الرحیق المختوم
عرب حکومتیں اور سرداریاں
اسلام سے پہلے عرب کے جو حالات تھے ان پر گفتگو کرتے ہوئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کی حکومتوں ، سرداریوں اور مذاہب واَدیان کا بھی ایک مختصر سا خاکہ پیش کر دیا جائے تاکہ ظہورِ اسلام کے وقت جو پوزیشن تھی وہ بآسانی سمجھ میں آسکے۔
جس وقت جزیرۃ العرب پر خورشیدِ اسلام کی تابناک شعاعیں ضوء فگن ہوئیں وہاں دوقسم کے حکمران تھے۔ ایک تاج پوش بادشاہ جو درحقیقت مکمل طورپر آزاد وخود مختار نہ تھے، دوسرے قبائلی سردار جنھیں اختیارات وامتیازات کے اعتبار سے وہی حیثیت حاصل تھی جو تاجپوش بادشاہوں کی تھی لیکن ان کی اکثریت کو ایک مزید امتیاز یہ بھی حاصل تھا کہ وہ پورے طور پر آزاد وخود مختار تھے۔ تاجپوش حکمران یہ تھے : شاہانِ یمن ، شاہانِ آلِ غسان (شام ) اور شاہان ِ حِیرہ (عراق) بقیہ عرب حکمراں تاجپوش نہ تھے۔
یمن کی بادشاہی:
عرب عاربہ میں سے جو قدیم یمانی قوم معلوم ہوسکی وہ قوم سبا ہے اور (عراق ) سے جو کتبات برآمد ہوئے ہیں ان میں ڈھائی ہزار سال قبل مسیح اس قوم کا ذکر ملتا ہے، لیکن اس کے عروج کا زمانہ گیارہ صدی قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ اس کی تاریخ کے اہم ادوار یہ ہیں :
1۔ ۶۵۰ ق م سے پہلے کا دور .....اس دور میں شاہانِ سبا کا لقب مکرب سَبَا تھا۔ ان کا پایۂ تخت صرواح تھا۔ جس کے کھنڈر آج بھی مارب کے شمال مغرب میں پچاس کیلومیٹر کے فاصلے پر پائے جاتے ہیں اور خربیہ کے نام سے مشہور ہیں۔ اسی دور میں مآرب کے مشہور بند کی بنیاد رکھی گئی ، جسے یمن کی تاریخ میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دور میں سلطنت سبا کو اس قدر عروج حاصل ہوا کہ انھوں نے عرب کے اندر اور عرب سے باہر جگہ جگہ اپنی نو آبادیاں قائم کر لی تھیں۔
2۔ ۶۵۰ ق م سے ۱۵ ۱ ق م تک کا دور .... اس میں سبا کے بادشاہوں نے مکرب کا لفظ چھوڑ کر ملک (بادشاہ) کا لقب اختیار کرلیا اور صرواح کے بجائے مآرب کو اپنا دار السلطنت بنایا۔ اس شہر کے کھنڈر آج بھی صنعاء سے ۱۹۲ کیلومیٹر مشرق میں پائے جاتے ہیں۔
3۔ ۱۱۵ق م سے ۳۰۰ ء تک کا دور:…اس دور میں سبا کی مملکت پر قبیلہ حِمیر کو غلبہ حاصل رہا اور اس نے مآرب کے بجائے رَیدان کو اپنا پایۂ تخت بنایا۔ پھر ریدان کا نام ظفار پڑ گیا۔ جس کے کھنڈرات آج بھی شہر ’’یریم‘‘ کے قریب ایک مُدَوّر پہاڑی پر پائے جاتے ہیں۔
یہی دور ہے جس میں قوم سبا کا زوال شروع ہوا۔ پہلے نبطیوں نے شمالی حجاز پر اپنا اقتدار قائم کر کے سبا کو ان کی نو آبادیوں سے نکال باہر کیا۔ پھر رومیوں نے مصر وشام اور شمالی حجاز پر قبضہ کر کے ان کی تجارت کے بحری راستے کو مخدوش کر دیا اور اس طرح ان کی تجارت رفتہ رفتہ تباہ ہو گئی۔ ادھر قحطانی قبائل خود بھی باہم دست وگریباں تھے۔ ان حالات کا نتیجہ یہ ہوا کہ قحطانی قبائل اپنا وطن چھوڑ چھوڑ کر اِدھر اُدھر پراگندہ ہو گئے۔
4۔ ۳۰۰ء کے بعدسے آغاز اسلام تک کا دور: …اس دور میں یمن کے اندر مسلسل اضطراب وانتشار برپا رہا۔ انقلابات آئے ، خانہ جنگیاں ہوئیں اور بیرونی قوموں کو مداخلت کے مواقع ہاتھ آئے حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ یمن کی آزادی سلب ہوگئی۔ چنانچہ یہی دور ہے جس میں رومیوں نے عدن پر فوجی تسلط قائم کیا اور ان کی مدد سے حبشیوں نے حمیر وہمدان کی باہمی کشاکش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ۳۴۰ ء میں پہلی بار یمن پر قبضہ کیا۔ جو ۳۷۸ ء تک برقرار رہا۔ اس کے بعد یمن کی آزادی تو بحال ہو گئی مگر ’’مآرب‘‘ کے مشہور بند میں رخنے پڑنا شروع ہوگئے۔ یہاں تک کہ بالآخر ۴۵۰ ء یا ۴۵۱ ء میں بند ٹوٹ گیا اور وہ عظیم سیلاب آیا جس کا ذکر قرآن مجید (سورۂ سبا ) میں سَیلِ عَرِم کے نام سے کیا گیا ہے۔ یہ بڑا زبردست حادثہ تھا۔ اس کے نتیجے میں بستیاں کی بستیاں ویران ہو گئیں اور بہت سے قبائل اِدھر اُدھر بکھر گئے۔
