الرحیق المختوم

دونوں لشکر آمنے سامنے

بہر حال جب مشرکین کا لشکر نمودار ہوا اور دونوں فوجیں ایک دوسرے کو دکھائی دینے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے اللہ! یہ قریش ہیں جو اپنے پورے غرور وتکبر کے ساتھ تیری مخالف کرتے ہوئے اور تیرے رسول ؐ کو جھٹلاتے ہوئے آگئے ہیں۔ اے اللہ! تیری مدد ____جس کا تو نے وعدہ کیا ہے۔ اے اللہ! آج انہیں اینٹھ کر رکھ دے۔‘‘ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ بن ربیعہ کو اس کے ایک سرخ اونٹ پر دیکھ کر فرمایا:’’اگر قوم میں کسی کے پاس خیر ہے تو سُرخ اونٹ والے کے پاس ہے۔ اگر لوگوں نے اس کی بات مان لی تو صحیح راہ پائیں گے۔‘‘ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی صفیں درست فرمائیں۔ صف کی درستگی کے دوران ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک تیر تھا۔ جس کے ذریعے آپ صف سیدھی فرمارہے تھے کہ سواد بن غزیہ کے پیٹ پر، جو صف سے کچھ آگے نکلے ہوئے تھے ، تیر کا دباؤ ڈالتے ہوئے فرمایا : سواد ! برابر ہوجاؤ۔ سواد نے کہا :اے اللہ کے رسول ! آپ نے مجھے تکلیف پہنچادی بدلہ دیجیے۔ آ پ نے اپنا پیٹ کھول دیا اور فرمایا: بدلہ لے لو۔ سواد آپ سے چمٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کا بوسہ لینے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سواد اس حرکت پر تمہیں کس بات نے آمادہ کیا ؟ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ درپیش ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ ہی رہے ہیں۔ میں نے چاہا کہ ایسے موقعے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آخری معاملہ یہ ہو کہ میری جلد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جلد سے چھو جائے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعائے خیر فرمائی۔ پھر جب صفیں درست ہو چکیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کو ہدایت فرمائی کہ جب تک اسے آپ کے آخری احکام موصول نہ ہوجائیں جنگ شروع نہ کرے۔ اس کے بعد طریقہ جنگ کے بارے میں ایک خصوصی رہنمائی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب مشرکین جمگھٹ کرکے تمہارے قریب آجائیں تو ان پر تیر چلانا اور اپنے تیر بچانے کی کوشش کرنا۔ [1] (یعنی پہلے ہی سے فضول تیر اندازی کر کے تیروں کو ضائع نہ کرنا) اور جب تک وہ تم پر چھا نہ جائیں تلوار نہ کھینچنا۔ [2]اس کے بعد خاص آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ چھپر کی طرف واپس چلے گئے اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنا نگراں دستہ لے کر چھپر کے دروازے پر تعینات ہوگئے۔ دوسری طرف مشرکین کی صورت ِ حال یہ تھی کہ ابوجہل نے اللہ سے فیصلہ کی دعا کی۔ اس نے کہا :’’اے اللہ ! ہم میں سے جو فریق قرابت کو زیادہ کاٹنے والا اور غلط حرکتیں زیادہ کرنے والا ہے اسے توآج توڑ دے۔ اے اللہ ! ہم میں سے جو فریق تیرے نزدیک زیادہ محبوب اور زیادہ پسندیدہ ہے آج اس کی مدد فرما۔‘‘ بعد میں اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : ﴿إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ وَإِنْ تَنْتَهُوا فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَإِنْ تَعُودُوا نَعُدْ وَلَنْ تُغْنِيَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْئًا وَلَوْ كَثُرَتْ وَأَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ﴾(۸: ۱۹) ’’ اگر تم فیصلہ چاہتے تو تمہارے پاس فیصلہ آگیا ، اور اگر تم باز آجاؤ تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے ، لیکن اگر تم (اپنی ا س حرکت کی طرف ) پلٹو گے تو ہم بھی (تمہاری سزا کی طرف ) پلٹیں گے اور تمہاری جماعت اگر چہ وہ زیادہ ہی کیوں نہ ہو تمہارے کچھ کام نہ اس کے گی۔ (اور یاد رکھوکہ ) اللہ مومنین کے ساتھ ہے۔‘‘ نقطہ ٔ صفر اور معرکے کا پہلاایندھن: اس معرکے کا پہلا ایندھن اسود بن عبد الاسد مخزومی تھا۔ یہ شخص بڑا اڑیل اور بد خلق تھا۔ یہ کہتے ہوئے میدان میں نکلا کہ میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ ان کے حوض کا پانی پی کررہوں گا۔ ورنہ اسے ڈھا دوں گا یا اس کے لیے جان دے دوں گا۔ جب یہ اُدھر سے نکلا تو اِدھر سے حضرت حمزہ بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ برآمد ہوئے۔ دونوں میں حوض سے پرے ہی مڈبھیڑ ہوئی۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے ایسی تلوار ماری کہ اس کا پاؤں نصف پنڈلی سے کٹ کر اڑگیا اور وہ پیٹھ کے بل گر پڑا۔ اس کے پاؤں سے خون کا فوارہ نکل رہا تھاجس کا رخ اس کے ساتھیوں کی طرف تھا لیکن اس کے باوجود وہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر حوض کی طرف بڑھا اور اس میں داخل ہوا ہی چاہتا تھا تا کہ اپنی قسم پوری کرلے اتنے میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے دوسری ضرب لگائی اور وہ حوض کے اندر ہی ڈھیر ہوگیا۔ مبارزت: یہ اس معرکے کا پہلا قتل تھا اور اس سے جنگ کی آگ بھڑک اُٹھی ، چنانچہ اس کے بعد قریش کے تین بہترین شہسوارنکلے جو سب کے سب ایک ہی خاندان کے تھے۔ ایک عُتبہ اور دوسرا اس کا بھائی شیبہ جو دونوں ربیعہ کے بیٹے تھے اور تیسرا ولید جو عتبہ کا بیٹا تھا۔ انہوں نے اپنی صف سے الگ ہوتے ہی دعوت مُبارزت دی۔ مقابلے کے لیے انصار کے تین جوان نکلے۔ ایک عوف رضی اللہ عنہ ، دوسرے معوذ رضی اللہ عنہ ۔ یہ دونوں حارث کے بیٹے تھے اوران کی ماں کا نام عفراء تھا ۔تیسرے عبد اللہ بن رواحہ۔ قریشیوں نے کہا : تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا : انصار کی ایک جماعت ہیں۔ قریشیوں نے کہا: آپ لو گ شریف مدمقابل ہیں لیکن ہمیں آپ سے سروکار نہیں۔ ہم تو اپنے چچیرے بھائیوں کو چاہتے ہیں، پھر ان کے منادی نے آواز لگائی: محمدؐ ____! ہمارے پاس قوم کے ہمسروں کو بھیجو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عبیدہ رضی اللہ عنہ بن حارث رضی اللہ عنہ ! اٹھو۔ حمزہ رضی اللہ عنہ ! اٹھئے۔ علی! اٹھو۔ جب یہ لوگ اُٹھے اور قریشیوں کے قریب پہنچے تو انہوں نے پوچھا : آپ کو ن لوگ ہیں ؟ انہوں نے اپنا تعارف کرایا۔ قریشیوں نے کہا : ہاں آپ لوگ شریف مدمقابل ہیں، اس کے بعد معرکہ آرائی ہوئی۔ حضرت عبیدہ نے ۔ جو سب سے معمر تھے ۔ عتبہ بن ربیعہ سے مقابلہ کیا، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے شیبہ سے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ولید سے۔[1] حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تو اپنے اپنے مقابل کو جھٹ مارلیا لیکن حضرت عبیدہ اور ان کے مدّ ِ مقابل کے درمیان ایک ایک وار کا تبادلہ ہوااور دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کو گہرا زخم لگایا۔ اتنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اپنے اپنے شکار سے فارغ ہوکر آگئے ، آتے ہی عتبہ پر ٹوٹ پڑے ، اس کا کام تمام کیا اور حضرت عبیدہ کو اٹھا لائے۔ ان کا پاؤں کٹ گیا تھا اورآواز بند ہوگئی تھی جو مسلسل بند ہی رہی یہاں تک کہ جنگ کے چوتھے یا پانچویں دن جب مسلمان مدینہ واپس ہوتے ہوئے وادیٔ صفراء سے گزر رہے تھے ان کا انتقال ہوگیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ کی قسم کھاکر فرمایا کرتے تھے کہ یہ آیت ہمارے ہی بارے میں نازل ہوئی: ﴿هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ [(۲۲: ۱۹) ’’یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا ہے۔‘‘ عام ہجوم: اس مبارزت کا انجام مشرکین کے لیے ایک برا آغاز تھا وہ ایک ہی جست میں اپنے تین بہترین شہ سوار وں اور کمانڈروں سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے، اس لیے انہوں نے غیظ وغضب سے بے قابو ہو کر ایک آدمی کی طرح یکبار گی حملہ کردیا۔ دوسری طرف مسلمان اپنے رب سے نصرت اور مدد کی دعا کرنے اور اس کے حضور اخلاص و تضر ع اپنانے کے بعد اپنی اپنی جگہوں پر جمے اور دفاعی موقف اختیار کیے مشرکین کے تابڑ توڑ حملوں کو روک رہے تھے اور انہیں خاصا نقصان پہنچارہے تھے۔ زبان پر أحد أحد کا کلمہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا: ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیں درست کرکے واپس آتے ہی اپنے پاک پروردگار سے نصرت ومدد کا وعدہ پورا کرنے کی دعا مانگنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا یہ تھی : ((اللّٰہم انجز لی ما وعدتنی، اللّٰہم أنشدک عہدک ووعدک)) ’’اے اللہ ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرمادے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے تیرا عہد اور تیرے وعدے کا سوال کررہا ہوں۔‘‘ جب گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی، نہایت زور کا رَن پڑا اور لڑائی شباب پر آگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی : ((اللہم إن تہلک ہذہ العصابۃ الیوم لا تعبد اللہم إن شئت لم تعبد بعد الیوم أبداً)) ’’اے اللہ ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ اے اللہ ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت کبھی نہ کی جائے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب تضرع کے ساتھ دعا کی یہاں تک کہ دونوں کندھوں سے چادر گر گئی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چادر درست کی اور عرض پرداز ہوئے :’’اے اللہ کے رسول ! بس فرمائیے ! آپ نے اپنے رب سے بڑے الحاح کے ساتھ دعا فرمالی۔‘‘ ادھر اللہ نے فرشتوں کو وحی کی کہ : ﴿ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ﴾ (۸: ۱۲) ’’میں تمہارے ساتھ ہوں ، تم اہل ِ ایمان کے قدم جماؤ ، میں کافروں کے دل میں رُعب ڈال دوں گا۔‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی بھیجی کہ : ﴿ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ﴾(۸: ۹) ’’میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا جو آگے پیچھے آئیں گے۔‘‘ فرشتوں کا نزول: اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جھپکی آئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا یا اور فرمایا: ’’ابو بکر خوش ہو جاؤ ، یہ جبریل صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، گرد وغبار میں اٹے ہوئے۔‘‘ ابن اسحاق کی روایت میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ابوبکر خوش ہو جاؤ ، تمہارے پاس اللہ کی مدد آگئی۔ یہ جبریل علیہ السلام ہیں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے اور اس کے آگے آگے چلتے ہوئے آرہے ہیں اور گرد وغبار میں اَٹے ہوئے ہیں۔‘‘ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپر کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زرہ پہن رکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پُر جوش طور پر آگے بڑھ رہے تھے اور فرماتے جارہے تھے : ﴿ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾(۵۴: ۴۵) ’’عنقریب یہ جتھہ شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی کنکریلی مٹی لی اور قریش کی طرف رُخ کر کے فرمایا: ((شاھتِ الوجوہ۔))چہرے بگڑ جائیں اور ساتھ ہی مٹی ان کے چہروں کی طرف پھینک دی۔ پھر مشرکین میں سے کوئی بھی نہیں تھا جس کی دونوں آنکھوں،نتھنے اور منہ میں اس ایک مٹھی مٹی سے کچھ نہ کچھ گیا نہ ہو۔ اسی کی بابت اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللّٰهَ رَمَى﴾(۸: ۱۷) ’’جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے پھینکا تو درحقیقت آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم )نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا۔‘‘ جوابی حملہ: اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابی حملے کا حکم اور جنگ کی ترغیب دیتے ہو ئے فرمایا: ’’شدوا‘‘ چڑھ دوڑو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! ان سے جو آدمی بھی ڈٹ کر ، ثواب سمجھ کر ، آگے بڑھ کر اور پیچھے نہ ہٹ کر لڑے گا اور مار اجائے گا اللہ اسے ضرور جنت میں داخل کرے گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتال پر ابھارتے ہوئے یہ بھی فرمایا : اس جنت کی طرف اٹھو جس کی پہنائیاں آسمانوں اور زمین کے برابر ہیں۔ (آپ ؐ کی یہ بات سن کر ) عمیر بن حمام نے کہا : بہت خوب بہت خوب۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بہت خوب بہت خوب ، کیوں کہہ رہے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! کوئی بات نہیں سوائے اس کے کہ مجھے توقع ہے کہ میں بھی اسی جنت والوں میں سے ہوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی اسی جنت والوں میں سے ہو۔ اس کے بعد وہ اپنے توشہ دان سے کچھ کھجوریں نکال کر کھانے لگے۔ پھر بولے : اگر میں اتنی دیر تک زندہ رہا کہ اپنی کھجوریں کھا لوں تو یہ تولمبی زندگی ہوجائے گی، چنانچہ ان کے پاس جو کھجور یں تھیں انہیں پھینک دیا، پھر مشرکین سے لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔[1] اسی طرح مشہور خاتون عفراء کے صاحبزادے عوف بن حارث نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! پروردگار اپنے بندے کی کس بات سے (خوش ہوکر ) مسکراتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اس بات سے کہ بندہ خالی جسم (بغیر حفاظتی ہتھیار پہنے ) اپنا ہاتھ دشمن کے اندر ڈبودے ‘‘ یہ سن کر عوف نے اپنے بدن سے زِرہ اتار پھینکی اور تلو ار لے کر دشمن پر ٹوٹ پڑے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابی حملے کا حکم صادر فرمایا ، دشمن کے حملوں کی تیزی جاچکی تھی اور ان کا جوش و خروش سرد پڑرہا تھا۔ اس لیے یہ باحکمت منصوبہ مسلمانوں کی پوزیشن مضبوط کرنے میں بہت مؤثر ثابت ہوا ، کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جب حملہ آور ہونے کا حکم ملا اور ابھی ان کا جوشِ جہاد شباب پر تھا تو انہوں نے نہایت سخت تند اور صفایا کن حملہ کیا۔ وہ صفوں کی صفیں درہم برہم کرتے اور گردنیں کاٹتے آگے بڑھے۔ ان کے جوش و خروش میں یہ دیکھ کر مزید تیز ی آگئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس زرہ پہنے تیز تیز چلتے تشریف لا رہے ہیں اور پورے یقین وصراحت کے ساتھ فرمارہے ہیں کہ ’’عنقریب یہ جتھہ شکست کھا جائے گا ، اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔‘‘ اس لیے مسلمانوں نے نہایت پُر جوش و پرخروش لڑائی لڑی، اور فرشتوں نے بھی ان کی مدد فرمائی۔ چنانچہ ابن سعد کی روایت میں حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس دن آدمی کا سر کٹ کر گرتا اور یہ پتا نہ چلتا کہ اسے کس نے مارا۔ اور آدمی کاہاتھ کٹ کر گرتا اور یہ پتہ نہ چلتا کہ اسے کس نے کاٹا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان ایک مشرک کا تعاقب کررہا تھا کہ اچانک اس مشرک کے اوپر کو ڑے مارنے کی آواز آئی۔ اور ایک شہسوار کی آواز سنائی پڑی جو کہہ رہا تھا کہ حیزوم! آگے بڑھ۔ مسلمان نے مشرک کو اپنے آگے دیکھا کہ وہ چِت گرا ، لپک کر دیکھا تو اس کی ناک پر چوٹ کا نشان تھا ، چہرہ پھٹا ہوا تھا جیسے کوڑے سے مارا گیا ہو اور یہ سب کا سب ہرا پڑ گیا تھا۔ اس انصاری مسلمان نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ماجرا بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’تم سچ کہتے ہو ، یہ تیسرے آسمان کی مدد تھی۔‘‘[1] ابو داؤد مازنی کہتے ہیں کہ میں ایک مشرک کو مارنے کے لیے دوڑ رہا تھا کہ اچانک اس کا سر میری تلوار پہنچنے سے پہلے ہی کٹ کر گر گیا۔ میں سمجھ گیا کہ اسے میرے بجائے کسی اور نے قتل کیا ہے۔ ایک انصاری حضرت عباس رضی اللہ عنہ بن عبد المطلب کو قید کر کے لایا تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ’’واللہ ! مجھے اس نے قید نہیں کیا ہے ، مجھے تو ایک بے بال کے سر والے آدمی نے قید کیا ہے جو نہایت خوبرو تھا اور چتکبرے گھوڑے پر سوار تھا۔ اب میں اسے لوگوں میں نہیں دیکھ رہا ہو ں۔‘‘ انصاری نے کہا :’’اے اللہ کے رسول! انہیں میں نے قید کیا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خاموش رہو۔ اللہ نے ایک بزرگ فرشتے سے تمہاری مدد فرمائی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے روز مجھ سے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم میں سے ایک کے ساتھ جبرئیل اور دوسرے کے ساتھ میکائیل صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اسرافیل بھی ایک عظیم فرشتہ ہیں جو جنگ میں آیا کرتے ہیں۔ میدان سے ابلیس کا فرار: جیسا کہ ہم بتاچکے ہیں کہ ابلیس لعین ، سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں آیا تھا اور مشرکین سے اب تک جدا نہیں ہوا تھا ، لیکن جب اس نے مشرکین کے خلاف فرشتوں کی کاروائیاں دیکھیں تو اُلٹے پاؤں پلٹ کر بھاگنے لگا ، مگر حارث بن ہشام نے اسے پکڑ لیا ، وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ واقعی سراقہ ہی ہے ، لیکن ابلیس نے حارث کے سینے پر ایسا گھونسامارا کہ وہ گر گیااور ابلیس نکل بھاگا۔ مشرکین کہنے لگے: سراقہ کہا ں جارہے ہو؟ کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم ہمارے مدد گا ر ہو ہم سے جدا نہ ہوگے ؟ اس نے کہا : میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جسے تم نہیں دیکھتے۔ مجھے اللہ سے ڈرلگتا ہے، اور اللہ بڑی سخت سزا والا ہے۔ اس کے بعد بھاگ کر سمندر میں جارہا۔ شکست ِ فاش: تھوڑی دیر بعد مشرکین کے لشکر میں ناکامی اور اضطراب کے آثار نمودار ہوگئے ، ان کی صفیں مسلمانوں کے سخت اور تابڑ توڑ حملوں سے درہم برہم ہونے لگیں اور معرکہ اپنے انجام کے قریب جاپہنچا۔ پھر مشرکین کے جھتے بے ترتیبی کے ساتھ پیچھے ہٹے اور ان میں بھگدڑ مچ گئی۔ مسلمانوں نے مارتے کاٹتے اور پکڑ تے باندھتے ان کا پیچھا کیا، یہاں تک کہ ان کو بھرپور شکست ہوگئی۔ ابو جہل کی اکڑ: لیکن طاغوت اکبر ابو جہل نے جب اپنی صفوں میں اضطراب کی ابتدائی علامتیں دیکھیں تو چاہا کہ اس سیلاب کے سامنے ڈٹ جائے۔ چنانچہ وہ اپنے لشکر کو للکار تا ہوا اکڑ اور تکبر کے ساتھ کہتا جارہا تھا کہ سراقہ کی کنارہ کشی سے تمہیں پست ہمت نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کے ساتھ پہلے سے ساز باز کر رکھی تھی۔ تم پر عتبہ ، شیبہ اور ولید کے قتل کا ہول بھی سوارنہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان لوگوں نے جلد بازی سے کام لیا تھا۔ لات و عزی کی قسم! ہم واپس نہ ہوں گے یہاں تک کہ انہیں رسیوں میں جکڑ لیں۔ دیکھو! تمہارا کوئی آدمی ان کے کسی آدمی کو قتل نہ کرے بلکہ انہیں پکڑو اور گرفتار کرو تاکہ ہم ان کی بُری حرکت کا انہیں مزہ چکھائیں۔ لیکن اسے اس غرور کی حقیقت کا بہت جلد پتہ لگ گیا کیونکہ چند ہی لمحے بعد مسلمانوں کے جوابی حملے کی تندی کے سامنے مشرکین کی صفیں پھٹنا شروع ہوگئیں ، البتہ ابوجہل اب بھی اپنے گر د مشرکین کاا یک غول لیے جماہوا تھا۔ اس غول نے ابوجہل کے چاروں طرف تلواروں کی باڑھ اور نیزوں کا جنگل قائم کررکھا تھا ، لیکن اسلامی ہجوم کی آندھی نے اس باڑھ کو بھی بکھیر دیا اور اس جنگل کو بھی اکھیڑ دیا۔ اس کے بعد یہ طاغوتِ اکبر دکھا ئی پڑا۔ مسلمانوں نے دیکھا کہ وہ ایک گھوڑے پر چکر کاٹ رہا ہے۔ ادھر اس کی موت دوانصاری جوانوں کے ہاتھوں اس کا خون چوسنے کی منتظر تھی۔ ابوجہل کا قتل: حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں جنگ بدر کے روز صف کے اندر تھا کہ اچانک مڑا تو کیا دیکھتا ہو ں کہ دائیں بائیں دو نوعمرجوان ہیں۔ گویا ان کی موجودگی سے میں حیران ہو گیا کہ اتنے میں ایک نے اپنے ساتھی سے چھپا کر مجھ سے کہا :’’چچاجان ! مجھے ابوجہل کو دکھلادیجیے۔‘‘ میں نے کہا :بھتیجے !تم اسے کیا کروگے ؟ اس نے کہا:’’مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے الگ نہ ہوگا یہاں تک کہ ہم میں جس کی موت پہلے لکھی ہے وہ مر جائے۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس پر تعجب ہوا۔ اتنے میں دوسرے شخص نے مجھے اشارے سے متوجہ کرکے یہی بات کہی۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے چند ہی لمحون بعد دیکھا کہ ابو جہل لوگوں کے درمیان چکر کاٹ رہا ہے۔ میں نے کہا :’’ارے دیکھتے نہیں ! یہ رہا تم دونوں کا شکار جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔‘‘ ان کا بیان ہے کہ یہ سنتے ہی وہ دونوں اپنی تلواریں لیے جھپٹ پڑے اور اسے مار کر قتل کردیا۔ پھر پلٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کس نے قتل کیا ہے ؟ دونوں نے کہا : میں نے قتل کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنی اپنی تلواریں پوچھ چکے ہو ؟ بولے نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی تلواریں دیکھیں اور فرمایا : تم دونوں نے قتل کیا ہے۔ البتہ ابو جہل کا سامان معاذبن عَمرو بن جموح کو دیا۔ دونوں حملہ آوروں کا نام معاذبن عَمر و بن جموح اور معاذ بن عفراء ہے۔ [1] ابن ِ اسحاق کا بیان ہے کہ معاذ بن عمرو بن جموح نے بتلایا کہ میں نے مشرکین کو سنا وہ ابو جہل کے بارے میں جو گھنے درختوں جیسی ۔ نیزوں اور تلواروں کی ۔ باڑھ میں تھا کہہ رہے تھے: ابو الحکم تک کسی کی رسائی نہ ہو۔ معاذ رضی اللہ عنہ بن عمرو کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ بات سنی تو اسے اپنے نشانے پر لے لیا اور اس کی سمت جمارہا۔ جب گنجائش ملی تومیں نے حملہ کر دیا اور ایسی ضرب لگائی کہ اس کا پاؤں نصف پنڈلی سے اڑ گیا۔ واللہ! جس وقت یہ پاؤں اڑا ہے تو میں اس کی تشبیہ صرف اس گٹھلی سے دے سکتا ہوں جو موسل کی مار پڑنے سے جھٹک کر اڑ جائے۔ ان کابیان ہے کہ ادھر میں نے ابو جہل کو مارا اور ادھر اس کے بیٹے عکرمہ نے میرے کندھے پر تلوار چلا ئی جس سے میرا ہاتھ کٹ کر میرے بازو کے چمڑ ے سے لٹک گیا اور لڑائی میں مخل ہونے لگا۔ میں اسے اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے سارا دن لڑا ، لیکن جب وہ مجھے اذیت پہنچانے لگا تو میں نے اس پر اپنا پاؤں رکھا اور اسے زور سے کھینچ کر الگ کردیا [1]اس کے بعد ابوجہل کے پاس معوذ رضی اللہ عنہ بن عفراء پہنچے۔ وہ زخمی تھا۔ انہوں نے اسے ایسی ضرب لگائی کہ وہ وہیں ڈھیر ہوگیا صرف سانس آتی جاتی رہی۔ اس کے بعد معوذ بن عفراء بھی لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ جب معرکہ ختم ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’کون ہے جو دیکھے کہ ابو جہل کا انجام کیاہو ا۔‘‘ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی تلاش میں بکھر گئے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے اس حالت میں پایا کہ ابھی سانس آجارہی تھی۔ انہوں نے اس کی گردن پر پاؤں رکھا اور سر کاٹنے کے لیے ڈاڑھی پکڑی اور فرمایا : او اللہ کے دشمن ! آخر اللہ نے تجھے رسوا کیا نا ؟ اس نے کہا : ’’مجھے کاہے کو رسوا کیا ؟ کیا جس شخص کوتم لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے بھی بلند پایہ کوئی آدمی ہے‘‘؟’’یا جس کو تم لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے بھی اوپر کوئی آدمی ہے ؟‘‘ پھر بو لا : ’’کاش ! مجھے کسانوں کے بجائے کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔‘‘ اس کے بعد کہنے لگا : ’’مجھے بتاؤ آج فتح کس کی ہوئی ؟ ‘‘ حضرت عبد ا للہ بن مسعود نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول کی۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعودسے ۔ جو اس کی گردن پر پاؤں رکھ چکے تھے ۔ کہنے لگا : او بکری کے چرواہے ! تو بڑی اونچی اور مشکل جگہ پر چڑھ گیا۔ واضح رہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مکے میں بکریاں چرایا کرتے تھے۔ اس گفتگو کے بعد عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کا سر کاٹ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لاکر حاضر کر تے ہوئے عرض کیا :’’یارسول اللہ !یہ رہا اللہ کے دشمن ابوجہل کا سر۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ’’واقعی۔ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘ اس کے بعد فرمایا : ((اللّٰه أکبر، الحمد للّٰه الذی صدق وعدہ ونصر عبدہ وہزم الأحزاب وحدہ)) ’’اللہ اکبر ، تمام حمد اللہ کے لیے ہے جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھا یا ، اپنے بندے کی مدد فرمائی ، اور تنہا سارے گروہوں کو شکست دی۔