا تو بے دین ہو گیا ہے؟ اس نے جواب دیا: نہیں بلکہ میں نے اسلام قبول کیا ہے۔ (متفق علیہ الفاظ اختصار کے ساتھ مسلم کے ہیں)۔