پھر ۵۲۳ء میں ایک اور سنگین حادثہ پیش آیا۔ یعنی یمن کے یہودی بادشاہ ذونواس نے نجران کے عیسائیوں پر ایک ہیبت ناک حملہ کر کے انہیں عیسائی مذہب چھوڑنے پر مجبور کرنا چاہا اور جب وہ اس پر آمادہ نہ ہوئے تو ذونواس نے خندقیں کھدوا کر انہیں بھڑکتی ہوئی آگ کے الاؤ میں جھونک دیا۔ قرآن مجید نے سورۂ بروج کی آیات﴿ قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِ﴾____الخ میں اسی لرزہ خیز واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس واقعے کا نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائیت ، جو رومی بادشاہوں کی قیادت میں بلادِ عرب کی فتوحات اور توسیع پسندی کے لیے پہلے ہی سے چست وچابکدست تھی...... انتقام لینے پر تُل گئی اور حبشیوں کو یمن پر حملے کی ترغیب دیتے ہوئے انہیں بحری بیڑہ مہیا کیا۔ حبشیوں نے رومیوں کی شہ پاکر ۵۲۵ ء میں اریاط کی زیر قیادت ستر ہزار فوج سے یمن پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ قبضہ کے بعد ابتداءً تو شاہ حبش کے گورنر کی حیثیت سے اریاط نے یمن پر حکمرانی کی لیکن پھر اس کی فوج کے ایک ماتحت کمانڈر ۔ اَبرہَہَ ۔ نے ۵۴۹ ء میں اسے قتل کر کے خوداقتدار پر قبضہ کر لیا اور شاہ حبش کو بھی اپنے اس تصرف پر راضی کرلیا۔
یہ وہی اَ بْرہَہَ ہے جس نے جنوری ۵۷۱ ء میں خانۂ کعبہ کو ڈھانے کی کوشش کی اور لشکر جرار کے علاوہ چند ہاتھیوں کو بھی فوج کشی کے لیے ساتھ لایا جس کی وجہ سے یہ لشکر اصحابِ فیل کے نام سے مشہور ہو گیا۔
صنعاء واپس آکر ابرہہ انتقال کر گیا۔ اس کی جگہ اس کا بیٹا یکسوم، پھر دوسرا بیٹا مسروق جانشین ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں اہل یمن پر ظلم ڈھانے اور انہیں مقہور وذلیل کرنے میں اپنے باپ سے بھی بڑھ کر تھے۔
اِدھر واقعۂ فیل میں حبشیوں کی جو تباہی ہوئی اس سے فائدے اٹھاتے ہوئے اہل یمن نے حکومتِ فارس سے مدد مانگی، اور حبشیوں کے خلاف عَلم بغاوت بلند کر کے سیف ذِی یَزَن حمیری کے بیٹے معدیکرب کی قیادت میں حبشیوں کو ملک سے نکال باہر کیا اور ایک آزاد وخود مختار قوم کی حیثیت سے معدیکرب کو اپنا بادشاہ منتخب کر لیا۔ یہ ۵۷۵ء کا واقعہ ہے۔
آزادی کے بعد معدیکرب نے کچھ حبشیوں کو اپنی خدمت اور شاہی جلو کی زینت کے لیے روک لیا لیکن یہ شوق مہنگا ثابت ہو ا۔ ان حبشیوں نے ایک روز معدیکرب کو دھوکے سے قتل کر کے ذِی یَزَن کے خاندان سے حکمرانی کا چراغ ہمیشہ کے لیے گُل کردیا۔ ادھر کسریٰ نے اس صورتِ حال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے صنعاء پر ایک فارسی النسل گورنر مقرر کر کے یمن کو فارس کا ایک صوبہ بنا لیا۔ اس کے بعد یمن پر یکے بعد دیگرے فارسی گورنروں کا تقرر ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ آخری گورنر باذان نے ۶۲۸ ء میں اسلام قبول کرلیا اور اس کے ساتھ ہی یمن فارسی اقتدار سے آزاد ہوکر اسلام کی عملداری میں آگیا۔ [1]
حِیرہ کی بادشاہی:
عراق اور اس کے نواحی علاقوں پر کوروش کبیر (خورس یا سائرس ذو القرنین ۵۵۷ ق م ۔ ۵۲۹ ق م ) کے زمانے ہی سے اہل فارس کی حکمرانی چلی آرہی تھی۔ کوئی نہ تھا جو ان کے مد مقابل آنے کی جرأت کرتا۔ یہاں تک کہ ۳۲۶ ق م میں سکندر مَقدونی نے دارا اوّل کو شکست دے کر فارسیوں کی طاقت توڑدی۔ جس کے نتیجے میں ان کا ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور طوائف الملوکی شروع ہوگئی۔ یہ انتشار ۲۳۰ء تک جاری رہا اور اسی دوران قحطانی قبائل نے ترک وطن کر کے عراق کے ایک بہت بڑے شاداب سرحدی علاقے پر بود و باش اختیار کی۔ پھر عدنانی تارکین وطن کا ریلا آیا اور انھوں نے لَڑ بِھڑ کر جزیرۂ فراتیہ کے ایک حصے کو اپنا مسکن بنا لیا۔
ادھر ۲۲۶ ء میں ارد شیر نے جب ساسانی حکومت کی داغ بیل ڈالی تو رفتہ رفتہ فارسیوں کی طاقت ایک بار پھر پلٹ آئی۔ ارد شیر نے فارسیوں کی شیرازہ بندی کی اور اپنے ملک کی سرحد پر آباد عربوں کو زیر کیا۔ اسی کے نتیجے میں قضاعہ نے ملک شام کی راہ لی ، جبکہ حِیرہ اور انبار کے عرب باشندوں نے باجگذار بننا گوارا کیا۔
اردشیر کے عہد میں حیرہ ، بادیۃ العراق اور جزیرہ کے ربیعی اور مُضری قبائل پر جذیمۃالوضاح کی حکمرانی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اَرد شیر نے محسوس کر لیا تھا کہ عرب باشندوں پر براہ راست حکومت کرنا اور انہیں سرحد پر لوٹ مار سے باز رکھنا ممکن نہیں۔ بلکہ اس کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ خود کسی ایسے عرب کو ان کا حکمران بنادیا جائے جسے اپنے کنبے قبیلے کی حمایت وتائید حاصل ہو۔ اس کا ایک فائد ہ یہ بھی ہوگا کہ بوقت ضرورت رومیوں کے خلاف ان سے مدد لی جاس کے گی اور شام کے روم نواز عرب حکمرانوں کے مقابل عراق کے ان عرب حکمرانوں کو کھڑا کیا جاس کے گا۔
