شمائل نبویہ ﷺ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نرم برتاؤ

1۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ﴾ (التوبۃ:128) ’’تمہیں میں سے تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے تمہاری تکلیف اس پر گراں گذرتی ہے، تمہاری آسودگی اور نجات کی حرص رکھتا ہے۔ ایمان داروں کے ساتھ شفیق اور بہت مہربان ہے‘‘۔ پہلی حدیث: سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ایک دیہاتی بدو آیا: وہ کھڑا ہو کر مسجد میں پیشاب کرنے لگا اصحاب رسول:چِلَّانے لگے: رُک رُک، پیشاب نہ کر۔ الرسول:اسے منقطع نہ کرو۔ چھوڑو اسے۔ اس کا پیشاب نہ روکو! صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ پورا پیشاب کر لیتا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بلاتے ہیں: الرسول: دیہاتی سے کہتے ہیں: ’’مسجدیں پیشاب وغیرہ کے لئے مناسب نہیں ہیں۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر، نماز اور قرآن پڑھنے کے لئے ہیں‘‘۔ الرسول:اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرماتے ہیں: ’’تمہیں آسانی پیدا کرنے والے بنا کر بھیجا گیا ہے، تنگی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ (اس کے پیشاب پر) پانی کا ایک ڈول بہا دو‘‘۔ دیہاتی:’’اے میرے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما۔ اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما‘‘۔ الرسول:تو نے کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ہے‘‘۔ (متفق علیہ)۔ دوسری حدیث: سیدنا معاویہ ابن الحکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔ نمازیوں میں سے ایک نمازی نے چھینک ماری۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے چھینکنے والے کے لئے دعا کی: یَرْحَمْکَ اﷲ۔ اللہ تجھ پر رحم کرے۔سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ مجھے برا جانتے ہوئے دیکھنے لگے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں: ہائے میری ماں مجھے گم پائے! تمہیں کیا ہوا کہ میری طرف دیکھ رہے ہو۔ نمازی اپنی رانوں پر ہاتھ مارتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ خاموش ہو جائے۔ وہ خاموش ہو جاتا ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ نمازی اسے خاموش کروا رہے ہیں۔ پھر نماز ختم ہو جاتی ہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتا ہے: میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اور آپ کے بعد اچھا معلم کوئی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! آپ نے نہ مجھ پر سختی کی نہ مارا اور نہ بُرا بھلا کہا۔ الرسول:’’نماز میں مناسب نہیں ہے۔ لوگوں کی سی کوئی بات کی جائے، یہ تو تسبیح، تکبیر اور قرآن پڑھنے کے لئے ہوتی ہے‘‘۔ معاویہ:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں دورِ جاہلیت سے ابھی ابھی نکلا ہوں، اللہ تعالیٰ اسلام کو لایا ہے۔ ہمارے کچھ آدمی کاہنوں کے پاس جاتے ہیں جو علمِ غیب جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ الرسول:’’تو ان کے پاس نہ جا‘‘۔ معاویہ:ہمارے کچھ آدمی بدشگونی لیتے ہیں۔ الرسول:’’یہ ایک خیال ہے جسے وہ اپنے سینوں میں پاتے ہیں۔ یہ چیز انہیں اپنے رُخ اور کام سے ہرگز نہ روکے‘‘ (اس لئے کہ بدشگونی نفع یا نقصان کا کوئی اثر نہیں رکھتی) تیسری حدیث: اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ الیہود:اَلسَّامُ عَلَیْکَ۔ یعنی تجھے موت آئے۔ الرسول:وَعَلَیْکُمْ۔ اور وہی تم پر آئے۔ عائشہ:اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ وَلَعْنَکُمُ اللّٰه وَ غضب علیکم۔ موت تمہی کو آئے، اللہ تم پر لعنت کرے اور تم پر غضبناک ہو۔ الرسول:’’جانے دے عائشہ! نرمی اختیار کر، سختی اور بدزبانی سے بچ‘‘۔ عائشہ:آپ نے نہیں سنا جو انہوں نے کہا تھا؟ الرسول:’’کیا تو نے نہیں سنا جو میں نے کہا تھا۔ میں نے ان کا کلمہ انہی پر لوٹا دیا۔ تو میری بات قبول کر لی گئی اور میرے بارے میں ان کی بددعا قبول نہیں کی گئی‘‘۔ مسلم کی ایک روایت میں ہے: ’’بدزبانی نہ کر۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فحش اور بدزبانی کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ نرم برتاؤ کے بارے میں احادیث 1۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’اللہ تعالیٰ نرم ہے اور نرمی ہی کو پسند کرتا ہے جو انعامات وہ نرمی پر عطا کرتا ہے وہ سختی پر عطا نہیں کرتا۔ نرمی کے بغیر اللہ تعالیٰ نعمتیں عطا نہیں کرتا‘‘۔ (رواہ مسلم)۔ 2۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا ہے: ’’نرمی اختیار کر، سختی اور بدزبانی سے پرہیز کر، جس چیز میں نرمی ہوتی ہے وہ اسے زینت بخشتی ہے۔ اور جس چیز سے نرمی ختم ہو جائے تو وہ عیب دار ہو جاتی ہے‘‘۔ (رواہ مسلم)۔ 3۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عائشہ! نرمی اختیار کر اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی اہل خانہ سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو ان میں نرمی پیدا کر دیتا ہے‘‘۔ (رواہ احمد) 4۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص نرمی سے محروم ہوا وہ ہر بھلائی سے محروم ہوا‘‘۔(رواہ مسلم)۔ 5۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جس شخص کو نرمی کا حصہ ملا، اسے بھلائی عطا کر دی گئی۔ اور جو شخص نرمی سے محروم ہو گیا وہ بھلائی سے محروم ہو گیا‘‘۔ (رواہ احمد و الترمذی)۔ 6۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کسی معاملے میں کسی صحابی رضی اللہ عنہ کو بھیجتے تھے تو فرماتے تھے: ’’خوشخبری دینا، نفرت نہ دلانا، آسانی پیدا کرنا اور تنگی پیدا نہ کرنا‘‘۔ (متفق علیہ)۔ 7۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نماز شروع کرتا ہوں تو چاہتا ہوں کہ اسے لمبا کروں مگر میں بچے کا رونا سنتا ہوں تو نماز مختصر کر دیتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ بچے کے رونے سے اس کی ماں کو سخت غم ہوتا ہے‘‘۔ (متفق علیہ)۔