الرحیق المختوم
بیعت کی دفعات
بیعت کا واقعہ امام احمدؒ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہم آپ سے کس بات پر بیعت کریں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس بات پر کہ :
1۔ چستی اور سستی ہر حال میں بات سنو گے اور مانو گے۔
2۔ تنگی اور خوشحالی ہر حال میں مال خرچ کرو گے۔
3۔ بھلائی کا حکم دو گے اور برائی سے روکو گے۔
4۔ اللہ کی راہ میں اٹھ کھڑے ہوگے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت گرکی ملامت کی پروا نہ کرو گے۔
5۔ اور جب میں تمہارے پاس آجاؤں گا تو میری مدد کرو گے اور جس چیز سے اپنی جان اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہوا س سے میری بھی حفاظت کرو گے۔ اور تمہارے لیے جنت ہے۔ [2]
حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی روایت میں …جسے ابنِ اسحاق نے ذکر کیا ہے…صرف آخری دفعہ (۵) کا ذکر ہے۔ چنانچہ اس میں کہا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی تلاوت ، اللہ کی طرف دعوت اور اسلام کی ترغیب دینے کے بعد فرمایا : میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اس چیز سے میری حفاظت کرو گے جس سے اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہو۔ اس پر حضرت براء رضی اللہ عنہ بن معرور نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہا: ہاں! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے! ہم يقيناً اس چیز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کریں گے جس سے اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہیں…لہٰذا اے اللہ کے رسول ! آپ ہم سے بیعت لیجئے۔ ہم اللہ کی قسم! جنگ کے بیٹے ہیں اور ہتھیار ہمارا کھلونا ہے۔ ہماری یہی ریت باپ دادا سے چلی آرہی ہے۔
حضرت کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت براء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرہی رہے تھے کہ ابو الہثیم بن تیہان نے بات کاٹتے ہوئے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہمارے اور کچھ لوگوں…یعنی یہود…کے درمیان ۔عہد وپیمان کی۔ رسیاں ہیں اور اب ہم ان رسیوں کو کاٹنے والے ہیں ، تو کہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ ہم ایسا کر ڈالیں پھر اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غلبہ وظہور عطا فرمائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں چھوڑ کر اپنی قوم کی طرف پلٹ آئیں۔
یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا، پھر فرمایا : (نہیں)بلکہ آپ لوگوں کا خون میرا خون اور آپ لوگوں کی بربادی میری بربادی ہے۔ میں آپ سے ہوں اور آپ مجھ سے ہیں۔ جس سے آپ جنگ کریں گے اس سے میں جنگ کروں گا اور جس سے آپ صلح کریں گے اس سے میں صلح کروں گا۔ [1]