الرحیق المختوم

غزوۂ اُحد

انتقامی جنگ کے لیے قریش کی تیاریاں: اہل ِ مکہ کو معرکہ ٔ بدر میں شکست وہزیمت کی جو زک اور اپنے صَنادید واَشراف کے قتل کا جو صدمہ برداشت کرنا پڑا تھا اس کے سبب وہ مسلمانوں کے خلاف غیظ و غضب سے کھول رہے تھے، حتیٰ کہ انہوں نے اپنے مقتولین پر آہ وفغاں کرنے سے بھی روک دیاتھا اور قیدیوں کے فدیے کی ادائیگی میں بھی جلد بازی کا مظاہرہ کرنے سے منع کردیا تھا تاکہ مسلمان ان کے رنج وغم کی شدت کا اندازہ نہ کرسکیں۔پھر انہوں نے جنگ ِ بدر کے بعد یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ مسلمانوں سے ایک بھر پور جنگ لڑکر اپنا کلیجہ ٹھنڈا کریں اور اپنے جذبۂ غیظ وغضب کو تسکین دیں۔ اور اس کے ساتھ ہی اس طرح کی معرکہ آرائی کی تیاری بھی شروع کردی۔ اس معاملے میں سردارانِ قریش میں سے عِکرمَہ بن ابی جہل ، صفوان بن امیہ ، ابو سفیان بن حرب ، اور عبد اللہ بن ربیعہ زیادہ پُر جوش تھے اور سب سے پیش پیش تھے۔ ان لوگوں نے اس سلسلے میں پہلا کام یہ کیا کہ ابو سفیان کا وہ قافلہ جو جنگ ِ بدر کا باعث بنا تھا اور جسے ابوسفیان بچاکر نکال لے جانے میں کامیاب ہوگیا تھا ، اس کا سارا مال جنگی اخراجات کے لیے روک لیا اور جن لوگوں کا مال تھا ان سے کہا کہ اے قریش کے لوگو! تمہیں محمد ؐ نے سخت دھچکا لگایا ہے اور تمہارے منتخب سرداروں کو قتل کر ڈالا ہے۔ لہٰذا ان سے جنگ کرنے کے لیے اس مال کے ذریعے مدد کرو ، ممکن ہے کہ ہم بدلہ چکالیں۔ قریش کے لوگوں نے اسے منظور کر لیا۔ چنانچہ یہ سارامال جس کی مقدار ایک ہزار اونٹ اور پچاس ہزار دینار تھی ، جنگ کی تیاری کے لیے بیچ ڈالا گیا۔ اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے : ﴿ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللّٰهِ فَسَيُنْفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ ﴾(۸: ۳۶) ’’جن لوگوں نے کفر کیا وہ اپنے اموال اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے خرچ کریں گے۔ تو یہ خرچ توکریں گے لیکن پھر یہ ان کے لیے باعث حسرت ہوگا۔ پھر مغلوب کیے جائیں گے۔‘‘ پھر انہوں نے رضاکارانہ جنگی خدمات کا دروازہ کھول دیا کہ جو اَحَابِیش ، کنانہ اور اہل ِ تِہامہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک ہونا چاہیں وہ قریش کے جھنڈے تلے جمع ہوجائیں۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے ترغیب وتحریص کی مختلف صورتیں بھی اختیار کیں ، یہاں تک کہ ابو عزہ شاعر جو جنگ بدر میں قید ہوا تھا اور جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عہد لے کر کہ اب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کبھی نہ اٹھے گا ازراہِ احسان بلا فدیہ چھوڑدیا تھا ، اسے صفوان بن امیہ نے ابھا را کہ وہ قبائل کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کاکام کرے اور اس سے یہ عہد کیا کہ اگروہ لڑائی سے بچ کر زندہ وسلامت واپس آگیا تو اسے مالا مال کردے گا، ورنہ اس کی لڑکیوں کی کفالت کرے گا۔ چنانچہ ابو عزہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیے ہوئے عہد وپیمان کو پسِ پشت ڈال کر جذباتِ غیرت وحمیت کو شعلہ زن کر نے والے اشعار کے ذریعے قبائل کو بھڑکانا شروع کردیا۔ اسی طرح قریش نے ایک اور شاعر مسافع بن عبد مناف جُمحی کو اس مہم کے لیے تیار کیا۔ ادھر ابو سفیان نے غزوہ سَویق سے ناکام ونامراد بلکہ سامان رسد کی ایک بہت بڑی مقدار سے ہاتھ دھو کر واپس آنے کے بعد مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو ابھارنے اور بھڑکانے میں کچھ زیادہ ہی سرگرمی دکھائی۔ پھر اخیر میں سریہ زید رضی اللہ عنہ بن حارثہ کے واقعے سے قریش کو جس سنگین اور اقتصادی طور پر کمر توڑ خسارے سے دوچار ہوناپڑا اور انہیں جس قدر بے اندازہ رنج والم پہنچا اس نے آگ پر تیل کاکام کیا اور اس کے بعد مسلمانوں سے ایک فیصلہ کن جنگ لڑنے کے لیے قریش کی تیاری کی رفتار میں بڑی تیز ی آگئی۔ قریش کا لشکر ، سامانِ جنگ اور کمان: چنانچہ سال پورا ہوتے ہوتے قریش کی تیاری مکمل ہوگئی۔ ان کے اپنے افراد کے علاوہ ان کے حلیفوں اور احابیش کو ملا کر مجموعی طور پر کل تین ہزار فوج تیار ہوئی۔ قائدین قریش کی رائے ہوئی کہ اپنے ساتھ عورتیں بھی لے چلیں تاکہ حرمت وناموس کی حفاظت کا احساس کچھ زیادہ ہی جذبہ جان سپاری کے ساتھ لڑنے کا سبب بنے۔ لہٰذا اس لشکر میں ان کی عورتیں بھی شامل ہوئیں جن کی تعداد پندرہ تھی۔ سواری وبار برداری کے لیے تین ہزار اونٹ تھے اور رسالے کے لیے دوسو گھوڑے۔[1]ان گھوڑوں کو تازہ دم رکھنے کے لیے انہیں پورے راستے بازو میں لے جایا گیا، یعنی ان پر سواری نہیں کی گئی۔ حفاظتی ہتھیاروں میں سات سو زِر ہیں تھیں۔ ابو سفیان کو پورے لشکر کا سپہ سالار مقرر کیا گیا۔ رسالے کی کمان خالد بن ولید کو دی گئی اور عکرمہ بن ابی جہل کو ان کا معاون بنایا گیا۔ پرچم مقررہ دستور کے مطابق قبیلہ بنی عبد الدار کے ہاتھ میں دیا گیا۔ مکی لشکر کی روانگی: اس بھر پور تیاری کے بعد مکی لشکر نے اس حالت میں مدینے کا رُخ کیا کہ مسلمانوں کے خلاف غم وغصہ اور انتقام کا جذبہ ان کے دلوں میں شعلہ بن کر بھڑک رہا تھا اور یہ عنقریب پیش آنے والی جنگ کی خونریزی اور شدت کا پتادے رہا تھا۔ مدینے میں اطلاع: حضرت عباس رضی اللہ عنہ قریش کی اس ساری نقل وحرکت اور جنگی تیاریوں کا بڑی چابکدستی اور گہرائی سے مطالعہ کررہے تھے ، چنانچہ جوں ہی یہ لشکر حرکت میں آیا ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی ساری تفصیلات پر مشتمل ایک خط فوراً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ فرمادیا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا قاصد پیغام رسانی میں نہایت پُھر تیلا ثابت ہو ا۔ اس نے مکے سے مدینے تک کوئی پانچ سو کیلومیٹر کی مسافت تین دن میں طے کر کے ان کا خط نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کیا۔ اس وقت آپ مسجد قباء میں تشریف فرماتھے۔ یہ خط حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رازداری برتنے کی تاکید کی اور جھٹ مدینہ تشریف لاکر انصار ومہاجرین کے قائدین سے صلاح ومشورہ کیا۔ ہنگامی صورتِ حال کے مقابلے کی تیاری: اس کے بعد مدینے میں عام لام بندی کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ لوگ کسی بھی اچانک صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت ہتھیار بند رہنے لگے۔ حتی کہ نماز میں بھی ہتھیار جدا نہیں کیا جاتا تھا۔ ادھر انصار کا ایک مختصر سادستہ ، جس میں سعد بن معاذ، اُسَید بن حُضیراور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہم تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی پر تعینات ہوگیا۔ یہ لوگ ہتھیار پہن کر ساری ساری رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر گزار دیتے تھے۔ کچھ اوردستے اس خطرے کے پیش نظر کہ غفلت کی حالت میں اچانک کوئی حملہ نہ ہوجائے۔ مدینے میں داخلے کے مختلف راستوں پر تعینات ہوگئے۔ چند دیگر دستوں نے دشمن کی نقل وحرکت کا پتا لگا نے کے لیے طلایہ گردی شروع کردی یہ دستے ان راستوں پر گشت کرتے رہتے تھے جن سے گزر کر مدینے پر چھا پہ مارا جاسکتا تھا۔ مکی لشکر ، مدینے کے دامن میں: ادھر مکی لشکر معروف کاروانی شاہراہ پر چلتا رہا۔ جب اَبْوَاء پہنچا تو ابو سفیان کی بیوی ہند بنت عُتبہ نے یہ تجویز پیش کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کی قبرا کھیڑ دی جائے۔ لیکن اس دروازے کو کھولنے کے جو سنگین نتائج نکل سکتے تھے اس کے خوف سے قائدین لشکر نے یہ تجویز منظور نہ کی۔ اس کے بعدلشکر نے اپنا سفر بدستور جاری رکھا یہاں تک کہ مدینے کے قریب پہنچ کر پہلے وادیٔ عقیق سے گزرا، پھر کسی قدر داہنے جانب کترا کر کوہ اُحد کے قریب عینین نامی ایک مقام پر جو مدینہ کے شمال میں وادئ قناۃ کے کنارے ایک بنجر زمین ہے پڑاؤ ڈال دیا۔ یہ جمعہ ۶ شوال ۳ ھ کا واقعہ ہے۔ مدینے کی دفاعی حکمت ِ عملی کے لیے مجلس ِ شور یٰ کا اجلاس: مدینے کے ذرائع اطلاعات مکی لشکر کی ایک ایک خبر مدینہ پہنچارہے تھے ، حتیٰ کہ اس کے پڑاؤ کی بابت آخری خبر بھی پہنچادی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوجی ہائی کمان کی مجلس ِ شوریٰ منعقد فرمائی جس میں مناسب حکمت ِ عملی اختیار کرنے کے لیے صلاح مشورہ کرنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا دیکھا ہو ا ایک خواب بتلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ واللہ! میں نے ایک بھلی چیز دیکھی۔ میں نے دیکھا کہ کچھ گائیں ذبح کی جارہی ہیں اور میں نے دیکھا کہ میری تلوار کے سرے پر کچھ شکستگی ہے اور یہ بھی دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ ایک محفوظ زِرہ میں داخل کیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گائے کی یہ تعبیر بتلائی کہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم قتل کیے جائیں گے۔ تلوارمیں شکستگی کی یہ تعبیر بتلائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا کوئی آدمی شہید ہوگا اورمحفوظ زِرہ کی یہ تعبیر بتلائی کہ اس سے مراد شہر مدینہ ہے۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے دفاعی حکمت ِ عملی کے متعلق اپنی رائے پیش کی کہ مدینے سے باہر نہ نکلیں بلکہ شہر کے اندر ہی قلعہ بند ہوجائیں۔ اب اگر مشرکین اپنے کیمپ میں مقیم رہتے ہیں تو بے مقصد اور بُرا قیام ہوگا اور اگر مدینے میں داخل ہوتے ہیں تو مسلمان گلی کوچے کے ناکوں پر ان سے جنگ کریں گے اور عورتیں چھتوں کے اُوپر سے ان پر خشت باری کریں گی۔ یہی صحیح رائے تھی اور اسی رائے سے عبد اللہ بن اُبی ّ راس المنافقین نے بھی اتفاق کیا جوا س مجلس میں خزرج کے ایک سر کردہ نمائندہ کی حیثیت سے شریک تھا لیکن اس کے اتفاق کی بنیاد یہ نہ تھی کہ جنگی نقطۂ نظر سے یہی صحیح موقف تھا بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ جنگ سے دور بھی رہے اور کسی کو اس کا احساس بھی نہ ہو۔ لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس نے چاہا کہ یہ شخص اپنے رفقاء سمیت پہلی بار سر عام رسوا ہوجائے اور اُن کے کفر ونفاق پر جو پردہ پڑا ہوا ہے وہ ہٹ جائے، اور مسلمانوں کو اپنے مشکل ترین وقت میں معلوم ہوجائے کہ کی آستین میں کتنے سانپ رینگ رہے ہیں۔ چنانچہ فضلاء ِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے جو بدر میں شرکت سے رہ گئی تھی ، بڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دیا کہ میدان میں تشریف لے چلیں اور انہوں نے اپنی اس رائے پر سخت اصرار کیا ، حتیٰ کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ’’اے اللہ کے رسول! ہم تو اس دن کی تمنا کیا کرتے تھے اور اللہ سے اس کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ اب اللہ نے یہ موقع فراہم کردیا ہے اور میدان میں نکلنے کا وقت آگیا ہے توپھرآپ ؐ دشمن کے مد ِ مقابل ہی تشریف لے چلیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم ڈر گئے ہیں۔ ان گرم جوش حضرات میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلب سر فہرست تھے جو معرکہ ٔ بدر میں اپنی تلوار کا جوہر دکھلا چکے تھے۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ پر کتاب نازل کی میں کوئی غذانہ چکھوں گا یہاں تک کہ مدینہ سے باہر اپنی تلوار کے ذریعے ان سے دودو ہاتھ کر لوں۔[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے اصرار کے سامنے اپنی رائے ترک کردی اور آخری فیصلہ یہی ہوا کہ مدینے سے باہر نکل کر کھلے میدان میں معرکہ آرائی کی جائے۔ اسلامی لشکر کی ترتیب اور میدانِ جنگ کے لیے روانگی : اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو وعظ ونصیحت کی ، جد وجہد کی ترغیب دی اور بتلایا کہ صبر اور ثابت قدمی ہی سے غلبہ حاصل ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی حکم دیا کہ دشمن سے مقابلے کے لیے تیار ہو جائیں، یہ سن کر لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی تو اس وقت تک لوگ جمع ہوچکے تھے۔ عَوَالی کے باشندے بھی آچکے تھے۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے۔ ساتھ میں ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر عَمامَہ باندھا اور لباس پہنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیچے اوپر دو زِرہیں پہنیں ، تلوار حمائل کی اور ہتھیار سے آراستہ ہوکر لوگوں کے سامنے تشریف لائے۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے منتظرتو تھے ہی لیکن اس دوران حضرت سعد بن معاذ اور اُسَیْد بن حُضیر رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے کہا کہ آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میدان میں نکلنے پر زبردستی آمادہ کیا ہے، لہٰذا معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے حوالے کر دیجیے۔ یہ سن کر سب لوگوں نے ندامت محسوس کی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! ہمیں اپ کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو پسند ہو وہی کیجیے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پسند ہے کہ مدینے میں رہیں تو آپؐ ایسا ہی کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ کوئی نبی جب اپنا ہتھیار پہن لے تو مناسب نہیں کہ اسے اتار ے تا آنکہ اللہ اس کے درمیان اور اس کے دشمن کے درمیا ن فیصلہ فرمادے ۔‘‘[1] اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم فرمایا : 1۔ مہاجرین کا دستہ : اس کا پرچم حضرت مُصْعب بن عُمیر عبدری رضی اللہ عنہ کو عطاکیا۔ 2۔ قبیلۂ اوس(انصار ) کا دستہ : اس کا علم حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کو عطافرمایا۔ 3۔ قبیلہ خزرج (انصار )کا دستہ : اس کا عَلَم حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔ پورا لشکر ایک ہزار مردانِ جنگی پر مشتمل تھا جن میں ایک سو زِرہ پوش اور پچاس شہسوار تھے۔[1]اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شہسوار کوئی بھی نہ تھا۔ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اس کام پر مقرر فرمایا کہ وہ مدینے کے اندر رہ جانے والے لوگوں کو نماز پڑھائیں گے۔ اس کے بعد کوچ کا اعلان فرمایا اور لشکر نے شمال کا رُخ کیا۔ حضرت سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما زرہ پہنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چل رہے تھے۔ ثَنِیّۃ الوداع سے آگے بڑھے تو ایک دستہ نظر آیا جو نہایت عمدہ ہتھیار پہنے ہوئے تھا اور پورے لشکر سے الگ تھلگ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تو بتلایا گیا کہ خزرج کے حلیف یہود ہیں۔[2]جو مشرکین کے خلاف شریک ِ جنگ ہونا چاہتے ہیں۔آپ نے دریافت فرمایا: کیا یہ مسلمان ہوچکے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : نہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ِ شرک کے خلاف اہلِ کفر کی مدد لینے سے انکار کردیا۔ لشکر کا معائنہ: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’شیخان‘‘ نامی ایک مقام تک پہنچ کر لشکر کا معائنہ فرمایا۔ جو لوگ چھوٹے یا ناقابل ِ جنگ نظر آئے انہیں واپس کر دیا۔ ان کے نام یہ ہیں : حضرت عبد اللہ بن عمر، اسامہ بن زید، اسید بن ظہیر ، زید بن ثابت ، زید بن ارقم، عرابہ بن اوس ، عَمرو بن حزم ، ابو سعید خدری ، زید بن حارثہ انصاری اور سعد بن حبہ رضی اللہ عنہم ۔ اسی فہرست میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا نام بھی ذکر کیا جاتا ہے لیکن صحیح بخاری میں ان کی جو روایت مذکور ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اُحدکے موقعے پر لڑائی میں شریک تھے۔ البتہ صغر سنّی کے باوجو د حضرت رافع بن خدیج اور سمُرہ بن جُنْدُب رضی اللہ عنہما کو جنگ میں شرکت کی اجازت مل گئی۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بڑے ماہر تیر انداز تھے، اس لیے اُنہیں اجازت مل گئی۔ جب اُنہیں اجازت مل گئی تو حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تورافع سے زیادہ طاقتور ہوں ، میں اسے پچھاڑ سکتا ہوں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے دونوں سے کشتی لڑوائی اور واقعتا سمرہ رضی اللہ عنہ نے رافع رضی اللہ عنہ کو پچھاڑ دیا، لہٰذ ا انہیں بھی اجازت مل گئی۔ احد اور مدینے کے درمیان شب گزاری: یہیں شام ہوچکی تھی۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہیں مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی اور یہیں رات بھی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ پہرے کے لیے پچاس صحابہ رضی اللہ عنہم منتخب فرمائے جو کیمپ کے گرد وپیش گشت لگاتے رہتے تھے۔ ان کے قائد محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ وہی بزرگ ہیں جنہوں نے کعب بن اشرف کوٹھکانے لگانے والی جماعت کی قیادت فرمائی تھی۔ ذکوان رضی اللہ عنہ بن عبد اللہ بن قیس خاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہرہ دے رہے تھے۔ عبد اللہ بن اُبیّ اور اس کے ساتھیوں کی سر کشی: طلوع ِ فجر سے کچھ پہلے آپ پھر چل پڑے اور مقام ’’شوط‘‘ پہنچ کر فجر کی نماز پڑھی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کے بالکل قریب تھے اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ یہیں پہنچ کر عبد اللہ بن اُیّ منافق نے بغاوت کردی، اور کوئی ایک تہائی لشکر، یعنی تین سو افراد کو لے کر یہ کہتا ہوا واپس چلا گیا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ کیوں خواہ مخواہ اپنی جان دیں۔ اس نے اس بات پر بھی احتجاج کا مظاہرہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات نہیں مانی اور دوسروں کی بات مان لی۔ يقيناً اس علیحدگی کا سبب وہ نہیں تھا جو اس منافق نے ظاہر کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات نہیں مانی ، کیونکہ اس صورت میں جیش ِ نبوی ؐ کے ساتھ یہاں تک اس کے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اسے لشکر کی روانگی کے پہلے ہی قدم پرالگ ہوجاناچاہیے تھا۔ اس لیے حقیقت وہ نہیں جو اس نے ظاہر کی تھی بلکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ اس نازک موڑ پر الگ ہوکر اسلامی لشکر میں ایسے وقت اضطراب اور کھلبلی مچانا چاہتا تھا جب دشمن اس کی ایک ایک نقل و حرکت دیکھ رہا ہو ، تاکہ ایک طرف تو عام فوجی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دیں اور جو باقی رہ جائیں ان کے حوصلے ٹوٹ جائیں اور دوسری طرف اس منظر کو دیکھ کر دشمن کی ہمت بندھے اور اس کے حوصلے بلند ہوں۔ لہٰذا یہ کارروائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے مخلص ساتھیوں کے خاتمے کی ایک مؤثر تدبیر تھی جس کے بعداس منافق کو توقع تھی کہ اس کی اور اس کے رفقاء کی سرداری وسربراہی کے لیے میدان صاف ہو جائے گا۔ قریب تھا کہ یہ منافق اپنے بعض مقاصد کی برآری میں کامیاب ہو جاتا ، کیونکہ مزید دوجماعتوں، یعنی قبیلہ اوس میں سے بنوحارثہ اور قبیلہ خزرج میں سے بنوسلمہ کے قد م بھی اکھڑ چکے تھے اور وہ واپسی کی سوچ رہے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی دستگیری کی اور یہ دونوں جماعتیں اضطراب اور ارادۂ واپسی کے بعد جم گئیں۔ انہیں کے متعلق اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے : ﴿ إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللّٰهُ وَلِيُّهُمَا وَعَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴾(۳: ۱۲۲) ’’جب تم میں سے دو جماعتوں نے قصد کیا کہ بُزدلی اختیار کریں ، اور اللہ ان کا ولی ہے ، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے ۔‘‘ بہر حال منافقین نے واپسی کا فیصلہ کیا تو اس نازک ترین موقعے پر حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والدحضرت عبد اللہ بن حرام رضی اللہ عنہ نے انہیں ان کا فرض یا ددلانا چاہا۔ چنانچہ موصوف انہیں ڈانٹتے ہوئے ، واپسی کی ترغیب دیتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے چلے کہ آؤ ! اللہ کی راہ میں لڑو یاد فاع کرو۔ مگر انہوں نے جواب میں کہا : اگر ہم جانتے کہ آپ لوگ لڑائی کریں گے تو ہم واپس نہ ہوتے۔ یہ جواب سن کر حضرت عبد اللہ بن حرام یہ کہتے ہوئے واپس ہوئے کہ او اللہ کے دشمنو! تم پر اللہ کی مار۔ یاد رکھو ! اللہ اپنے نبیؐ کو تم سے مستغنی کردے گا۔ انہی منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَوِ ادْفَعُوا قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَاتَّبَعْنَاكُمْ هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْإِيمَانِ يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِمْ مَا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ﴾(۳: ۱۶۷ ) ’’اور تاکہ اللہ انہیں بھی جان لے جنہوں نے منافقت کی ، اور ان سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں لڑائی کرو یادفاع کرو تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم لڑائی جانتے تو يقيناً تمہاری پیروی کرتے۔ یہ لوگ آج ایمان کی بہ نسبت کفر کے زیادہ قریب ہیں۔ منہ سے ایسی بات کہتے ہیں جو دل میں نہیں ہے اور یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اللہ اسے جانتا ہے۔‘‘ بقیہ اسلامی لشکر دامنِ اُحد میں: اس بغاوت اور واپسی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی ماندہ لشکر کو لے کر ، جس کی تعداد سات سو تھی ، دشمن کی طرف قدم بڑھایا۔ دشمن کا پڑاؤ آپ کے درمیان اور اُحد کے درمیان کئی سمت سے حائل تھا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ کوئی آدمی ہے جو ہمیں دشمن کے پاس سے گزرے بغیر کسی قریبی راستے سے لے چلے۔ اس کے جواب میں ابو خَیْثَمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :’’یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں اس خدمت کے لیے حاضر ہوں۔‘‘ پھر انہوں نے ایک مختصر سا راستہ اختیار کیا جو مشرکین کے لشکر کو مغرب کی سمت چھوڑتا ہوا بنی حارثہ کے حرہ اور کھیتوں سے گزرتا تھا۔ اس راستے سے جاتے ہوئے لشکر کا گزر مربع بن قیظی کے باغ سے ہو ا۔ یہ شخص منافق بھی تھا اور نابینا بھی۔ اس نے لشکر کی آمد محسوس کی تو مسلمانوں کے چہروں پر دھول پھینکنے لگا اور کہنے لگا : اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تو یادرکھیں کہ آپؐ کو میرے باغ میں آنے کی اجازت نہیں۔ لوگ اسے قتل کرنے کو لپکے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اسے قتل نہ کرو۔ یہ دل اور آنکھ دونوں کا اندھا ہے۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑ ھ کر وادی کے آخری سرے پر واقع اُحد پہاڑ کی گھاٹی میں نزول فرمایا اور وہیں اپنے لشکرکاکیمپ لگوایا۔ سامنے مدینہ تھا اور پیچھے اُحد کا بلند وبالا پہاڑ ، اس طرح دشمن کا لشکر مسلمانوں اور مدینے کے درمیان حَدِّ فاصل بن گیا۔ دفاعی منصوبہ: یہاں پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی ترتیب وتنظیم قائم کی، اور جنگی نقطۂ نظر سے اسے کئی صفوں میں تقسیم فرمایا۔ ماہر تیر اندازوں کا ایک دستہ بھی منتخب کیا جو پچاس مردان جنگی پر مشتمل تھا۔ ان کی کمان حضرت عبد اللہ بن جبیر بن نعمان انصاری دَوْسی بدر ی رضی اللہ عنہ کو سپر د کی، اور انہیں وادی قناۃ کے جنوبی کنارے پر واقع ایک چھوٹی سی پہاڑی پر جو اسلامی لشکر کے کیمپ سے کوئی ڈیڑھ سو میٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور اب جبل رماۃ کے نام سے مشہور ہے ، تعینات فرمایا۔ اس کا مقصد ان کلمات سے واضح ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تیر اندازوں کو ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کمانڈر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : ’’شہسواروں کو تیر مار کر ہم سے دور رکھو۔ وہ پیچھے سے ہم پر چڑھ نہ آئیں۔ ہم جیتیں یا ہاریں تم اپنی جگہ رہنا۔ تمہاری طرف سے ہم پر حملہ نہ ہونے پائے ۔‘‘[1] پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیراندازوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ’’ہماری پشت کی حفاظت کرنا۔ اگر دیکھو کہ ہم مارے جارہے ہیں تو ہماری مدد کو نہ آنا اور اگر دیکھوکہ ہم مال غنیمت سمیٹ رہے ہیں تو ہمارے ساتھ شریک نہ ہونا۔‘‘[1]اور صحیح بخاری کے الفاظ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا : ’’اگر تم لوگ دیکھو کہ ہمیں پرندے اچک رہے ہیں تو بھی اپنی جگہ نہ چھوڑ نا یہاں تک کہ میں بلابھیجوں ، اور اگر تم لوگ دیکھو کہ ہم نے قوم کو شکست دے دی ہے اور انہیں کچل دیا ہے تو بھی اپنی جگہ نہ چھوڑنا یہاں تک کہ میں بلا بھیجوں۔