الرحیق المختوم

قرابت داروں میں تبلیغ

بہرحال اس آیت کے نزول کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا کام یہ کیا کہ بنی ہاشم کو جمع کیا ، ان کے ساتھ بنی مطلب بن عبد مناف کی بھی ایک جماعت تھی ۔ کل پینتالیس آدمی تھے ، لیکن ابو لہب نے بات لپک لی اور بولا "دیکھو یہ تمہارے چچا اور چچیرے بھائی ہیں ۔ بات کرو لیکن نادانی چھوڑ دو اور یہ سمجھ لو کہ تمہارا خاندان سارے عرب سے مقابلے کی تاب نہیں رکھتا ۔ اور میں سب سے زیادہ حق دار ہوں کہ تمہیں پکڑ لوں ۔ پس تمہارے لیے تمہارے باپ کا خانوادہ ہی کافی ہے ۔ اور اگر تم اپنی بات پر قائم رہے تو یہ بہت آسان ہوگا کہ قریش کے سارے قبائل تم پر ٹوٹ پڑیں اور یقیہ عرب بھی ان کی امداد کریں ، پھر میں نہیں جانتا کہ کوئی شخص اپنے باپ کے خانوادے کیلئیے تم سے بڑھ کر شر ( اور تباہی ) کا باعث ہوگا ۔" اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار کرلی اور اس مجلس میں کوئی گفتگو نہ کی ______ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ جمع کیا اور ارشاد فرمایا : " ساری حمد اللہ کیلئے ہے ۔ میں اس کی حمد کرتا ہوں ۔ اور اس سے مدد مدد چاہتا ہوں ۔ اس پر ایمان رکھتا ہوں ۔ اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ۔ وہ تنہا ہے ۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " رہنما اپنے گھر کے لوگوں سے جھوٹ نہیں بول سکتا ۔ اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں تمہاری طرف خصوصا اور لوگوں کی طرف عموما اللہ کا رسول ( فرستادہ ) ہوں ۔ بخدا !تم لوگ اسی طرح موت سے دوچار ہوگے جیسے سوجاتے ہو اور اسی طرح اٹھائے جاو گے جس طرح سو کر جاگتے ہو ۔ پھر جو کچھ تم کرتے ہو اس کا تم سے حساب لیا جائے گا ۔ اس کے بعد یا تو ہمیشہ کیلئیے جنت ہے یا ہمیشہ کیلئیے جہنم ۔ " اس پر ابو طالب نے کہا ( نہ پوچھو ) ہمیں تمہاری معاونت کس قدر پسند ہے۔ ! تمہاری نصیحت کس قدر قابل قبول ہے۔ ! اور ہم تمہاری بات کس قدر سچی مانتے جانتے ہیں۔! اور یہ تمہارے والد کا خانوادہ جمع ہے ۔ اور میں بھی ان کا ایک فرد ہوں ۔ فرق اتنا ہے کہ میں تمہاری پسند کی تکمیل کیلئیے ان سب سے پیش پیش ہوں ، لہاذا تمہیں جس بات کا حکم ہوا ہے اسے انجام دو ۔ بخدا ! میں تمہاری مسلسل حفاظت و اعانت کرتا رہونگا ۔ البتہ میری طبیعت عبد المطلب کا دین چھوڑنے پر راضي نہیں ہے ۔ ابو لہب نے کہا : خدا کی قسم یہ برائی ہے ۔ اس کے ہاتھ دوسروں سے پہلے تم لوگ خود ہی پکڑ لوگے ۔ اس پر ابو طالب نے کہا : خدا کی قسم جب تک جان میں جان ہے ۔ ہم ان کی حفاظت کرتے رہیں گے ۔[1]