شمائل نبویہ ﷺ

مسلمان آدمی کا لباس

1۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَثِیَابَکَ فَطَھِّر﴾ (سورۃ المدثر:4)۔ ’’انہیں پانی سے دھو اور اپنے نفس کو گناہوں اور نافرمانیوں سے پاک کر‘‘۔ 2۔سیدہ اُمّ سلمہ بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک قمیص سب کپڑوں سے زیادہ محبوب تھی۔ (قمیص نصف پنڈلیوں تک پہنچنے والا لمبا کرتہ ہے)۔ 3۔سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تکبر اور غور سے اپنے کپڑے کو زمین پر گھسیٹے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر کرم نہیں کرے گا۔ (رواہ البخاری)۔ 5۔سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پگڑی باندھتے تھے تو اس کا پلو کندھوں کے درمیان لٹکا دیتے تھے۔ (رواہ الترمذی)۔ 6۔جناب سالم کے باپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تہہ بند، قمیص اور پگڑی میں جس چیز کو کسی نے تکبر سے لٹکایا اور زمین پر گھسیٹا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسکی طرف نظر کرم نہیں کرے گا‘‘۔ (رواہ ابوداؤد والنسائی)۔ 7۔سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’مومن کا تہبند اس کی نصف پنڈلیوں تک ہے۔ اگر پنڈلیوں اور ٹخنوں کے درمیان ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ جو اس سے (یعنی ٹخنوں سے) نیچے ہو گا وہ آگ میں ہو گا۔ یہ الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فرمائے۔ اور جس نے اپنا تہہ بند تکبر سے گھسیٹا اس کی طرف قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا۔ 8۔سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا میرا تہبند ڈھیلا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ! اپنا تہبند اونچا کر میں نے اسے اونچا کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اور اوچجا کر‘‘۔ میں نے اسے اور اونچا کر لیا۔ پھر میں اسے مسلسل اونچا کرتا رہا۔ کسی آدمی نے مجھ سے کہا: کہاں تک تو اسے اونچا کرے گا؟ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نصف پنڈلیوں تک۔ (رواہ مسلم)۔ 9۔سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سفید کپڑے پہنا کرو اس لئے کہ زیادہ پاکیزہ اور اچھے ہوتے ہیں۔ اپنے مردوں کو سفید کپڑوں میں کفنایا کرو‘‘۔ (رواہ احمد وغیرہ)۔ 10۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’جس شخص نے دنیا میں شہرت کے لئے کوئی کپڑا پہنا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے ذلت کا لباس پہنائے گا‘‘۔ (رواہ احمد)۔ 11۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’کھاؤ، پیو اور صدقہ کرو۔ اسراف (فضول خرچی) اور تکبر کے بغیر لباس پہنو‘‘۔ (رواہ احمد)۔ (یعنی کھانے پینے اور لباس پہننے میں اسراف اور تکبر سے بچو)۔ خلاصہ 1۔امام نووی رحمہ اللہ نے لباس کی احادیث ذکر کر کے ان کا درج ذیل خلاصہ بیان کیا ہے: ’’استبال (لٹکانا) تہبند، قمیص، پگڑی اور کپڑے میں ہوتا ہے۔ اگر گکبر کی وجہ سے اسبال ہو۔ تو تخنوں کے نیچے اسبال جائز نہیں ہے۔ اگر تکبر کے بغیر ہو تو مکروہ ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ازار (تہبند) نصف پنڈلیوں تک ہو۔ اور ٹخنوں تک بلا کراہت جائز ہے۔ اور جوٹخنوں سے نیچے ہو تو وہ ناجائز ہے۔ 2۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں ذکر کیا ہے: ان کی رائے ہے کہ لباس کا ٹخنوں کے نیچے ہونا ناجائز ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے مردوں کے حق میں ٹخنوں کے نیچے اسبال کے منع ہونے پر اجماع نقل کیا ہے۔ عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں ان کے لئے ٹخنے چھپانا لازم ہے۔ پھر ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: حاصل نتیجہ یہ ہے کہ مردوں کی دو حالتیں ہیں۔ ایک حالت مستحب ہے اور وہ ہے کہ تہبند کو نصف پنڈلیوں تک رکھا جائے۔ دوسری حالت جو زر کی ہے اور وہ یہ ہے کہ تہبند کو آدمی ٹخنوں تک لٹکا لے۔ پورے کلام کا مفہوم یہ ہے کہ کپڑے، پاجامے اور پینٹ کو تخنوں سے نیچے تک لٹکانا ناجائز ہے۔ 3۔سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر دو زرد رنگ زعفرانی کپڑے دیکھ کر فرمایا: ’’یہ کفار کے کپڑے ہیں لہٰذا انہیں مت پہنا کرو‘‘۔ (رواہ مسلم)۔ حدیث سے حاصل ہونے والا فائدہ 1۔مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ کفار کے سے کپڑے پہنے۔ اور ان کی طرح کی پوشاک پہن کر زینت حاصل کرے۔ اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’جس شخص نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی وہ انہی میں شمار ہو گا‘‘۔ اکثر اسلامی ممالک میں کفار کے ساتھ مشابہت عام ہو چکی ہے۔ جیسے تنگ پتلون کا پہننا ہے۔ کوبوی اور شارلستون وغیرہ کا نام دیتے ہیں۔ میں نے ایک عالم کو سنا جو تنگ پتلون پہننے کے بارے میں ایک جوان کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔ اس عالم نے اسے جواب دیا کہ تنگ پتلون پہننا حرامہے۔ اس لئے کہ وہ ستر کو ظاہر کر دیتی ہے۔ اور اس میں کفار کے ساتھ مشابہت بھی ہے۔ 2۔رہا سر کا لباس تو وہ تمام امتوں کا شعار ہے۔ بعض مسلمان اس میں بھی کفار سے مشابہت کرتے ہیں۔ اور وہ پینٹ پہنتے ہیں اور انہوں نے فوجیوں پر لازم کر دیا ہے۔ اور انہیں ایسی ٹوپی پہنا دی ہے جسے کفار پہنتے ہیں۔ اسے بعض دولت مند اور بعض حکومتی اہلکار دھوپ سے بچنے کے لئے پہنتے ہیں۔ اگر وہ سر کو لمبی رومی ٹوپی، پگڑی یا رومال سے ڈھانپ لیں تو ان کے سروں کے لئے زیادہ صحیح ہے۔ اس طرح کفار سے تشبہ بھی نہ ہو گا۔ یہ مشابہت اتنی عام ہو گئی ہے یہاں تک کہ لوگوں کو شعور ہی نہیں ہے کہ اس میں شریعت کی سخت مخالفت ہے۔ فانا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ہم کس طرح کفار سے جنگ کر سکتے ہیں جبکہ ہم ان کے لباس اور عادات میں ان سے مشابہت کرتے ہیں۔ ہم پر لازم تھا کہ نفع بخش میں ان کی تقلید کرتے جیسے ہوائی جہاز، ٹینک اور توپوں کی صنعت میں ان سے فنون حاصل کرتے جو ہمارے دین اور ہماری سرزمین کی حفاظت میں ہماری مدد کرتے۔