شاہانِ حیرہ کے پاس فارسی فوج کی ایک یونٹ ہمیشہ رہا کرتی تھی ، جس سے بادیہ نشین عرب باغیوں کی سرکوبی کا کام لیا جاتا تھا۔
۲۶۸ ء کے عرصے میں جذیمہ فوت ہو گیا اور عَمرو بن عَدی بن نصر لَخمی ( ۲۶۸ ء ۔ ۲۸۸ ء ) اس کا جانشین ہوا۔ یہ قبیلۂ لخم کا پہلا حکمران تھا اور شاپور اردشیر کا ہمعصر تھا۔ اس کے بعد قباذ بن فیروز ( ۴۴۸ ء …۵۳۱ ء )کے عہد تک حیرہ پر لخمیوں کی مسلسل حکمرانی رہی۔ قباذ کے عہد میں مُزدَک کا ظہور ہوا۔ جو اباحیت کا علمبردار تھا۔ قباذ اور اس کی بہت سی رعایا نے مُزدَک کی ہمنوائی کی۔ پھر قباذ نے حیرہ کے بادشاہ منذر بن ماء السماء ( ۵۱۳ ء ۔ ۵۵۴ ء ) کو پیغام بھیجا کہ تم بھی یہی مذہب اختیار کر لو۔ منذر بڑا غیرت مند تھا انکار کر بیٹھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قباذ نے اسے معزول کرکے اس کی جگہ مُزدَک کی دعوت کے ایک پیر وکار حارث بن عمرو بن حجر کِندی کو حِیرہ کی حکمرانی سونپ دی۔
قباذ کے بعد فارس کی باگ دوڑ کسریٰ نوشیرواں ( ۵۳۱ ء۔ ۵۷۸ ء ) کے ہاتھ آئی۔ اسے اس مذہب سے سخت نفرت تھی۔ اس نے مُزدَک اور اس کے ہمنواؤو ں کی ایک بڑی تعداد کو قتل کروادیا۔ منذر کو دوبارہ حیرہ کا حکمران بنادیا اور حارث بن عمرو کو اپنے ہاں بلا بھیجا لیکن وہ بنو کلب کے علاقے میں بھاگ گیا اور وہیں اپنی زندگی گزار دی۔ منذربن ماء السماء کے بعدنُعمان بن منذر ( ۵۸۳ ء…۶۰۵ ء ) کے عہد تک حیرہ کی حکمرانی اسی کی نسل میں چلتی رہی، پھر زید بن عدی عبادی نے کسریٰ سے نعمان بن منذر کی جھوٹی شکایت کی۔ کسریٰ بھڑک اٹھا اور نعمان کو اپنے پاس طلب کیا۔ نعمان چپکے سے بنو شَیبان کے سردار ہانی بن مسعود کے پاس پہنچا اور اپنے اہل وعیال اور مال ودولت کو اس کی امانت میں دے کر کسریٰ کے پاس گیا۔ کسریٰ نے اسے قید کر دیا اور وہ قید ہی میں فوت ہوگیا۔
ادھر کسریٰ نے نعمان کو قید کرنے کے بعد اس کی جگہ ایاس بن قَبِیصہ طائی کو حیرہ کا حکمران بنایا اور اسے حکم دیا کہ ہانی بن مسعود سے نعمان کی امانت طلب کرے ، ہانی غیرت مند تھا۔ اس نے صرف انکار ہی نہیں کیا بلکہ اعلان جنگ بھی کردیا۔ پھر کیا تھا۔ ایاس اپنے جَلو میں کسریٰ کے لاؤ لشکر اور مرزبانوں کی جماعت لے کر روانہ ہوا اور ذِی قار کے میدان میں فریقین کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی جس میں بنو شیبان کو فتح حاصل ہوئی اور فارسیوں نے شرمناک شکست کھائی۔ یہ پہلا موقع تھا جب عرب نے عجم پر فتح حاصل کی تھی۔ ہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے تھوڑے ہی دنوں پہلے یا بعد کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش حِیرہ پر ایاس کی حکمرانی کے آٹھویں مہینہ ہوئی تھی۔
ایاس کے بعد کِسریٰ نے حِیرہ پر ایک فارسی حاکم مقرر کیا جس کا نام آزاد بہ بن ماہ بیان بن مہرابنداد تھا۔ اس نے ۶۱۴ء سے ۶۳۱ء تک سترہ سال حکومت کی۔ اس کے بعد ۶۳۲ ء میں لخمیوں کا اقتدار پھر بحال ہو گیا اور منذر بن معرور نامی اس قبیلے کے ایک شخص نے باگ دوڑ سنبھالی۔ مگر ابھی اس کو برسرِ اقتدار آئے صرف آٹھ ماہ ہوئے تھے کہ حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ اسلام کا سیل رواں لے کر حیرہ میں داخل ہو گئے۔
شام کی بادشاہی:
