الرحیق المختوم

جبریل صلی اللہ علیہ وسلم وحی لاتے ہیں

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چالیس برس ہو گئی.... اور یہی سنِ کمال ہے، اور کہا جاتا ہے کہ یہی پیغمبروں کی بعثت کی عمر ہے.... تو زندگی کے اُفق کے پار سے آثارِ نبوت چمکنا اور جگمگانا شروع ہوئے۔ یہ آثار خواب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو بھی خواب دیکھتے وہ سپیدہ ء صبح کی طرح نمودار ہوتا۔ اس حالت پر چھ ماہ کا عرصہ گزر گیا.... جو مدتِ نبوت کا چھاآلیسواں حصہ ہے اور کل مدتِ نبوت تیئس برس ہے۔ اس کے بعد جب حراء میں خلوت نشینی کا تیسرا سال آیا تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ روئے زمین کے باشندوں پر اس کی رحمت کا فیضان ہو۔ چنانچہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے مشرف کیا اور حضرت جبریل علیہ السلام قرآن مجید کی چند آیات لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے۔ [2] دلائل و قرائن پر ایک جامع نگاہ ڈال کر حضرت جبریل علیہ السلام کی تشریف آوری کے اس واقعے کی تاریخ معین کی جا سکتی ہے۔ ہماری تحقیق کے مطابق یہ واقعہ رمضان المبارک کی ۲۱ تاریخ کو دو شنبہ کی رات میں پیش آیا۔ اس روز اگست کی ۱۰ تاریخ تھی اور سن ۶۱۰ تھا۔ قمری حساب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چالیس سال چھ مہینے بارہ دن اور شمسی حساب سے ۳۹ سال تین مہینے ۲۲ دن تھی۔ [3] آئیے اب ذرا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبانی اس واقعے کی تفصیلات سنیں۔ یہ انوارِ لاہوت کا ایک ایسا شعلہ تھا جس سے کفر و ضلالت کی تاریکیاں چھٹتی چلی گئیں، یہاں تک کہ زندگی کی رفتار بدل گئی اور تاریخ کا رُخ پلٹ گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا نیند میں اچھے خواب سے ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو بھی خواب دیکھتے تھے وہ سپیدہ صبح کی طرح نمودار ہوتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہائی محبوب ہو گئی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حراء میں خلوت اختیار فرماتے اور کئی کئی رات گھر تشریف لائے بغیر مصروفِ عبادت رہتے۔ اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم توشہ لے جاتے۔ پھر ﴿توشہ ختم ہونے پر﴾ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آتے اور تقریباً اتنے ہی دنوں کے لیے پھر توشہ لے جاتے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حق آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حراء میں تھے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا پڑھو! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس پر اس نے مجھے پکڑ کر اس زور سے دبایا کہ میری قوت نچوڑ دی۔ پھر چھوڑ کر کہا، پڑھو! ۔ میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس نے دوبارہ جکڑ کر دبوچا۔ پھر چھوڑ کر کہا، پڑھو!۔ میں نے پھر کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس نے تیسری بار پکڑ کر دبوچا پھر چھوڑ کر کہا ﴿اقرأ باسم ربك الذي خلق ، خلق الإنسان من علق ، اقرأ و ربك الأكرم ﴾[1] ’’پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، انسان کو لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھو اور تمھارا رب نہایت کریم ہے۔‘‘ ان آیات کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل دَھک دَھک کر رہا تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بنت خویلد کے پاس تشریف لائے اور فرمایا، مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چادر اوڑھا دی یہاں تک کہ خوف جاتا رہا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا، یہ مجھے کیا ہو گیا ہے؟ مجھے تو اپنی جان کا ڈر لگتا ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا قطعا نہیں۔ بخدا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ رسوا نہ کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلہ رحمی کرتے ہیں، درماندوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، تہی دستوں کا بندوبست کرتے ہیں، مہمان کی میزبانی کرتے ہیں اور حق کے مصائب پر اعانت کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے چچیرے بھائی ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعُزیٰ کے پاس لے گئیں۔ ورقہ دورِ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے اور عبرانی میں لکھنا جانتے تھے۔ چنانچہ عبرانی زبان میں حسبِ توفیق الٰہی انجیل لکھتے تھے۔ اُس وقت بہت بوڑھے اور نابینا ہو چکے تھے۔ ان سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا بھائی جان! آپ اپنے بھتیجے کی بات سنیں۔ ورقہ نے کہا: بھتیجے! تم کیا دیکھتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا بیان فرما دیا۔ اس پر ورقہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یہ تو وہی ناموس ہے جسے اللہ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا تھا۔ کاش میں اس وقت توانا ہوتا۔ کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا! تو کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا، ہاں! جب بھی کوئی آدمی اس طرح کا پیغام لایا جیسا تم لائے ہو تو اس سے ضرور دشمنی کی گئی اور اگر میں نے تمھارا زمانہ پا لیا تو تمھاری زبردست مدد کروں گا۔ اس کے بعد ورقہ جلد ہی فوت ہو گئے اور وحی رُک گئی۔ [2] طبری اور ابنِ ہشام کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اچانک وحی کی آمد کے بعد غارِ حراء سے نکلے تو پھر واپس آ کر اپنی بقیہ مدت قیام پوری کی، اس کے بعد مکہ تشریف لائے۔ طبری کی روایت سے آپ کے نکلنے کے سبب پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ روایت یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کی آمد کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’اللہ کی مخلوق میں شاعر اور پاگل سے بڑھ کر میرے نزدیک کوئی قابلِ نفرت نہ تھا۔ ﴿میں شدتِ نفرت سے﴾ ان کی طرف دیکھنے کی تاب نہ رکھتا تھا۔ (اب جو وحی آئی تو) میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ یہ ناکارہ.... یعنی خود آپ.... شاعر یا پاگل ہے! میرے بارے میں قریش ایسی بات کبھی نہ کہہ سکیں گے۔ میں پہاڑ کی چوٹی پر جا رہا ہوں وہاں سے اپنے آپ کو نیچے لڑھکا دوں گا اور اپنا خاتمہ کر لوں گا اور ہمیشہ کے لیے راحت پا جاؤں گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں یہی سوچ کر نکلا۔ جب بیچ پہاڑ پر پہنچا تو آسمان سے ایک آواز سنائی دی، اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم تم اللہ کے رسول ہو اور میں جبریل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ میں نے آسمان کی طرف اپنا سر اُٹھایا۔ دیکھا تو جبریل علیہ السلام ایک آدمی کی شکل میں اُفق کے اندر پاؤں جمائے کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں: اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم تم اللہ کے رسول ہو اور میں جبریل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں وہیں ٹھہر کر جبریل علیہ السلام کو دیکھنے لگا اور اس شغل نے مجھے میرے ارادے سے غافل کر دیا۔ اب میں نہ آگے جا رہا تھا نہ پیچھے۔ البتہ اپنا چہرہ آسمان کے افق میں گھما رہا تھا اور اس کے جس گوشے پر بھی میری نظر پڑتی تھی جبریل اسی طرح دکھائی دیتے تھے۔ میں مسلسل کھڑا رہا۔ نہ آگے بڑھ رہا تھا نہ پیچھے یہاں تک کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے میری تلاش میں اپنے قاصد بھیجےاور مکہ تک جا کر پلٹ آئے۔ لیکن میں اپنی جگہ کھڑا رہا۔ پھر جبریل علیہ السلام چلے گئے اور میں بھی اپنے اہلِ خانہ کی طرف پلٹ آیا اور خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچ کر ان کی ران کے پاس انہیں پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ انھوں نے کہا، ابوالقاسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تھے؟ بخدا! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں آدمی بھیجے اور وہ مکہ تک جا کر واپس آگئے (اس کے جواب میں) میں نے جو کچھ دیکھا تھا انھیں بتا دیا۔ انھوں نے کہا: چچا کے بیٹے! آپ خوش ہو جائیے اور آپ ثابت قدم رہیے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں اُمید کرتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس اُمت کے نبی ہوں گے۔ اس کے بعد وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں۔ انھیں ماجرا سنایا۔ انھوں نے کہا قدوس، قدوس، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ورقہ کی جان ہے، ان کے پاس وہی ناموسِ اکبر آیا ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا کرتا تھا۔ یہ اس اُمت کے نبی ہیں۔ ان سے کہو ثابت قدم رہیں۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے واپس آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ کی بات بتائی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حراء میں اپنا قیام پورا کر لیا اور (مکہ) تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ورقہ نے ملاقات کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی تفصیلات سن کر کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اِس اُمت کے نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہی ناموسِ اکبر آیا ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تھا۔