الرحیق المختوم

جفاکشی کی زندگی

عنفوان شباب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی معین کام نہیں تھا، البتہ یہ خبر متواتر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکریاں چراتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی سعد کی بکریاں چرائیں[3] اور مکہ میں بھی اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے عوض چراتے رہے ۔[4] پچیس سال کی عمر ہوئی تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہما کا مال لیکر تجارت کے لئے ملک شام تشریف لے گئے۔ ابن اسحاق کا بیان ہے، کہ خدیجہ بنت خویلد ایک معزز مالدار تاجر خاتون تھیں، لوگوں کو اپنا مال تجارت کے لئے دیتی تھیں اور مضاربت کے اصول پر ایک حصہ طے کر لیتی تھیں۔ پورا قبیلہ قریش ہی تجارت پیشہ تھا۔جب انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راست گوئی، امانت اور مکارم اخلاق کا علم ہوا تو انہوں نے ائک پیغام کے ذریعے پیشکش کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انکا مال لیکر تجارت کے لئے انکے غلام میسرہ کے ساتھ ملک شام تشریف لیجائیں۔ وہ دوسرے تاجروں کو جو دیتی ہیں اس سے بہتر اجرت آپ کو دینگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشکش قبول کر لی۔ انکا مال لیکر انکے غلام میسرہ کے ساتھ ملک شام تشریف لے گئے۔[1]