جس زمانے میں عرب قبائل کی ہجرت زورں پر تھی قبیلہ قضاعہ کی چند شاخیں حدود شام میں آکر آباد ہو گئیں۔ ان کا تعلق بنی سلیم بن حلوان سے تھا اور ان ہی میں ایک شاخ بنو ضجعم بن سلیم تھی ، جسے ضَجَاعِمہ کے نام سے شہرت ہوئی۔ قُضاعہ کی ایک شاخ کو رومیوں نے صحرائے عرب کے بدوؤں کی لوٹ مار روکنے اور فارسیوں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے اپنا ہمنوا بنایا اور اسی کے ایک فرد کے سر پر حکمرانی کا تاج رکھ دیا۔ اس کے بعد مدتوں ان کی حکمرانی رہی۔ ان کا مشہور ترین بادشاہ زیاد بن ہبولہ گزرا ہے۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ ضَجَاعِمہ کا دور حکومت پوری دوسری صدی عیسوی کو محیط رہا ہے۔ اس کے بعد اس دیار میں آلِ غسان کی آمد ہوئی اور ضجاعمہ کی حکمرانی جاتی رہی۔ آلِ غسان نے بنو ضجعم کو شکست دے کر ان کے سارے قلمرو پر قبضہ کر لیا۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر رومیوں نے بھی آلِ غسان کو دیار شام کے عرب باشندوں کا بادشاہ تسلیم کرلیا۔ آلِ غسان کا پایہ تخت دُومَۃ الجندل تھا اور رومیوں کے آلۂ کار کی حیثیت سے دیار شام پر حکمرانی مسلسل قائم رہی۔ تا آنکہ خلافت فاروقی میں ۱۳ھ میں یَرموک کی جنگ پیش آئی اور آلِ غسان کا آخری حکمران جبلہ بن ایہم حلقہ بگوشِ اسلام ہو گیا۔[1] (اگرچہ اس کا غرور اسلامی مساوات کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکا اور وہ مرتد ہو گیا۔ )
حجاز کی امارت:
یہ بات تو معروف ہے کہ مکہ میں آبادی کا آغاز حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے ہوا۔ آپ علیہ السلام نے 137 سال کی عمر پائی۔[2] اور تا حیات مکہ کے سربراہ اور بیت اللہ کے متولّی رہے۔ [3]آپ کے بعد آپ کے دو صاحبزادگان_____نابت پھر قیدار، یا قیدار پھر نابت ______یکے بعد دیگرے مکہ کے والی ہوئے۔ ان کے بعد ان کے نانا مضآض بن عمرو جرہمی نے زمام کار اپنے ہاتھ میں لے لی، اور اس طرح مکہ کی سربراہی بنو جرہم کی طرف منتقل ہو گئی۔ اور ایک عرصے تک انہی کے ہاتھ میں رہی۔ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام چونکہ اپنے والد کے ساتھ مل کر بیت اللہ کے بانی اور معمار تھے اس لئے ان کی اولاد کو ایک باوقار مقام ضرور حاصل رہا، لیکن اقتدار و اختیار میں ان کا کوئی حصہ نہ تھا۔ [4]
پھر دن پہ دن اور سال پر سال گزرتے گئے لیکن حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد گوشہ گمنامی سے نہ نکل سکی، یہاں تک کہ بخت نصر کے ظہور سے کچھ پہلے بنو جرہم کی طاقت کمزور پڑ گئی اور مکہ کے افق پر عدنان کا سیاسی ستارہ جگمگانا شروع ہوا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ بخت نصر نے زات عرق میں عربوں سے جو معرکہ آرائی کی تھی اس میں عرب فوج کا کمانڈر جرہمی نہ تھا۔[5]
پھر بخت نصر نے جب سنہ 587 ق م میں دوسرا حملہ کیا تو بنو عدنان بھاگ کر یمن چلے گئے، اس وقت بنو اسرائیل کے نبی حضرت یرمیاہ تھے۔ وہ عدنان کے بیٹے معد کع اپنے ساتھ لے کر ملک شام لے گئے اور جب بخت نصر کا زور ختم ہوا اور معد مکہ آئے تو انہیں مکہ میں قبیلہ جرہم کا صرف ایک شخص جرشم بن جلہمہ ملا۔ معد نے اس کی لڑکی معانہ سے شادی کی اور اسی کے بطن سے نزار پیدا ہوا۔[6]
اس کے بعد مکہ میں جرہم کی حالت خراب ہوتی گئی، انہیں تنگدستی نے آ گھیرا، نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے زائرین بیت اللہ پر زیادتیاں شروع کر دیں اور خانہ کعبہ کا مال کھانے سے بھی دریغ نہیں کیا ۔[7] ادھر بنو عدنان اندر ہی اندر ان کی حرکتوں پر کڑھتے اور بھڑکتے رہے اسی لئے جب بنو خزاعہ نے مراالظہران میں پڑاؤ کیا اور دیکھا کہ بنو عدنان بنو جرہم کے خلاف جنگ چھیڑ دی اور انہیں مکہ سے نکال کر اقتدار پر خود قبضہ کر لیا۔ یہ واقعہ دوسری صدی عیسوی کے وسط کا ہے۔ بنو جرہم نے مکہ چھوڑتے وقت زمزم کا کنواں پاٹ دیا اور اس میں کئی تاریخی چیزیں دفن کر کے اس کے نشانات بھی مٹا دیئے۔ محمد اسحٰق کا بیان ہے کہ عمرو بن حارث بن مضاض[1] جرہمی نے خانہ کعبہ کے دونوں ہرن[2] اور اس کے کونے میں لگا ہوا پتھر ____ حجر اسود ____نکال کر زمزم کے کنویں میں دفن کر دیا اور اپنے قبیلہ بنو جرہم کو ساتھ لے کر یمن چلا گیا۔ بنو جرہم کو مکہ سے جلا وطنی اور وہاں کی حکومت سے محروم ہونے کا بڑا قلق تھا چنانچہ عمرو مذکور نے اس سلسلے میں یہ اشعار کہے۔
کان لم یکن بین الحجون الی الصفا انیس ولم بمکہ سامر
بلیٰ نحن کنا املہا فابانا صروف اللیالی والجدود المواشر [3]
ترجمہ: ‘‘لگتا ہے حجون سے صفا تک کوئی آشنا تھا ہی نہیں اور نہ کسی قصہ گو نے مکہ کی شبانہ محفلوں میں قصہ گوئی کی، کیوں نہیں ! يقيناً ہم ہی اس کے باشندے تھے لیکن زمانے کی گردشوں اور ٹوٹی ہوئی قسمتوں نے ہمیں اجاڑ پھینکا۔‘‘
حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کا زمانہ دو ہزار برس قبل مسیح ہے۔ اس حساب سے مکہ میں قبیلہ جرہم کا وجود کوئی دو ہزار ایک سو برس رہا اور ان کی حکمرانی لگ بھگ دو ہزار برس تک رہی۔ بنو خزاعہ نے مکہ پر قبضہ کرنے کے بعد بنوبکر کو شامل کئے بغیر تنہا اپنی حکمرانی قائم کی، البتہ تین اہم اور امتیازی مناصب ایسے تھے جو مضری قبائل کے حصے میں آئے۔
1۔ حاجیوں کو عرفات سے مزدلفہ لیجانا اور یوم النّفر ____ 13 ذی الحجہ کو جو کہ حج کے سلسلے کا آخری دن ہے ____ منیٰ سے روانگی کا پروانہ دینا ۔ یہ اعزاز الیاس بن مضر کے خاندان بنو غوث بن مرّہ کو حاصل تھا جو صوفہ کہلاتے تھے۔ اس اعزاز کی توضیح یہ ہے کہ 13 ذی الحج کو حاجی کنکری نہ مار سکتے تھے جب تک کہ صوفہ کا ایک آدمی کنکری نہ مار لیتا۔ پھر حاجی کنکری مار کر فارغ ہو جاتے اور منیٰ سے روانگی کا ارادہ کرتے تو صوفہ کے لوگ منیٰ کی واحد گزرگاہ عقبہ کے دونوں جانب گھیرا ڈال کر کھڑے ہو جاتے اور جب تک خود گزر نہ لیتے کسی کو گزرنے نہ دیتے۔ ان کے گزر لینے کے بعد بقیہ لوگوں کےلئے راستہ خالی ہوتا۔ جب صوفہ ختم ہو گئے تو یہ اعزاز بنو تمیم کے ایک خآندان بنو سعد بن زید مناۃ کی طرف منتقل ہو گیا۔
2۔ 10 ذی الحج کی صبح کو مزدلفہ سے منیٰ کی جانب افاضہ (روانگی) یہ اعزاز بنو عدوان کو حاصل تھا۔
3۔ حرام مہینوں کو آگے پیچھے کرنا۔ یہ اعزاز بنو کنانہ کی ایک شاخ بنو تمیم بن عدی کو حاصل تھا۔[1]
مکہ پر بنو خزاعہ کا اقتدار کوئی تین سو برس تک قائم رہا۔ [2]اور یہی زمانہ تھا جب عدنانی قبائل مکہ اور حجاز سے نکل کر نجد، اطراف عراق، اور بحرین وغیرہ میں پھیلے اور مکہ کے اطراف میں صرف قریش کی چند شاخیں باقی رہیں جو خانہ بدوش تھیں۔ ان کی الگ الگ ٹولیاں تھیں، اور بنو کنانہ میں ان کے چند متفرق گھرانے تھے مگر مکہ کی حکومت اور بیت اللہ کی توّلیت میں ان کا کوئی حصہ نہ تھا۔ یہاں تک کہ قصّٰی بن کلاب کا ظہور ہوا۔[3]
قصّیٰ کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ ابھی گود ہی میں تھا کہ اس کے والد کا انتقال ہو گیا، اس کے بعد اس کی والدہ نے بنو عذرہ کے ایک شخص ربیعہ بن حرام سے شادی کرلی۔ یہ قبیلہ کیونکہ ملک شام کے اطراف میں رہتا تھا اس لئے قصیٰ کی والدہ وہیں چلی گئی اور وہ قصّیٰ کو بھی اپنے ساتھ لیتی گئی۔ جب قصّیٰ جوان ہوا تو مکہ واپس آیا ۔ اس وقت مکہ کا والی خلیل بن حبشیہ خزاعی تھا۔ قصّیٰ نے اس کے پاس اس کی بیٹی حبی سے نکاح کا پیغآم بھیجا ۔ خلیل نے منظور کر لیا اور شادی کردی۔ [4] اس کے بعد جب خلیل کا نتقال ہوا تو مکہ اور بیت اللہ کی توّلیت کیلئے خزاعہ اور قریش کے درمیان جنگ ہو گئی اور اس کے نتیجے میں مکہ اور بیت اللہ پر قصّیٰ کا اقتدار قائم ہو گیا۔
جنگ کا سبب کیا تھا؟ اس بارے میں تین بیانات ملتے ہیں: ایک یہ کہ جب قصّیٰ کی اولاد خوب پھل پھول گئی اس کے پاس دولت کی فراوانی بھی ہو گئی اور اس کا وقار بھی بڑھ گیا اور ادھر خلیل کا انتقال بھی ہو گیا تو قصّیٰ نے محسوس کیا کہ اب بنو خزاعہ اور بنوبکر کے بجائے میں کعبہ کی توّلیت اور مکہ کی حکومت کا کہیں زیادہ حقدار ہوں۔ اسے یہ بھی احساس بھی تھا کہ قریش خالص اسماعیلی عرب ہیں اور بقیہ آل اسماعیل کے سردار بھی ہیں (لہٰذا سربراہی کے مستحق بھی وہی ہیں) چنانچہ اس نے قریش اور بنو خزاعہ کے کچھ لوگوں سے گفتگو کی کہ کیوں نہ بنو خزاعہ اور بنوبکر کو مکہ سے نکال باہر کیا جائے۔ان لوگوں نے اس کی رائے سے اتفاق کیا۔[1]
دوسرا بیان یہ ہے کہ ___ خزاعہ کے بقول ____ خود خلیل نے قصّیٰ کو وصیت کی تھی کہ وہ کنبہ کی نگہداشت کرے گا اور مکہ کی باگ ڈور سنبھالے گا۔[2]
تیسرا بیان یہ ہے کہ خلیل نے اپنی بیٹی حبی کو بیت اللہ کی توّلیت سونپی تھی اور ابوغبشان خزاعی کو اسکا وکیل بنایا تھا۔ چنانچہ حبی کے نائب کی حیثیت سے وہی خانہ کعبہ کا کلید بردار تھا۔ جب خلیل کا نتقال ہو گیا تو قصّیٰ نے ابو غشبان سے ایک مشک شراب کے بدلے کعبہ کی تولیت خرید لی لیکن خزاعہ نے یہ خرید و فروخت منظور نہ کی اور قصّیٰ کو بیت اللہ سے روکنا چاہا۔ اس پر قصّیٰ نے بنو خزاعہ کو مکہ سے نکالنے کیلئے قریش اور بنو کنانہ کو جمع کیا اور قصّیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جمع ہو گئے۔ [3]
