شمائل نبویہ ﷺ

تکبر کرنے والوں کا انجام

1۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلاً۔ کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَيِّئُهُ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوْھًا﴾ (بنی اسرآئیل:38۔37) ’’اور (اے انسان) زمین میں اترا کر نہ چل تو زمین کو ہرگز پھاڑ نہیں سکے گا۔ اور تو بلند میں پہاڑوں تک بھی نہیں پہنچ سکے گا۔ اسی طرح کی ہر برائی تیرے رب کے نزدیک بہت ناپسندیدہ ہے‘‘۔ 2۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّ اللّٰه لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ۔ وَاقْصِدْ فِیْ مشْیِکَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ اِنَّ اَنْکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ﴾ (لقمان:19-18) ’’لوگوں کے سامنے تکبر سے اپنے رخسار کو ٹیڑھا نہ کر۔ اور زمین میں اکڑ کر نہ چل۔ اللہ تعالیٰ ہر متکبر اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اپنے چلنے میں میانہ روی اختیار کر۔ اور اپنی آواز کو پست کر۔ یقیناًسب آوازوں سے بری آواز گدھوں کی آواز ہے‘‘۔ (اگر بلند آوازی رعب و عزت کا باعث ہے تو گدھا تجھ سے زیادہ بارعب اور باعزت ہے۔ مترجم) 3۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’عزت میری اِزار (تہہ بند) ہے اور تکبر میری (اوڑھنے کی) چادر ہے جس شخص نے ان دونوں میں سے کسی ایک کو مجھ سے چھینا میں اسے سخت سزا دوں گا‘‘۔ (رواہ مسلم)۔ (جس طرح کوئی آدمی اِزار اور چادر پہنتا ہے تو اس میں کسی دوسرے آدمی کو شریک نہیں کرتا، اسی طرح عزت اور کبریاء اللہ تعالیٰ کی اِزار اور چادر ہیں، لائق نہیں کہ وہ ان میں کسی کو شریک کرے۔ اللہ تعالیٰ نے تشبیہ کے ساتھ مثال بیان کی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی مثال سب سے اعلیٰ ہے۔ کسی معزز اور ذی شان آدمی کی اِزار (تہہ بند) اور اوڑھی ہوئی چادر کوئی شخص چھیننے اور کھینچنے ی کوشش کرے تو اس کا غصہ اور غضب قابو سے باہر ہو جاتا ہے۔ اور چھیننے والا غالباً قتل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اللہ تعالیٰ کی عزت پر ہاتھ ڈالے وہ سخت عذاب سے کیسے بچ سکتا ہے؟ (مترجم)۔ 4۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا کہ ہر آدمی چاہتا ہے اس کے کپڑے اور جوتے خوبصورت ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ کبر تو حق کو قبول کرنے سے انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے‘‘ (رواہ مسلم)۔ ایک روایت میں ہے: جس شخص کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان ہو گا وہ آگ میں داخل نہ ہو گا۔ اور جس شخص کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ حدیث کا مفہوم 1۔امام نووی علیہ الرحمہ نے صحیح مسلم کی شرح میں اس ہدیث کا مفہوم بیان کیا ہے: یعنی شروع میں وہ شخص جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہے جنت میں داخل نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ اسے تکبر کی سزا دے یا اس سے درگزر کرے۔ 2۔جس شخص کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان ہو گا۔ وہ آگ میں داخل نہ ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے ہک وہ ہمیشہ آگ میں نہیں رہے گا۔ (اپنے بد اعمال کی سزا بھگت کر بالآخر وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ (مترجم)۔ 3۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’تکبر کرنے والوں کو قیامت کے دن چیونٹیوں کی طرح آدمیوں کی شکل میں جمع کیا جائے گا۔ ہر طرف سے ان پر ذلت چھا رہی ہو گی۔ انہیں جہنم کی بولس نامی جیل کی طرف ہانکا جائے گا۔ ان پر بہت بڑی آگے بلند ہو رہی ہو گی۔ انہیں جہنمیوں کے زخموں سے بہتی ہوئی پیپ پلائی جائے گی‘‘ (رواہ الترمذی)۔ 4۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کا تکبر اور باپ دادوں کے نام سے فخر کو ختم کر دیا ہے۔ اب یا تو آدمی مومن متقی ہو گا۔ یا بدکردار اور بدنصیب ہو گا۔ سب انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے‘‘ (رواہ الترمذی۔ حدیث حسن)۔ 5۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’ایک آدمی ایک خوبصورت خوش کن لباس میں جا رہا تھا۔ اس نے اپنے سر میں کنگھی کی ہوئی تھی۔ اس کی چال متکبرانہ تھی۔ اسے اللہ تعالیٰ نے زمین میں دھنسا دیا۔ وہ قیامت کے دن تک زمیں میں ڈوبتا جائے گا‘‘۔ (متفق علیہ)۔