‘‘ پھر فرمایا : چلو مجھے اس کی لاش دکھاؤ۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جاکر لاش دکھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اس امت کا فرعون ہے۔ ایمان کے تابناک نقوش: حضرت عمیر بن الحمام اور حضرت عوف بن حارث ابن عَفراء کے ایمان افروز کارناموں کا ذکر پچھلے صفحات میں آچکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معرکے میں قدم قدم پر ایسے مناظر پیش آئے جن میں عقیدے کی قوت اور اصول کی پختگی نمایاں اور جلوہ گر تھی۔ اس معرکے میں باپ اور بیٹے میں بھائی اور بھائی میں صف آرائی ہوئی۔ اصولوں کے اختلاف پر تلواریں بے نیام ہوئیں اور مظلوم ومقہور نے ظالم وقاہر سے ٹکر ا کر اپنے غصے کی آگ بجھائی۔ 1۔ابن اسحاق نے ابن ِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا :’’مجھے معلوم ہے کہ بنو ہاشم وغیرہ کے کچھ لوگ زبردستی میدانِ جنگ میں لائے گئے ہیں۔ انھیں ہماری جنگ سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ لہٰذا بنو ہاشم کا کوئی آدمی کسی کی زد میں آجائے تو وہ اسے قتل نہ کرے۔ ابو البختری بن ہشام کسی کی زد میں آجائے تو وہ اُسے قتل نہ کرے اور عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کسی کی زد میں آجائیں تو وہ بھی انہیں قتل نہ کرے کیونکہ وہ بالجبر لائے گئے ہیں۔‘‘ اس پر عُتبہ کے صاحبزادے حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا :’’کیا ہم اپنے باپ بیٹوں ، بھائیوں اور کنبے قبیلے کے لوگوں کو قتل کریں گے اور عباس کو چھوڑ دیں گے اللہ کی قسم ! اگر اس سے میری مڈبھیڑ ہوگئی تو میں تو اسے تلوار کی لگام پہنادوں گا ‘‘ یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے چہرے پر تلوار ماری جائے گی ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:’’یارسول اللہ ! مجھے چھوڑیے میں تلوارسے اِس شخص کی گردن آڑا دوں۔ کیونکہ واللہ! یہ شخص منافق ہو گیا ہے۔‘‘ بعد میں ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے ، اس دن میں نے جو بات کہہ دی تھی اس کی وجہ سے میں مطمئن نہیں ہوں۔ برابر خوف لگا رہتا ہے۔ صرف یہی صورت ہے کہ میری شہادت اس کا کفارہ بن جائے اور بالآخر وہ یمامہ کی جنگ میں شہید ہوہی گئے۔ 2۔ ابو البختری کو قتل کرنے سے اس لیے منع کیا گیا تھا کہ مکے میں یہ شخص سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا رسانی سے اپنا ہاتھ روکے ہوئے تھا۔ آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچا تا تھا اور نہ اس کی طرف سے کوئی ناگوار بات سننے میں آئی تھی ، اور یہ ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے بنی ہاشم اور بنی مطلب کے بائیکاٹ کا صحیفہ چاک کیا تھا۔ لیکن ان سب کے باوجود ابو البختری قتل کر دیا گیا۔ ہوا یہ کہ حضرت مجذر رضی اللہ عنہ بن زیاد بلوی سے اس کی مڈبھیڑ ہوگئی۔ اس کے ساتھ اس کا ایک اور ساتھی بھی تھا۔ دونوں ساتھ ساتھ لڑ رہے تھے۔ حضرت مجذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’ابوالبختری ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آپ کو قتل کرنے سے منع کیا ہے۔‘‘ اس نے کہا : اور میرا ساتھی ؟ حضرت مجذر رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں ، واللہ! ہم آپ کے ساتھی کو نہیں چھوڑسکتے۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم! تب میں اور وہ دونوں مریں گے۔ اس کے بعد دونوں نے لڑائی شروع کردی۔ مجذر رضی اللہ عنہ نے مجبورا ً اسے بھی قتل کردیا۔ 3۔ مکے کے اندر جاہلیت کے زمانے سے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور اُمیہ بن خلف میں باہم دوستی تھی۔ جنگ بدر کے روز امیہ اپنے لڑکے علی کا ہاتھ پکڑے کھڑا تھا کہ اتنے میں ادھر سے حضرت عبد الرحمن بن عوف کا گزر ہوا۔ وہ دشمن سے کچھ زِرہیں چھین کر لادے لیے جارہے تھے۔ اُمیہ نے انہیں دیکھ کر کہا :’’کیاتمہیں میری ضرورت ہے ؟ میں تمہاری ان زِرہوں سے بہتر ہوں۔ آج جیسا منظر تومیں نے دیکھا نہیں۔ کیا تمہیں دودھ کی حاجت نہیں ‘‘؟ …مطلب یہ تھا کہ جو مجھے قید کرے گا میں اسے فدیے میں خوب دودھیل اونٹنیاں دوں گا…یہ سن کر عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے زِرہیں پھینک دیں اور دونوں کو گرفتار کر کے آگے بڑھے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں امیہ اور اس کے بیٹے کے درمیان چل رہاتھا کہ اُمیہ نے پوچھا : آپ لوگوں میں وہ کون سا آدمی تھا جو اپنے سینے پر شتر مرغ کا پَر لگائے ہوئے تھا ؟ میں نے کہا : وہ حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ تھے۔ اُمیہ نے کہا : یہی شخص ہے جس نے ہماری اندر تباہی مچا رکھی تھی۔ حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ واللہ! میں ان دونوں کو لیے جارہا تھا کہ اچانک حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے امیہ کو میرے ساتھ دیکھ لیا ۔ یادرہے کہ امیہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو مکے میں ستایا کرتا تھا…حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اوہو! کفار کا سرغنہ، امیہ بن خلف ! اب یا تو میں بچوں گا یا یہ بچے گا۔ میں نے کہا: اے بلال رضی اللہ عنہ ! یہ میرا قیدی ہے ، انہوں نے کہا : اب یاتو میں رہوں گا یایہ رہے گا۔ پھر نہایت بلند آواز سے پکار ا:’’اے اللہ کے انصارو ! یہ رہاکفار کا سرغنہ اُمیہ بن خلف ، اب یاتو میں رہوں گا یا یہ رہے گا۔‘‘ حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اتنے میں لوگوں نے ہمیں کنگن کی طرح گھیرے میں لے لیا۔ میں ان کا بچاؤ کر رہا تھا مگر ایک آدمی نے تلوار سونت کر اس کے بیٹے کے پاؤں پر ضرب لگائی اور وہ تیورا کر گر گیا۔ اُدھر اُمیہ نے اتنے زور کی چیخ ماری کہ میں نے ویسی چیخ کبھی سنی ہی نہ تھی۔ میں نے کہا : نکل بھاگو ، مگر آج بھاگنے کی گنجائش نہیں ، اللہ کی قسم ! میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ لوگوں نے اپنی تلوار وں سے ان دونوں کو کاٹ کر ان کاکام تمام کردیا۔ اس کے بعد حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے :’’اللہ بلال رضی اللہ عنہ پر رحم کرے۔ میری زِرہیں بھی گئیں اور میرے قیدی کے بارے میں مجھے تڑ پا بھی دیا۔‘‘ زاد المعاد میں علامہ ابن قیم نے لکھا ہے کہ عبد الرحمن رضی اللہ عنہ بن عوف نے اُمیہ بن خلف سے کہا کہ گھٹنوں کے بل بیٹھ جاؤ۔ وہ بیٹھ گیا اور حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو اس کے اوپر ڈال لیا، لیکن لوگوں نے نیچے سے تلوار مار کر اُمیہ کو قتل کردیا۔ بعض تلواروں سے حضرت عبدالرحمن بن عوف کا پاؤں بھی زخمی ہوگیا۔[1] 4۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیااور قرابت کی کوئی پروا نہ کی۔ بلکہ مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس کو قید میں پاکر کہا : اے عباس ! اسلام لائیے ، واللہ آپ اسلام لائیں تو یہ میرے نزدیک خطاب کے بھی اسلام لانے سے زیادہ پسند ہے اور ایسا صرف اس لیے ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کا اسلام لانا پسند ہے۔ 5۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبد الرحمن کو ۔جو اس وقت مشرکین کے ہمراہ تھے ۔ پکارکر کہا : اوخبیث ! میرا مال کہا ں ہے ؟ عبد الر حمن نے کہا : لم یبق غیر شکۃ ویعبوب وصارم یقتل ضلال الشیب ’’ہتھیار ، تیز روگھوڑے اور اس تلوار کے سوا کچھ باقی نہیں جو بڑھاپے کی گمراہی کا خاتمہ کرتی ہے۔ ‘‘ 6۔ جس وقت مسلمانوں نے مشرکین کی گرفتاری شروع کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپر میں تشریف فرماتھے اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تلوار حمائل کیے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے چہرے پر لوگوں کی اس حرکت کا ناگوار اثر پڑ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’اے سعد ! واللہ! ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تم کو مسلمانوں کا یہ کام ناگوار ہے۔‘‘ انہوں نے کہا : جی ہاں ! اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول ! یہ اہل ِ شرک کے ساتھ پہلا معرکہ ہے جس کا موقع اللہ نے ہمیں فراہم کیا ہے۔ اس لیے اہلِ شرک کو باقی چھوڑنے کے بجائے مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے اور اچھی طرح کچل دیا جائے۔‘‘ 7۔ اس جنگ میں حضرت عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کی تلوار ٹوٹ گئی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے انہیں لکڑی کا ایک پھٹا تھمادیا اور فرمایا: عکاشہ رضی اللہ عنہ ! اسی سے لڑائی کرو۔ عکاشہ رضی اللہ عنہ نے اسے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر ہلا یا تو وہ ایک لمبی ، مضبوط اور چم چم کرتی ہوئی سفید تلوار میں تبدیل ہوگیا۔ پھر انہو ں نے اسی سے لڑائی کی یہاں تک کہ اللہ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔ اس تلوار کا نام عون ____یعنی مدد ___رکھا گیا تھا۔ یہ تلوار مستقلاً حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ کے پاس رہی اوروہ اسی کو لڑائیوں میں استعمال کرتے رہے یہاں تک کہ دَورِ صدیقی میں مرتدین کے خلاف جنگ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اس وقت بھی یہ تلوار اُن کے پاس ہی تھی۔ 8۔ خاتمۂ جنگ کے بعد حضرت مُصعب بن عمیر عبدری رضی اللہ عنہ اپنے بھائی ابو عزیر بن عُمیر عبدری کے پاس سے گزرے۔ ابو عزیز نے مسلمانوں کے خلاف جنگ لڑی تھی اور اس وقت ایک انصاری صحابی اِس کا ہاتھ باندھ رہے تھے۔ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ نے اس انصاری سے کہا : ’’اس شخص کے ذریعے اپنے ہاتھ مضبوط کرنا، اس کی ماں بڑی مالدار ہے وہ غالبا ً تمہیں اچھا فدیہ دے گی ۔‘‘ اس پر ابوعزیز نے اپنے بھائی مُصعب رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا میرے بارے میں تمہاری یہی وصیت ہے ؟ حضرت مصعب نے فرمایا : (ہاں) تمہارے بجائے یہ …انصاری …میرا بھائی ہے۔ 9۔ جب مشرکین کی لاشوں کو کنویں میں ڈالنے کا حکم دیا گیا اور عتبہ بن ربیعہ کو کنویں کی طرف گھسیٹ کر لے جایا جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے صاحبزادے حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر نظر ڈالی ، دیکھا تو غمزدہ تھے ، چہرہ بدلا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ابو حذیفہ ! غالبا ً اپنے والد کے سلسلے میں تمہارے دل کے اندر کچھ احساسات ہیں ؟‘‘ انہوں نے کہا :’’ نہیں واللہ، یا رسول اللہ ! میرے اندر اپنے باپ کے بارے میں اور ان کے قتل کے بارے میں ذرا بھی لرزش نہیں۔ البتہ میں اپنے باپ کے متعلق جانتا تھا کہ ان میں سوجھ بوجھ ہے۔ دوراندیشی اور فضل وکمال ہے، اس لیے میں آس لگائے بیٹھا تھا کہ یہ خوبیاں انہیں اسلام تک پہنچادیں گی ، لیکن اب ان کا انجام دیکھ کر اور اپنی توقع کے خلاف کفر پر ان کا خاتمہ دیکھ کر مجھے افسوس ہے۔‘‘ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دعائے خیر فرمائی اور ان سے بھلی بات کہی۔ فریقین کے مقتو لین : یہ معرکہ ، مشرکین کی شکست ِ فاش اور مسلمانوں کی فتح ِ مبین پر ختم ہوا۔ اور اس میں چودہ مسلمان شہید ہوئے۔ چھ مہاجرین میں سے اور آٹھ انصار میں سے ، لیکن مشرکین کو بھاری نقصان اٹھا نا پڑا۔ ان کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر قید کیے گئے جو عموماً قائد ، سردار اوربڑے بڑے سر بر آوردہ حضرات تھے۔ خاتمۂ جنگ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولین کے پاس کھڑے ہوکر فرمایا : تم لوگ اپنے نبی کے لیے کتنا برا کنبہ اور قبیلہ تھے۔ تم نے مجھے جھٹلایا جبکہ اوروں نے میری تصدیق کی۔ تم نے مجھے بے یارومددگار چھوڑا جبکہ اوروں نے میری تائید کی۔ تم نے مجھے نکالا جبکہ اوروں نے مجھے پناہ دی۔‘‘ اس کے بعد آپ نے حکم دیا اور انہیں گھسیٹ کر بدر کے ایک کنویں میں ڈال دیا گیا۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے بدر کے روز قریش کے چوبیس بڑے بڑے سرداروں کی لاشیں بدر کے ایک گندے خبیث کنویں میں پھینک دی گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستورتھا کہ آپ جب کسی قوم پر فتح یاب ہوتے تو تین دن میدانِ جنگ میں قیام فرماتے تھے۔ چنانچہ جب بدر میں تیسرا دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسب الحکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر کجاوہ کسا گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چلے اور پیچھے پیچھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی چلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کی بار پر کھڑے ہوگئے۔ پھر انہیں ان کا اور ان کے باپ کا نام لے لے کر پکارنا شروع کیا۔ اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں ! کیا تمہیں یہ بات خوش آتی ہے کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول ؐ کی اطاعت کی ہوتی؟ کیونکہ ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے ہم نے برحق پایا تو کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے برحق پایا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ! آپ ایسے جسموں سے کیاباتیں کررہے ہیں جن میں رُوح ہی نہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اسے تم لوگ ان سے زیادہ نہیں سن رہے ہو۔ ایک اور روایت میں ہے کہ تم لوگ ان سے زیادہ سننے والے نہیں لیکن یہ لوگ جواب نہیں دے سکتے۔ [1] مکے میں شکست کی خبر: مشرکین نے میدانِ بدر سے غیر منظم شکل میں بھاگتے ہوئے تتر بتر ہو کر گھبراہٹ کے عالم میں مکے کا رخ کیا۔ شرم وندامت کے سبب ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کس طرح مکے میں داخل ہوں۔ ابن ِ اسحاق کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جو شخص قریش کی شکست کی خبر لے کر مکے وارد ہوا وہ حَیْسمان بن عبد اللہ خزاعی تھا۔ لوگوں نے اس سے دریافت کیا کہ پیچھے کی کیا خبر ہے ؟ اس نے کہا : عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ابو الحکم بن ہشام ، اُمیہ بن خلف …اورمزید کچھ سرداروں کا نام لیتے ہوئے …یہ سب قتل کردیئے گئے۔ جب اس نے مقتولین کی فہرست میں اشراف قریش کو گنا نا شروع کیا تو صفوان بن اُمیہ نے جو حطیم میں بیٹھا تھا کہا: اللہ کی قسم! اگر یہ ہوش میں ہے تو اس سے میرے متعلق پوچھو۔ لوگوں نے پوچھا: صفوان بن امیہ کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا : وہ تو وہ دیکھو ! حطیم میں بیٹھا ہوا ہے۔ واللہ! اس کے باپ اور اس کے بھائی کو قتل ہوتے ہوئے میں نے خود دیکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ ابورافع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں ان دنوں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا غلام تھا۔ ہمارے گھر میں اسلام داخل ہوچکا تھا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ مسلمان ہوچکے تھے ، امّ الفضل رضی اللہ عنہ مسلمان ہو چکی تھیں ، میں بھی مسلمان ہو چکا تھا ، البتہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا اسلا م چھپا رکھا تھا۔ ادھر ابو لہب جنگ بدر میں حاضر نہ ہوا تھا۔ جب اسے خبر ملی تو اللہ نے اس پر ذلت و روسیاہی طاری کردی اور ہمیں اپنے اندر قوت وعزت محسوس ہوئی۔ میں کمزور آدمی تھا تیر بنایا کرتا تھا اور زمزم کے حجرے میں بیٹھا تیر کے دستے چھیلتا رہتا تھا۔ واللہ ! اس وقت میں حجرے میں بیٹھا اپنے تیر چھیل رہا تھا۔ میرے پاس اُم ّ الفضل رضی اللہ عنہ بیٹھی ہوئی تھیں اور جو خبر آئی تھی اس سے ہم شاداں وفرحاں تھے کہ اتنے میں ابو لہب اپنے دونوں پاؤں بری طرح گھسیٹتا ہواآپہنچا اور حجرے کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ اس کی پیٹھ میری پیٹھ کی طرف تھی۔ ابھی وہ بیٹھا ہی ہوا تھا کہ اچانک شور ہوا: یہ ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب آگیا۔ ابو لہب نے اس سے کہا: میرے پاس آؤ ، میری عمر کی قسم ! تمہارے پاس خبر ہے۔ وہ ابو لہب کے پاس بیٹھ گیا۔ لوگ کھڑے تھے۔ ابو لہب نے کہا: بھتیجے بتاؤ لوگوں کا کیا حال رہا ؟ اس نے کہا : کچھ نہیں۔ بس لوگوں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی اور ہم نے اپنے کندھے ان کے حوالے کردیئے۔ وہ ہمیں جیسے چاہتے تھے قتل کرتے تھے اور جیسے چاہتے تھے قید کرتے تھے ، اور اللہ کی قسم! میں اس کے باوجود لوگوں کو ملامت نہیں کر سکتا۔ درحقیقت ہماری مڈبھیڑ کچھ ایسے گورے چٹے لوگوں سے ہوئی تھی جو آسمان وزمین کے درمیان چتکبرے گھوڑوں پر سوار تھے۔ اللہ کی قسم! نہ وہ کسی چیز کو چھوڑتے تھے اور نہ کوئی چیز ان کے مقابل ٹک پاتی تھی۔ ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے خیمے کا کنارہ اٹھا یا ، پھر کہا : وہ اللہ کی قسم فرشتے تھے ؟ یہ سن کر ابو لہب نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور میرے چہرے پر زور دار تھپڑ رسید کیا۔ میں اس سے لڑ پڑا۔ لیکن اس نے مجھے اٹھا کر زمین پر پٹک دیا۔ پھر میرے اوپر گھٹنے کے بل بیٹھ کر مجھے مارنے لگا۔ میں کمزور جو ٹھہرا، لیکن اُم ّ الفضل نے اٹھ کر خیمے کا ایک کھمبا لیا اور اسے ایسی ضرب ماری کہ سر میں بُری چوٹ آگئی اور ساتھ ہی بولیں: اس کا مالک نہیں ہے اس لیے اسے کمزور سمجھ رکھا ہے ؟ ابولہب رسوا ہو کر اٹھا اور چلا گیا۔ اس کے بعد اللہ کی قسم صرف سات راتیں گزری تھیں کہ اللہ نے اسے عدسہ (ایک قسم کے طاعون ) میں مبتلا کردیا اوراس کا خاتمہ کردیا۔ عدسہ کی گلٹی کو عرب بہت منحوس سمجھتے تھے ، چنانچہ (مرنے کے بعد ) اس کے بیٹوں نے بھی اسے یوں ہی چھوڑ دیا اور وہ تین روز تک بے گور وکفن پڑا رہا۔کوئی اس کے قریب نہ جاتا تھا اور نہ اس کی تدفین کی کوشش کرتا تھا۔ جب اس کے بیٹوں کو خطرہ محسوس ہو اکہ اس طرح چھوڑنے پر لوگ انہیں ملامت کریں گے تو ایک گڑھا کھود کر اسی میں لکڑی سے اس کی لاش دھکیل دی اور دور ہی سے پتھر پھینک پھینک کر چھپادی۔ غرض اس طرح اہل ِ مکہ کو میدان ِ بدر کی شکست ِ فاش کی خبر ملی اور ان کی طبیعت پر اس کا نہایت برا اثر پڑا حتیٰ کہ انہوں نے مقتولین پر نوحہ کرنے کی ممانعت کردی تاکہ مسلمانوں کو اس کے غم پر خوش ہونے کا موقع نہ ملے۔ اس سلسلے کاا یک دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں اسود بن عبد المطلب کے تین بیٹے مارگئے، اس لیے وہ ان پر رونا چاہتا تھا۔ وہ اندھا آدمی تھا۔ ایک رات اس نے نوحہ کرنے والی عورت کی آواز سنی۔ جھٹ اپنے غلام کو بھیجا اور کہا :’’ذرا ، دیکھو ! کیا نوحہ کرنے کی اجازت مل گئی ہے ؟ کیا قریش اپنے مقتولین پر رورہے ہیں تاکہ میں بھی ____اپنے بیٹے …ابو حکیمہ پر روؤں ، کیونکہ میرا سینہ جل رہا ہے۔‘‘ غلام نے واپس آکر بتا یا کہ یہ عورت تو اپنے گم شدہ اُونٹ پر رورہی ہے۔ اسود یہ سن کر اپنے آپ پر قابو نہ پاس کا اور بے اختیار کہہ پڑا : أتبکی أن یضل لہا بعیر ویمنعہا من النوم السہود فلا تبکی علی بکر ولکن علی بدر تقاصرت الجدود علي بدر سراۃ بنی ہصیص ومخزوم ورہط أبی الولید وبکی إن بکیت علی عقیل وبکي حارثاً أسد الأسود وبکیہم ولا تسمي جمیعاً وما لأبی حکیمۃ من ندید ألا قد ساد بعدہم رجال ولولا یوم بدر لم یسودوا ’’کیا وہ اس بات پر روتی ہے کہ اس کاا ونٹ غائب ہوگیا ؟ اور اس پر بے خوابی نے اس کی نیند حرام کر رکھی ہے ؟ تو اونٹ پر نہ رو بلکہ بدر پر روجہاں قسمتیں پھوٹ گئیں۔ ہاں ہاں ! بدر پر رو جہاں بنی ہصیص، بنی مخزوم اور ابو الولید کے قبیلے کے سر بر آوردہ افراد ہیں۔ اگر روناہی ہے تو عقیل پر رو اور حارث پر رو جو شیروں کا شیر تھا، تو ان لوگوں پر رو اورسب کا نام نہ لے اور ابوحکیمہ کا تو کوئی ہمسر ہی نہ تھا۔ دیکھو ! ان کے بعد ایسے ایسے لوگ سردار ہوگئے کہ اگر بدر کا دن نہ ہوتا تو وہ سردار نہ ہوسکتے تھے۔‘‘ مدینے میں فتح کی خوش خبر ی: ادھر مسلمانوں کی فتح مکمل ہوچکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ِ مدینہ کو جلد از جلد خوشخبری دینے کے لیے دو قاصدروانہ فرمائے۔ ایک حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ جنہیں عوالی (بالائی مدینہ ) کے باشندوں کے پاس بھیجا گیا تھا اور دوسرے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جنہیں زیرین مدینہ کے باشندوں کے پاس بھیجا گیا تھا۔ اس دوران یہود اور منافقین نے جھوٹے پر وپیگنڈے کر کر کے مدینے میں ہلچل بپاکر رکھی تھی یہاں تک کہ یہ خبر بھی اڑا رکھی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے ہیں ، چنانچہ جب ایک منافق نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قَصْوَاء پر سوار آتے دیکھا تو بول پڑا :’’واقعی محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل کردیئے گئے ہیں۔ دیکھو ! یہ تو انھی کی اونٹنی ہے۔ ہم اسے پہچانتے ہیں ، اور یہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ہے ، شکست کھا کر بھاگا ہے اور ا س قدر مرعوب ہے کہ اس کی سمجھ میں نہیں اتا کہ کیا کہے۔‘‘ بہرحال جب دونوں قاصد پہنچے تو مسلمانوں نے انہیں گھیر لیا اور ان سے تفصیلات سننے لگے حتیٰ کہ انہیں یقین آگیا کہ مسلمان فتح یاب ہوئے ہیں۔ اس کے بعد ہر طرف مسرت وشادمانی کی لہر دوڑ گئی اور مدینے کے دَرو بام تہلیل وتکبیر کے نعروں سے گونج اُٹھے اور جو سربر آوردہ مسلمان مدینے میں رہ گئے تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فتح مبین کی مبارک باد دینے کے لیے بدر کے راستے پر نکل پڑے۔ حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہمارے پاس اس وقت خبر پہنچی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کو ، جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں ، دفن کر کے قبر پر مٹی برابر کر چکے تھے۔ ان کی تیمار داری کے لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ مجھے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے ہی میں چھوڑ دیا تھا۔ مالِ غنیمت کا مسئلہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معرکہ ختم ہونے کے بعد تین دن بدر میں قیام فرمایا ، اور ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدانِ جنگ سے کوچ نہیں فرمایا تھا کہ مالِ غنیمت کے بارے میں لشکر کے اندر اختلاف پڑگیا اور جب یہ اختلاف شدت اختیار کر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس کے پاس جو کچھ ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کردے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس حکم کی تعمیل کی اور اس کے بعد اللہ نے وحی کے ذریعہ اس مسئلے کا حل نازل فرمایا۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے سے نکلے اور بدر میں پہنچے۔ لوگوں سے جنگ ہوئی اور اللہ نے دشمن کو شکست دی۔ پھر ایک گروہ ان کے تعاقب میں لگ گیا اور انہیں کھدیڑ نے اور قتل کرنے لگا اور ایک گروہ مالِ غنیمت پر ٹوٹ پڑا اور اسے بٹورنے اور سمیٹنے لگا اور ایک گروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھیرا ڈالے رکھا کہ مبادا دشمن دھوکے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی اذیت پہنچادے۔ جب رات آئی اور لوگ پلٹ پلٹ کر ایک دوسرے کے پاس پہنچے تو مالِ غنیمت جمع کرنے والوں نے کہا کہ ہم نے اسے جمع کیا ہے، لہٰذا اس میں کسی اور کا کوئی حصہ نہیں۔ دشمن کا تعاقب کرنے والوں نے کہا :’’تم لوگ ہم سے بڑھ کر اس کے حق دار نہیں کیونکہ اس مال سے دشمن کو بھگانے اور دور رکھنے کاکام ہم نے کیا تھا۔‘‘ اور جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرما رہے تھے انہوں نے کہا :’’ہمیں یہ خطرہ تھا کہ دشمن آپ کو غفلت میں پاکر کوئی اذیت نہ پہنچا دے اس لیے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں مشغول رہے۔‘‘ اس پراللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : ﴿ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ للّٰهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللّٰهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ (۸: ۱) ’’لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مال ِ غنیمت کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دو غنیمت اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے، پس اللہ سے ڈرو ، اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرلو اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اگر واقعی تم لوگ مومن ہو۔‘‘ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرمادیا۔[1]