شمائل نبویہ ﷺ

سونے اور انگوٹھی کا پہننا

1۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے الفاظ نقش تھے‘‘۔ (متفق علیہ)۔ 2۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی سے منع کیا ہے (متفق علیہ) ۔(یہ ممانعت مردوں کے لئے ہے)۔ 3۔سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا: کیا تمہارا کوئی شخص چاہتا ہے کہ آگ کا انگارا اٹھا کر اپنے ہاتھ میں رکھ لے‘‘۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو انگوٹھی والے آدمی سے کہا گیا: اپنی انگوٹھی اٹھا کر (اس کو بیچ کر) فائدہ حاصل کر لے۔ اس نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا ہے تو میں اسے کبھی نہیں اٹھاؤں گا۔ (متفق علیہ)۔ 4۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع کیا کہ میں اپنی انگوٹھی اس انگلی میں یا اس سے ملنے والی انگلی میں پہنوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی انگلی اور اس سے ملنے والی (سبابہ) کی طرف اشارہ کیا۔ (رواہ مسلم)۔ نسائی کی ایک روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سبابہ اور درمیانی اگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا‘‘۔ (سبابہ انگوٹھے کے ساتھ والی اور وسطی سبابہ کے ساتھ والی انگلی کا نام ہے)۔ 5۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ریشم اور سونا نہ پہنے‘‘ ۔ (اخرجہ الحاکم)۔ 6۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: سونے اور ریشم کے بارے میں یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔ اور امت کی عورتوں کے لئے حلال ہیں‘‘۔ (رواہ ابوداؤد و النسائی)۔ (اس سے مراد اصلی ریشم ہے جو ریشم کے کیڑے سے پیدا ہوتا ہے۔ مصنوعی ریشم نہیں جو آجکل موجود ہے)۔ 7۔سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی صحابی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا۔ پھر اس نے لوہے کی انگوٹھی بنوائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ بری ہے ، یہ جہنمیوں کا زیور ہے۔ پھر اس نے چاندی کی انگوٹھی خریدی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے‘‘ (رواہ احمد) ۔ 8۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’میری امت سے جس شخص نے سونا پہنا اور اسی حالت میں وہ مرگیا، اس پر جنت کا سونا حرام ہو گیا‘ (رواہ احمد) ۔ (مراد یہ ہے کہ وہ جنت میں داخل نہ ہو گا)۔ ان احادیث سے حاصل ہونے والا فائدہ 1۔سونا مردوں پر حرام، عورتوں کے لئے حلال ہے۔ اور مسلم وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر سرِ تسلیم خم کر دے۔ (ان پر خلوصِ نیت سے عمل کرے) 2۔جب کوئی آدمی شادی کیلئے سونے کی انگوٹھی پہنے جسے منگنی کی انگوٹھی کہتے ہیں تو وہ بھی حرام اور کبیرہ گنا ہے۔ اس لئے کہ اس نے اپنے دین کے احکام کی خلاف ورزی کی۔ ارو اس نے کفار و نصاریٰ کی تقلید کی جنہوں نے منگنی کی انگوٹھی کی بدعت ایجاد کی ہے۔ اور جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں شمار ہوتا ہے۔ اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے عورتوں کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ مشابہت کرنے والے مردوں پر لعنت کی ہے‘‘ (رواہ البخاری)۔ 3۔مردوں کے لئے چاندی کی انگوٹھی جائز ہے۔ البتہ اسے بھی منگنی کی انگوٹھی کے طور پر نہ پہنا جائے تاکہ کفار کے ساتھ مشابہت سے بچا جائے۔