بہرحال وجہ جو بھی ہو، واقعات کا سلسلہ اس طرح ہے کہ جب خلیل کا انتقال ہو گیا، اور صوفہ نے وہی کرنا چاہا جو وہ ہمیشہ کرتے آئے تھے تو قصّیٰ نے قریش اور کنانہ کے لوگوں کو ہمراہ لیا اور عقبہ کے نزدیک جہاں وہ جمع تھے ان سے آکر کہا کہ تم سے زیادہ ہم اس کے حقدار ہیں۔ اس پر صوفہ نے لڑائی چھیڑ دی مگر قصّیٰ نے انہیں مغلوب کرکے ان کا اعزاز چھین لیا۔یہی موقع تھا جب خزاعہ اور بنوبکر نے قصّیٰ سے دامن کشی اختیار کرلی۔ اس پر قصّیٰ نے انہیں بھی للکارا، پھر کیا تھا فریقین میں سخت جنگ چھڑ گئی اور طرفین کے بہت سے آدمی مارے گئے، اس کے بعد صلح کی آوازیں بلند ہوئیں اور بنو بکر کے ایک شخص یعمر بن عوف کو حکم بنایا گیا۔ یعمر نے فیصلہ کیا کہ خزاعہ کے بجائے قصّیٰ خانہ کعبی کی توّلیت اور مکہ کے اقتدار کا نزیادہ حقدار ہے۔نیز قصّیٰ نے جتنا خون بہایا ہے سب رائیگاں قرار دے کر پاؤں تلے روند رہا ہوں۔ البتہ خزاعہ اور بنوبکر نے جن لوگوں کو قتل کیا ہے ان کی دیت ادا کریں اور خانہ کعبہ کو بلا روک ٹوک قصّیٰ کے حوالے کردیں_____ اسی فیصلے کی وجہ سے یعمر کا لقب شدّاخ [4] پڑ گیا۔ شدّاخ کے معنی ہیں پاؤں تلے روندنے والا۔
اس فیصلے کے نتیجے میں قصّیٰ اور قریش کو مکہ پر مکمل نفوذ اور سیادت حاصل ہو گئی اور قصّیٰ بیت اللہ کا دینی سربراہ بن گیا جس کی زیارت کےلئے عرب کے گوشے گوشے سے آنے جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ مکہ پر قصّیٰ کے تسلّط کا یہ واقعہ پانچویں صدی عیسوی کے وسط یعنی سنہ 440 کا ہے۔[1]
قصّیٰ نے مکہ کا بندوبست اس طرح کیا کہ قریش کو اطراف مکہ سے بلا کر پورا شہر ان پر تقسیم کر دیا اور ہر خاندان کی بودوباش کا ٹھکانا مقرر کر دیا۔ البتہ مہینے آگے پیچھے کرنے والوں کو، نیز آل صفوان بنو عددان اور بنو مرہ بن عوف کو ان کے مناصب پر برقرار رکھا کیونکہ قصّیٰ سمجھتا تھا کہ یہ بھی دین ہے جس میں ردّوبدل کرنا درست نہیں۔ [2]
قصّّیٰ کا ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ اس نے حرم کعبہ کے شمال میں دارالندوہ تعمیر کیا۔ ( اسکا دروازہ مسجد کی طرف تھا) دارالندوہ دراصل قریش کی پارلیمنٹ تھی جہاں تمام بڑے بڑے اور اہم معاملات کے فیصلے ہوا کرتے تھے۔ قریش پر دارالندوہ کے بڑے احسانات ہیں کیونکہ یہ ان کی وحدت کا ضامن تھا اور یہیں انکے الجھے ہوئے مسائل بحسن و خوبی طے ہوتے تھے۔ [3]
قصّیٰ کو سربراہی اور عظمت کے حسب ذیل مظاہر حاصل تھے:
1۔ دارالندوہ کی صدارت: جہاں بڑے بڑے معاملات کے متعلق مشورے ہوتے تھے اور جہاں لوگ اپنی لڑکیوں کی شادیاں بھی کرتے تھے۔
2۔ لَواء۔ یعنی جنگ کا پرچم قصّیٰ ہی کے ہاتھوں باندھا جاتا تھا۔
3۔حجابت: یعنی خانہ کعبہ کی پاسبانی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خانہ کعبہ کا دروازہ قصیٰ ہی کھولتا تھا اور وہی خانہ کعبہ کی خدمت اور کلید برداری کا کام انجام دیتا تھا۔
4۔ سقایہ: (پانی پلانا) اس کی صورت یہ تھی کہ کچھ حوض میں حاجیوں کیلئے پانی بھر دیا جاتا تھا اور اس میں کچھ کھجور اور کشمش ڈال کر اسے شیریں بنا دیا جاتا تھا، جب حجّاج مکہ آتے تھے تو اسے پیتے تھے۔ [4]
5۔ رِفادہ: (حاجیوں کی میزبانی)_____ اس کے معنی یہ ہیں کہ حاجیوں کیلئے بطور ضیافت کھانا تیار کیا جاتا تھا۔ اس مقصد کیلئے قصیٰ نے قریش پر ایک خاص رقم مقرر کر رکھی تھی ، جو موسم حج میں قصیٰ کے پاس جمع کی جاتی تھی۔ قصیٰ اسی رقم سے حاجیوں کیلئے کھانا تیار کراتا تھاجو لوگ تنگ دست ہوتے یا جن کے پاس توشہ نہ ہوتا وہ یہی کھانا کھاتے تھے۔ [1]
