الرحیق المختوم
ظلم وستم کا پیمان
اس تجویز کے مطابق مشرکین وادئ مُحصَّب میں خیفبنی کنانہ کے اندر جمع ہوکر آپس میں بنی ہاشم اور بنی مطلب کے خلاف یہ عہد وپیمان کیا کہ نہ ان سے شادی بیاہ کریں گے ، نہ خرید وفروخت کریں گے۔ نہ ان کے ساتھ اُٹھیں بیٹھیں گے ، نہ ان سے میل جول رکھیں گے ، نہ ان کے گھروں میں جائیں گے،نہ ان سے بات چیت کریں گے، جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لیے ان کے حوالے نہ کردیں۔ مشرکین نے اس بائیکاٹ کی دستاویز کے طور پر ایک صحیفہ لکھا جس میں اس بات کا عہد وپیمان کیا گیا تھا کہ وہ بنی ہاشم کی طرف سے کبھی بھی کسی صلح کی پیش کش قبول نہ کریں گے، نہ ان کے ساتھ کسی طرح کی مروت برتیں گے جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لیے مشرکین کے حوالے نہ کردیں۔
ابن قیم کہتے ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ یہ صحیفہ منصور بن عکرمہ بن عامر بن ہاشم نے لکھا تھا اور بعض کے نزدیک نضر بن حارث نے لکھا تھا لیکن صحیح بات یہ ہے کہ لکھنے والابغیض بن عامر بن ہاشم تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بد دعا کی اور اس کا ہاتھ شل ہوگیا۔ [1]
بہر حال یہ عہد وپیمان طے پا گیا اور صحیفہ خانہ کعبہ کے اندر لٹکا دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ابولہب کے سوا بنی ہاشم اور بنی مطلب کے سارے افراد خواہ مسلمان رہے ہوں یا کافر سمٹ سمٹا کر شِعَبِ ابی طالب میں محبوس ہوگئے۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتویں سال محرم کی چاند رات کا واقعہ ہے۔