الرحیق المختوم

بیعت کی تکمیل

بیعت کی دفعات پہلے ہی طے ہوچکی تھیں ، ایک بار نزاکت کی وضاحت بھی ہوچکی تھی۔ اب یہ تاکید مزید ہوئی تو لوگوں نے بیک آواز کہا : اسعد بن زرارہ ! اپنا ہاتھ ہٹا ؤ۔ اللہ کی قسم! ہم اس بیعت کو نہ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ توڑ سکتے ہیں۔[3] اس جواب سے حضرت اسعد رضی اللہ عنہ کو اچھی طرح معلوم ہوگیا کہ قوم کس حد تک اس راہ میں جان دینے کے لیے تیار ہے ___درحقیقت حضرت اسعد بن زرارہ حضرت مُصعب بن عُمیر کے ساتھ مل کر مدینے میں اسلام کے سب سے بڑے مبلغ تھے۔ اس لیے طبعی طور پر وہی ان بیعت کنندگان کے دینی سربراہ بھی تھے اور اسی لیے سب سے پہلے انہیں نے بیعت بھی کی۔ چنانچہ ابنِ اسحاق کی روایت ہے کہ بنو النجار کہتے ہیں کہ ابوامامہ اسعدبن زرارہ سب سے پہلے آدمی ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاتھ ملایا۔ [1] اورا س کے بعد بیعتِ عامہ ہوئی۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم لوگ ایک ایک آدمی کر کے اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی اور اس کے عوض جنت کی بشارت دی۔[2] باقی رہیں دوعورتیں جو اس موقعے پر حاضر تھیں تو ان کی بیعت صرف زبانی ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی اجنبی عورت سے مصافحہ نہیں کیا۔[3] بارہ نقیب: بیعت مکمل ہوچکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تجویز رکھی کہ بارہ سربراہ منتخب کر لیے جائیں۔ جو اپنی اپنی قوم کے نقیب ہوں اور اس بیعت کی دفعات کی تنفیذکے لیے اپنی قوم کی طرف سے وہی ذمے دار اور مکلف ہوں۔ آپ کا ارشاد تھا کہ لوگ اپنے اندر سے بارہ نقیب پیش کیجیے تاکہ وہی لوگ اپنی اپنی قوم کے معاملات کے ذمہ دار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر فوراً ہی نقیبوں کا انتخاب عمل میں آگیا۔ نو خَزَرج سے منتخب کیے گئے اور تین اَوس سے۔ نام یہ ہیں : خزر ج کے نقباء: ۱۔ اسعد بن زرارہ بن عدس ۲۔ سعد بن ربیع بن عَمرو ۳۔ عبد اللہ بن رواحہ بن ثعلبہ ۴۔رافع بن مالک بن عجلان ۵۔براء بن معرور بن صخر ۶۔ عبد اللہ بن عَمرو بن حرام ۷۔ عبادہ بن صامت بن قیس ۸۔ سَعد بن عُبادہ بن دلیم ۹۔ مُنذر بن عَمرو بن خنیس اوس کے نقباء : ۱۔اُسید بن حضیر بن سماک ۲۔ سعد بن خیثمہ بن حارث ۳۔ رِفَاعہ بن عبد المنذر بن زبیر[1] جب ان نقباء کا انتخاب ہوچکا تو ان سے سردار اور ذمے دار ہونے کی حیثیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور عہد لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپ لوگ اپنی قوم کے جملہ معاملات کے کفیل ہیں۔ جیسے حواری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جانب سے کفیل ہوئے تھے اور میں اپنی قوم یعنی مسلمانوں کا کفیل ہوں۔ ان سب نے کہا : جی ہاں۔[2] شیطان معاہدہ کا انکشاف کرتا ہے: معاہدہ مکمل ہوچکا تھا اور اب لوگ بکھرنے ہی والے تھے کہ ایک شیطان کو اس کا پتہ لگ گیا۔ چونکہ یہ انکشاف بالکل آخری لمحات میں ہوا تھا اور اتنا موقع نہ تھا کہ یہ خبر چپکے سے قریش کو پہنچادی جائے، اور وہ اچانک اس اجتماع کے شرکاء ٹوٹ پڑیں ، اور انہیں گھاٹی ہی میں جالیں۔ اس لیے شیطان نے جھٹ ایک اونچی جگہ کھڑے ہو کر نہایت بلند آواز سے ، جو شاید ہی کبھی سنی گئی ہو ، یہ پکارلگائی : خیمے والو! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کو دیکھو۔ اس وقت بددین اس کے ساتھ ہیں اور تم سے لڑنے کے لیے جمع ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اس گھاٹی کا شیطان ہے۔ او اللہ کے دشمن ! سن ، اب میں تیرے لیے جلد ہی فارغ ہورہا ہوں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ وہ اپنے ڈیروں پر چلے جائیں۔[3] قریش پر ضرب لگانے کے لیے انصار کی مستعدی: اس شیطان کی آواز سن کر حضرت عباس عبادہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ نے فر مایا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپؐکو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، آپ چاہیں تو ہم کل اہل منیٰ پر اپنی تلواروں کے ساتھ ٹوٹ پڑیں۔ آپ نے فرمایا : ہمیں اس کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ بس آپ لوگ اپنے ڈیروں میں چلے جائیں۔ اس کے بعد لوگ واپس جاکر سو گئے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔[1]