یہ سارے مناصب قصّیٰ کو حاصل تھے۔ قصیٰ کا پہلا بیٹا عبدالدار تھا، مگر اس کے بجائے دوسرا بیٹا عبدمناف، قصیٰ کی زندگی ہی میں شرف و سیادت کے مقام پر پہنچ گیا تھا، اس لئے قصیٰ نے عبدالدار سے کہا کہ یہ لوگ اصل میں شرف و سیادت میں تم پر بازی لے جا چکے ہیں، مگر میں تمہیں ان کے ہم پلّہ کر کے رہوں گا۔ چنانچہ قصیٰ نے اپنے سارے مناصب اور اعزازات کی وصیت عبدالدار کیلئے کر دی، یعنی دارالندوہ کی ریاست، خانی کعبہ کی حجابت، لواء، سقایت اور رفادہ سب کچھ عبدالدار کو دے دیا۔ کیونکہ کسی کام میں قصیٰ کی مخالفت نہیں کی جاتی تھی اور نہ ہی اس کی کوئی بات مسترد کی جاتی تھی بلکہ اسکا ہر اقدام اس کی زندگی میں بھی اور اس کی موت کے بعد بھی واجب الاتباع دین سمجھا جاتا تھا اس لئے اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں نے کسی نزاع کے بغیر اس کی وصیت قائم رکھی۔ لیکن جب عبدمناف کی وفات ہو گئی تو اس کے بیٹوں کا ان مناصب کے سلسلے میں اپنے چچیرے بھائیوں یعنی عبدالدار کی اولاد سے جھگڑا ہوا۔ اس کے نتیجے میں قریش دو گروہ میں بٹ گئے اور قریب تھا کہ دونوں میں جنگ ہو جاتی مگر بھی انہوں نے صلح کی آواز بلند کی اور ان مناصب کو باہم تقسیم کر لیا۔ چنانچہ سقایت اور رفادہ کے مناصب عبدمناف کو دئیے گئے اور دارالندوہ کی سربراہی، لواء، اور حجابت بنو عبدالدار کے ہاتھ میں رہی۔ پھر بنو عبدمناف نے اپنے حاصل شدہ مناصب کیلئے قرعہ ڈالا تو قرعہ ہاشم بن عبدمناف کے نام نکلا۔ لہٰذا ہاشم ہی نے اپنی زندگی بھر سقایہ اور رفادہ کا انتظام کیا۔ البتہ جب ہاشم کا انتقال ہو گیا تو انکے بھائی مطّلب نے ان کی جانشینی کی، مگر مطّلب کے بعد انکے بھتیجے عبدالمطلب بن ہاشم نے _________جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا تھے_______یہ منصب سنبھال لیا اور انکے بعد ان کی اولاد ان کی جانشین ہوئی۔ یہاں تک کہ جب اسلام کا دور آیا تو حضرت عبّاس بن عبدالمطلب اس منصب پر فائز تھے۔ [2]
ان کے علاوہ کچھ اور مناصب بھی تھے جنہیں قریش نے باہم تقسیم کر رکھا تھا۔ ان مناصب اور انتظامات کے ذریعے قریش نے ایک چھوٹی سی حکومت ______لکہ حکومت نما انتظامیہ _________قائم کر رکھی تھی جسکے سرکاری ادارے اور تشکیلات کچھ اسی ڈھنگ کی تھیں جیسی آجکل پارلیمانی مجلسیں اور ادارے ہوا کرتے ہیں۔ ان مناصب کا خاکہ حسب ذیل ہے:
1۔ ایسار۔ یعنی فال گیری اور قسمت دریافت کرنے کیلئے بتوں کے پاس جو تیر رکھتے تھے ان کی تولیت۔ یہ منصب بنو جمح کو حاصل تھا۔
2۔ مالیات کا نظم۔ یعنی بتوں کے تقرّب کیلئے جو نذرانے اور قربانیاں پیش کی جاتی تھیں ان کا انتظام کرنا، نیز جھگڑے اور مقدمات کا فیصلہ کرنا۔ یہ کام بنو سہم کو سونپا گیا تھا۔
3۔ شوریٰ۔ یہ اعزاز بنو اسد کو حاصل تھا۔
4۔ اشناق۔ یعنی دیّت اور جرمانوں کا نظم۔ اس منصب پر بنو تمیم فائز تھے۔
5۔ عقاب: یعنی قومی پرچم کی علمبرداری۔ یہ بنو امیّہ کا کام تھا۔
6۔ قبہ: یعنی فوجی کیمپ کا انتظام اور شہسواروں کی قیادت۔ یہ بنو مخزوم کے حصے میں آیاتھا۔
7۔ سفارت: بنو عدی کا منصب تھا۔ [1]
بقیہ عرب سرداریاں:
ہم پچھلے صفحات میں قحطانی اور عدنانی قبائل کے ترک وطن کا ذکر کر چکے ہیں اور بتلا چکے ہیں کہ پورا عرب ان قبائل کے درمیان تقسیم ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ان کی امارتوں اور سرداریوں کا نقشہ کچھ یوں تھا کہ جو قبائل حیرہ کے اردگرد آباد تھے انہیں حکومت حیرہ کے تابع مانا گیا اور جن قبائل نے بادیۃ الشّام میں سکونت اختیار کی تھی انہیں غسّانی حکمرانوں کے تابع قرار دیا گیا ، مگر یہ ماتحتی صرف نام کی تھی عملاً نہ تھی۔ ان دو مقامات کو چھوڑ کر اندرون عرب آباد قبائل بہرطور آزاد تھے۔
ان قبائل میں سرداری نظام رائج تھا، قبیلے خود اپنا سردار مقرر کرتے تھے اور ان سرداروں کیلئے ان کا قبیلہ ایک مختصر سی حکومت ہوا کرتا تھا۔ سیاسی وجود و تحفظ کی بنیاد قبائلی وحدت پر مبنی عصبیت اور اپنی زمین کی حفاظت دفاع کے مشترکہ مفادات تھے۔
قبائلی سرداروں کا درجہ اپنی قوم میں بادشاہوں جیسا تھا، قبیلہ صلح اور جنگ میں بہرحال اپنے سردار کے فیصلے کے تابع ہوتا تھا اور کسی حال میں اس سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا تھا۔ سردار کو وہی مطلق العنانی اور استبداد حاصل تھا جو کسی ڈکٹیٹر کو حاصل ہوا کرتا ہے حتّیٰ کے بعض سرداروں کا یہ حال تھا کہ اگر وہ بگڑ جاتے تو ہزاروں تلواریں یہ پوچھے بغیر بے نیام ہو جاتیں کے سردار کے غصے کا سبب کیا ہے۔
