شمائل نبویہ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات
1۔سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم معجزات کو برکت شمار کرتے تھے اور تم انہیں خوفزدہ کرنے کا سبب سمجھتے ہو۔ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ پانی کم ہو گیا۔
الرسول:میرے پاس بچا ہوا پانی لاؤ۔
(صحابہ رضی اللہ عنہم ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برتن میں اپنا ہاتھ ڈالتے ہیں)
الرسول: مبارک پاکیزہ کرنے والے پانی اور اللہ تعالیٰ کی برکت کی طرف آؤ!
ابن مسعود:میں نے دیکھا کہ پانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ اور کھانا کھاتے ہوے ہم کھانے کی تسبیح بھی سنا کرتے تھے۔ (رواہ البخاری)۔
2۔سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ایک سفر میں گئے تو انہیں سخت پیاس لگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے دو آدمیوں کو بھیجا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ وہ سیدنا علی اور زبیر رضی اللہ عنہما یا ان کے علاوہ کوئی دو آدمی تھے۔
الرسول:فلاں مقام پر تم دونوں ایک عورت کو پاؤ گے۔ اس کے پاس ایک اونٹ ہو گا۔ اس اونٹ پر دو پکھالیں (چمڑے کی بڑی مشکیں) ہوں گی۔ اسے میرے پاس لے آو۔ دونوں صحابی رضی اللہ عنہما اس عورت کو پا لیتے ہیں۔ وہ اونٹ پر دو پکھالوں کے درمیان بیٹھی تھی۔
٭صحابی رضی اللہ عنہما عورت سے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مان)۔
٭عورت پوچھتی ہے: کون اللہ کا رسول؟ کیا یہ دین ترک کرنے والا؟ اپنے آباء و اجداد کا دین چھوڑنے والا؟
٭دونوں صحابی رضی اللہ عنہما: وہی ہے جو تو مراد لیتی ہے۔ وہ اللہ کا سچا رسول ہے۔
٭عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آجاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے ہیں کہ پکھالوں کا منہ کھول کر اس برتن میں رکھا جائے۔ پھر پانی پر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں۔ پھر پانی کو مشکوں میں واپس کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر مشکوں کو کھولنے کا حکم دیا۔ پھر لوگوں کو حکم دیا تو انہوں نے اپنے اپنے برتن بھر لئے۔ اپنی مشکیں بھی بھر لیں۔ انہوں نے ہر برتن کو پانی سے پر کر لیا۔ عمران بیان کرتے ہیں: مجھے یہ خیال پیدا ہوا کہ انپکھالوں کے پانی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر حکم دیتے ہیں کہ اس عورت کا کپڑا بچھاؤ۔ پھر اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ اپنے زادِ راہ میں سے کچھ لاؤ۔ اس عورت کا کپڑا کھجوروں اور روٹی وغیرہ کے ٹکڑوں سے بھر گیا۔
الرسول:عورت سے: تو چلی جا ہم نے تیرے پانی سے کچھ نہیں لیا بلکہ اللہ تعالیٰ ہی نے ہمیں پانی پلایا ہے۔
عورت:زادہِ راہ اور اپنی پکھالیں لے کر اپنے اہل خانہ کے پاس آجاتی ہے۔
٭عورت اپنے اہل خانہ سے: میں بہت بڑے جادوگر کے پاس سے تمہارے پاس آئی ہوں۔ (اگر وہ جادوگر نہیں ہے) تو وہ اللہ کا سچا رسول ہے۔ پھر اس قبیلے کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر سب اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ (متفق علیہ)۔
اس معجزے سے حاصل ہونے والا فوائد (نتیجے)
1۔جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کی باتوں کی اطلاع کر دیتا ہے۔ اسی بناء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہما کو اس عورت کے مقام کی خبر دی جو پانی اٹھائے جا رہی تھی۔
2۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کو توجہ دلاتے ہیں کہ جو مبارک پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹتا ہے اس کی برکت اللہ وحدہ لاشریک ہی کی طرف سے ہے جس نے یہ معجزہ پیدا کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حرص تھی کہ ہر پہلو سے امت کو اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف متوجہ کریں۔ اور ان کا اللہ کے ساتھ تعلق پیدا کریں۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کی برکت کی طرف آؤ‘‘۔
3۔مسلمان ہونے والے کو مشرکین صابی کہتے تھے۔ یعنی اپنے باپ دادوں کے دین کو ترک کرنے والا۔ وہ آباء و اجداد اللہ کے سوا دوسرے اولیاء کو اپنی حاجت برآری کے لئے پکارتے تھے۔ ہمارے زمانے میں بھی جو شخص اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دے اور تنہا اللہ کو پکارنے کی طرف بلائے، غیر اللہ، انبیاء و اولیاء کو پکارنے سے روکے، اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق انہیں نصیحت کرے، اسے لوگ ’’وہابی‘‘ کہتے ہیں تاکہ لوگوں کو اس کی دعوت سے روکیں جس طرح مشرکین کی نظر میں صابی تھا اسی طرح موجودہ دور کے جاہل لوگوں کی نظر میں وہابی ہے۔ اللہ کی مرضی تھی کہ لفظ وہابی کی نسبت الوہاب سے ہو۔ اور وہاب اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہے جس نے اسے عقیدۂ توحید عطا ہے۔
4۔احسان کا بدلہ دینا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس عورت کو احسان کا بدلہ دیا جائے جس نے انہیں تھوڑا سا پانی دیا تھا۔ پھر اس کا پانی واپس دیتے ہوئے اس کا کپڑا زادِ راہ سے بھر دیا۔ اور اس پانی میں کچھ بھی کمی نہ کی۔ اس سے فرمایا: ’’بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پانی پلایا ہے‘‘۔
5۔اس عورت نے اس معجزے اور پاکیزہ معاملے سے جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پایا تھا، بہت اچھا اثر لیا۔ وہ اپنی قوم کے پاس جا کر کہتی ہے: ’’یقیناًوہ اللہ کا سچا رسول ہے‘‘۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے اہل خانہ اور ان کے ساتھ لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔
6۔توحید پر اس حرص اور ان اخلاق حسنہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کی اور اسلام پوری انسانی آبادی میں پھیل گیا۔ جس دن مسلمانوں نے توحید اور اخلاقِ فاضلہ کو ترک کر دیا، اسی دن سے ان پر ذلت و رسوائی چھا گئی ہے۔ اب توحید اور اخلاق حسنہ کی رجوع ہی سے انہیں عزت حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰه مَنْ یَّنْصُرُہٗ اِنَّ اللّٰه لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ﴾(سورۃ الحج:40) ’’اللہ تعالیٰ اس کی ضرور مدد کرے گا جو اس (اللہ) کی مدد کرے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ طاقتور غالب ہے‘‘۔
7۔عورت کا رسالت کو جادو پر ترجیح دینا اس لئے کہ جادوگر لوگوں ک امال ہڑپ کرتے ہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زادِ راہ عطا کیا۔