شمائل نبویہ ﷺ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا فریضہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ حقوق اور واجبات ہیں جب کوئی مسلمان انہیں ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نفع دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی اسے سعادت بخشتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوضِ کوثر پر آنے کی اسے عزت دیتا ہے۔ اسے کوثر کا مشروب پلاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق: 1۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اپنی جان، مال، اہل عیال اور اولاد سے زیادہ ہو۔ 2۔ہر معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہو۔ جیسے اللہ واحد کو پکارنا، اسی سے مدد طلب کرنا، سچائی، دیانت دار، حسنِ اخلاق، اس کے علاوہ جو احکام بھی قرآنِ کریم اور صحیح احادیث میں مذکور ہیں، ان سب امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت کرنا لازم ہے۔ 3۔شرک سے بچاؤ جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا ہے اور وہ ہے غیر اللہ کی عبادت کرنا۔ جسے انبیاء و اولیآء کو مدد طلب کرنے کے لئے پکارنا، اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جو اس حال میں مر گیا کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور شریک کو پکارتا ہو وہ آگ میں داخل ہو گا‘‘۔ (رواہ البخاری)۔ 4۔جس چیز کی قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے اس پر ایمان لائیں۔ جیسے اس کی صفت میں اللہ تعالیٰ کا عرش پر بلند ہونا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد اس کو ثابت کرتا ہے: ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی﴾ (سورۃ الاعلی:1) ’’اپنے بلند و برتر رب کے نام کی پاکی بیان کرو‘‘۔ ٭آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’بیشک اللہ تعالیٰ نے ایک تحریر لکھی ہے جو اس کے پاس عرش کے اوپر ے‘‘۔ (متفق علیہ)۔ ٭اور بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ ہے۔ انہیں سنتا ہے، انہیں دیکھتا ہے، ان کے حالات جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿قَالَ لَا تَخَافَآ اِنَّنِیْ مَعَکُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰی﴾ (سورۃ طٰہٰ:46)۔ ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم دونوں نہ ڈرو، میں یقیناًتمہارے ساتھ ہوں، سنتا اور دیکھتا ہوں‘‘۔ ٭مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اور بعثت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے ساتھ وابستہ رہیں۔ اس شکر گزاری کے سلسلے میں سوموار کے دن کا روزہ ہے جس کے روزے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس کی اہمیت) دریافت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ وہ دن ہے جس دن میری پیدائش ہوئی۔ اسی میں مجھے رسالت دی گئی اور اسی میں مجھ پر قرآن نازل کیا گیا ہے‘‘۔ (رواہ مسلم)۔ 6۔رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے جشن منانا جسے بعد والے لوگوں نے ایجاد کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین نے بالکل نہیں منایا۔ اگر جشن میلاد منانے میں کوئی بھلائی اور نیکی ہوتی تو وہ ہم سے پہلے یہ کام کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس کی ہدایت فرماتے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدائش کے دن روزہ رکھنے کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بھی اسی دن ہوئی ہے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر غم کی بجائے خوشی اور جشن منانا کسی طرح ہو سکتا ہے؟ (لوگ اپنے باپ کی موت پر تو جشن نہیں مناتے مگر اپنے روحانی باپ رحمۃ للعٰلمین کی وفات پر جشن مناتے ہیں، یہ حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ (مترجم)۔ 7۔وہ مال جو جشنوں میں خرچ کیا جاتا ہے اگر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت و اخلاق، سیرت، ادب، تواضع، معجزات، احادیث اور توحید کی دعوت جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رسالت کا آغاز کیا تھا اس کے علاوہ دوسرے نفع بخش امور کی نشر و اشاعت کے لئے خرچ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی ضرور مدد فرمائے جس طرح اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی تھی۔ 8۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سچے محبت کرنے والے کو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی پیروی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل قرآن کے حکم سے وابستگی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بکثرت درود بھیجنے کی فکر ہوتی ہے۔