تاہم چونکہ ایک ہی کنبے کے چچیرے بھائیوں میں سرداری کیلئے کشاکش بھی ہوا کرتی تھی اس لئے اس کا تقاضہ تھا کہ سردار اپنے قبائلی عوام کے ساتھ رواداری برتے۔ خوب مال خرچ کرے اور مہمان نوازی میں پیش پیش رہے، کرم و بردباری سے کام لے، شجاعت کا عملی مظاہرہ کرے اور غیرت مندانہ امور کی طرف سے دفاع کرے تاکہ لوگوں کی نظر میں عموما’’ اور شعراء کی نظر میں خصوصا‘‘ خوبی اور کمالات کا جامع بن جائے۔ (کیونکہ شعراء اس دور میں قبیلے کی زبان ہوا کرتے تھے) اور اس طرح سردار اپنے مدمقابل حضرات سے بلند و بالا درجہ حاصل کرلے۔
سرداروں کے کچھ مخصوص اور امتیازی حقوق بھی ہوا کرتے تھے جنہیں ایک شاعر نے یوں بیان کیا ہے۔
لک المرباغ فینا والصفایا وحکمک والنشیطۃ والفضول
"ہمارے درمیان تمہارے لئے مال غنیمت کا چوتھائی ہے اور منتخب مال ہے اور وہ مال ہے جس کا تم فیصلہ کردو اور جو سر راہ ہاتھ آجائے۔ اور جو تقسیم سے بچ رہے"۔
مرباع۔ مال غنیمت کا چوتھائی حصہ۔
صفی: وہ مال جسے تقسیم سے پہلے ہی سردار اپنے لئے منتخب کرلے۔
نشیطہ: وہ مال جو اصل قوم تک پہنچنے سے پہلے راستے ہی میں سردار کے ہاتھ لگ جائے۔
فضول۔ وہ مال جو تقسیم کے بعد بچ رہے اور غازیوں کی تعداد پر برابر تقسیم نہ ہو۔ مثلا" تقسیم سے بچے ہوئے اونٹ گھوڑے وغیرہ ان سب اقسام کے مال سردار قبیلہ کا حق ہوا کرتے تھے۔
سیاسی حالت:
جزیرۃ العرب کی حکومتوں اور حکمرانوں کا ذکر ہو چکا،بیجا نہ ہوگا کہ اب انکے کسی قدر سیاسی حالات بھی ذکر کر دئیے جائیں۔
جزیرۃالعرب کے وہ تینوں سرحدی علاقے جو غیر ممالک کے پڑوس میں پڑتے تھے ان کی سیاسی حالت سخت اضطراب و انتشار اور انتہائی زوال و انحطاط کا شکارتھی۔ انسان، مالک اور غلام یا حاکم اور محکوم کے دو طبقوں میں بٹا ہو ا تھا۔ سارے فوائد سربراہوں _____ اور خصوصاً غیر ملکی سربراہوں _____کو حاصل تھے اور سارا بوجھ غلاموں کے سر تھا۔ اسے زیادہ واضح الفاظ میںیوں کہا جا سکتا ہے کہ رعایا در حقیقت ایک کھیتی تھی جو حکومت کیلئے محاصل اور آمدنی فراہم کرتی تھی اور حکومتیں انہیں لذتوں، شہوتوں، عیش رانی اور ظلم و جور کیلئے باستعمال کرتی تھیں۔اور ان پر ہر طرف سے ظلم کی بارش ہو رہی تھی۔ مگر وہ حرف شکایت زبان پر نہ لا سکتے تھے بلکہ ضروری تھا کہ طرح طرح کی ذلت و رسوائی اور ظلم و چیرہ دستی برداشت کریں اور زبان بند رکھیں۔ کیونکہ جبرواستبداد کی حکمرانی تھیاور انسانی حقوق نام کی کسی چیز کا کہیں کوئی وجود نہ تھا۔ ان علاقوں کے پڑوس میں رہنے والے قبائل تذبذب کا شکار تھے ۔ انہیں اغراض و خواہشات ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر پھینکتی رہتی تھیں۔ کبھی وہ عراقیوں کے ہمنوا ہو جاتے تھے اور کبھی شامیوں کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے۔
جو قبائل اندرون عرب آباد تھے ان کے بھی جوڑ ڈھیلے اور شیرازہ منتشر تھا۔ ہر طرف قبائلی جھگڑوں، نسلی فسادات اور مذہبی اختلافات کی گرم بازاری تھی، جس میں ہر قبیلے کے قفراد بہرصورت اپنے اپنے قبیلے کا ساتھ دیتے تھے خواہ وہ حق پر ہو یا باطل پر۔ چنانچہ ان کا ترجمان کہتا ہے۔
وما انا الامن غزیۃ ان اغوت غویت وان ترشد غزیۃ ارشد
’’ میں بھی تو قبیلہ غزیہ کا ایک فرد ہوں ، اگر وہ غلط راہ پر چلے گا تو میں بھی غلط راہ پر چلوں گا، اور اگر وہ صحیح راہ پر چلے گا تو میں بھی صحیح راہ پر چلوں گا۔‘‘
اندرون عرب کوئی بادشاہ نہ تھا جو ان کی آواز کو قوت پہنچاتا اور نہ کوئی مرجع ہی تھا جسکی طرف مشکلات و شدائد میں رجوع کیا جاتا اور جس پر وقت پڑنے پر اعتماد کیا جاتا۔
ہاں حجاز کی حکومت کو قدرواحترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور اسے مرکز دین کا قائدو پاسبان بھی تصور کیا جاتا تھا۔ یہ حکومت درحقیقت ایک طرح کی دینوی قیادت اور دینی پیشوائی کا معجون و مرکّب تھی۔ اسے اہل عرب پر اپنی دینی پیشوائی کے نام سے بالا دستی حاصل تھی اور حرم اور اطرافِ حرم پر اس کی باقاعدہ حکمرانی تھی۔وہی زئرین بیت اللہ کی ضروریات کا انتطام اور شریعت ابراہیمی کے احکام کا نفاذ کرتی تھی۔ اور اس کے پاس پارلیمانی اداروں جیسے ادارے اور تشکیلات بھی تھیں۔ لیکن یہ حکومت اتنی کمزور تھی کہ اندرون عرب کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کی طاقت نہ رکھتی تھی جیسا کہ حبشیوں کے حملے کہ موقع پر ظاہر ہوا۔