‘‘[2] ان سخت ترین فوجی احکامات وہدایات کے ساتھ اس دستے کو اس پہاڑی پر متعین فرماکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ واحد شگاف بند فرمادیا جس سے نفوذ کر کے مشرکین کا رسالہ مسلمانوں کی صفوں کے پیچھے پہنچ سکتا تھا اور ان کو محاصر ے اور نرغے میں لے سکتا تھا۔ باقی لشکر کی ترتیب یہ تھی کہ مَیمنہ پر حضرت مُنْذِر رضی اللہ عنہ بن عَمرو مقرر ہوئے اور مَیْسَرہ پر حضرت زُبیر رضی اللہ عنہ بن عوام ۔ اور ان کا معاون حضرت مِقداد رضی اللہ عنہ بن اسود کو بنایا گیا ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو یہ مہم بھی سونپی گئی کہ وہ خالد بن ولید کے شہسواروں کی راہ روکے رکھیں۔ اس ترتیب کے علاوہ صف کے اگلے حصے میں ایسے ممتاز اور منتخب بہادر مسلمان رکھے گئے جس کی جانبازی ودلیری کا شہرہ تھا۔ اور جنہیں ہزاروں کے برابر ماناجاتا تھا۔ یہ منصوبہ بڑی باریکی اور حکمت پر مبنی تھا۔ جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فوجی قیادت کی عبقریت کا پتہ چلتا ہے۔ اور ثابت ہوتا ہے کہ کوئی کمانڈر خواہ کیسا ہی بالیاقت کیوں نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ باریک اور باحکمت منصوبہ تیارنہیں کرسکتا۔کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باوجود یکہ دشمن کے بعد یہاں تشریف لائے تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لشکر کے لیے وہ مقام منتخب فرمایا جو جنگی نقطۂ نظر سے میدانِ جنگ کا سب سے بہترین مقام تھا۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ کی بلندیوں کی اوٹ لے کر اپنی پُشت اور دایاں بازو محفوظ کرلیا۔ اور بائیں بازو دورانِ جنگ جس واحد شگاف سے حملہ کر کے پُشت تک پہنچا جاسکتا تھا اسے تیر اندازوں کے ذریعے بند کردیا۔ اور پڑاؤ کے لیے ایک اونچی جگہ منتخب فرمائی کہ اگر خدانخواستہ شکست سے دوچار ہونا پڑے تو بھا گنے اور تعاقب کنندگان کی قید میں جانے کے بجائے کیمپ میں پناہ لی جاس کے۔ اور اگر دشمن کیمپ پرقبضے کے لیے پیش قدمی کرے تو اسے نہایت سنگین خسارہ پہنچایا جاس کے۔ اس کے بر عکس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کو اپنے کیمپ کے لیے ایک ایسا نشیبی مقام قبول کرنے پر مجبور کردیا کہ اگر وہ غالب آجائے تو فتح کا کوئی خاص فائدہ نہ اُٹھا سکے۔ اور اگر مسلمان غالب آجائیں تو تعاقب کرنے والوں کی گرفت سے بچ نہ سکے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممتاز بہادروں کی ایک جماعت منتخب کرکے فوجی تعداد کی کمی پوری کردی۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کی ترتیب وتنظیم تھی جو ۷ / شوال ۳ ھ یوم سنیچر کی صبح عمل میں آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر میں شجاعت کی روح پھونکتے ہیں: اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم نہ دیں جنگ شروع نہ کی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیچے اوپر دوزِرہیں پہن رکھی تھیں۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جنگ کی ترغیب دیتے ہوئے تاکید فرمائی کہ جب دشمن سے ٹکراؤ ہو تو پامردی اور اولو العزمی سے کام لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں دلیری اور بہادری کی روح پھُونکتے ہوئے ایک نہایت تیز تلوار بے نیام کی اور فرمایا : کو ن ہے جو اس تلوار کو لے کر اس کا حق ادا کر ے؟ اس پر کئی صحابہ تلوار لینے کے لیے لپک پڑے ، جن میں علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب ، زبیر رضی اللہ عنہ بن عوام اور عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب بھی تھے۔ لیکن ابو دُجانہ سِماک بن خَرْشہ رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر عرض کی کہ یا رسول اللہ! اس کا حق کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے دشمن کے چہرے کو مارو یہاں تک کہ یہ ٹیڑھی ہوجائے۔ انہوں نے کہا : یارسول اللہ ! میں اس تلوار کو لے کر اس کا حق ادا کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار انہیں دے دی۔ ابو دجانہ رضی اللہ عنہ بڑے جانباز تھے۔ لڑائی کے وقت اکڑ کر چلتے تھے۔ ان کے پاس ایک سُرخ پٹی تھی۔ جب اُسے باندھ لیتے تو لو گ سمجھ جاتے کہ وہ اب موت تک لڑتے رہیں گے۔ چنانچہ جب انہوں نے تلوار لی تو سر پر پٹی بھی باندھ لی اور فریقین کی صفوں کے درمیان اکڑ کر چلنے لگے۔ یہی موقع تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ چال اللہ کو ناپسند ہے لیکن اس جیسے موقع پر نہیں۔ مکی لشکر کی تنظیم: مشرکین نے بھی صف بندی ہی کے اصول پر اپنے لشکر کو مرتب اور منظم کیا تھا۔ ان کا سپہ سالار ابو سفیان تھا۔ جس نے قلب لشکر میں اپنا مرکز بنا یا تھا۔ مَیمنہ پر خالد بن ولید تھے جو ابھی مشرک تھے ، مَیْسرہ پر عکرمہ بن ابی جہل تھا۔ پیدل فوج کی کمان صفوان بن امیہ کے پاس تھی اور تیر اندازوں پر عبد اللہ بن ربیعہ مقرر ہوئے۔ جھنڈا عبد الدار کی ایک چھوٹی سی جماعت کے ہاتھ میں تھا۔ یہ منصب انہیں اسی وقت سے حاصل تھا جب بنو عبد مناف نے قُصی سے وراثت میں پائے ہوئے مناصب کو باہم تقسیم کیا تھا۔ جس کی تفصیل ابتدائے کتاب میں گزر چکی ہے۔ پھر باپ دادا سے جو دستور چلا آرہا تھا اس کے پیش ِ نظر کوئی شخص اس منصب کے بارے میں ان سے نزاع بھی نہیں کرسکتا تھا، لیکن سپہ سالار ابو سفیان نے انہیں یاد دلایا کہ جنگ ِ بدر میں ان کا پرچم بردار نضر بن حارث گرفتار ہوا تو قریش کو کن حالات سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ اس بات کو یاد دلانے کے ساتھ ہی ان کا غصہ بھڑکانے کے لیے کہا : اے بنی عبد الدار ! بدر کے روز آپ لوگوں نے ہمار اجھنڈا لے رکھا تھا تو ہمیں جن حالات سے دوچار ہونا پڑا وہ آپ نے دیکھ ہی لیا ہے۔ درحقیقت فوج پر جھنڈے ہی کے جانب سے زد پڑتی ہے۔ جب جھنڈا گرپڑتا ہے تو فوج کے قدم اکھڑ جاتے ہیں، پس اب کی بار آپ لوگ یا تو ہمارا جھنڈا ٹھیک طور سے سنبھالیں یا ہمارے اور جھنڈے کے درمیان سے ہٹ جائیں۔ ہم اس کا انتظام خود کرلیں گے۔ اِ س گفتگو سے ابوسفیان کا جو مقصد تھا اس میں وہ کامیاب رہا۔ اس کی بات سن کر بنی عبد الدار کو سخت تاؤ آیا۔ انہوں نے دھمکیاں دیں۔معلوم ہوتا تھا کہ اس پر پل پڑیں گے۔ کہنے لگے : ہم اپنا جھنڈا تمہیں دیں گے ؟ کل جب ٹکر ہوگی تو دیکھ لینا ہم کیا کرتے ہیں۔ اور واقعی جب جنگ شروع ہوئی تو وہ نہایت پامردی کے ساتھ جمے رہے، یہاں تک کہ ان کا ایک ایک آدمی لقمۂ اجل بن گیا۔ قریش کی سیاسی چال بازی: آغاز جنگ سے کچھ پہلے قریش نے مسلمانوں کی صف میں پھوٹ ڈالنے اور نزاع پیدا کر نے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے ابو سفیان نے انصار کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ لوگ ہمارے اور ہمارے چچیرے بھائی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بیچ سے ہٹ جائیں تو ہمار ارُخ بھی آپ کی طرف نہ ہوگا۔ کیونکہ ہمیں آپ لوگوں سے لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن جس ایمان کے آگے پہاڑ بھی نہیں ٹھہر سکتے اس کے آگے یہ چال کیونکر کامیاب ہوسکتی تھی۔ چنانچہ انصار نے اسے نہایت سخت جواب دیا اور کڑوی کسیلی سنائی۔ پھر وقت صفر قریب آگیا۔ اور دونوں فوجیں ایک دوسرے کے قریب آگئیں تو قریش نے اس مقصد کے لیے ایک اور کوشش کی۔ یعنی ان کا ایک خیانت کوش آلۂ کار ابو عامر فاسق مسلمانوں کے سامنے نمودار ہوا۔ اس شخص کا نام عبد عمرو بن صیفی تھا۔ اور اسے راہب کہا جاتا تھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام فاسق رکھ دیا۔ یہ جاہلیت میں قبیلۂ اوس کا سردار تھا۔ لیکن جب اسلام کی آمد آمد ہوئی تو اسلام اس کے گلے کی پھانس بن گیا۔ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کھل کر عداوت پراُتر آیا۔ چنانچہ وہ مدینہ سے نکل کر قریش کے پاس پہنچا۔ اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھڑ کا بھڑکا کر آمادۂ جنگ کیا۔ اور یقین دلایا کہ میری قوم کے لوگ مجھے دیکھیں گے تومیری بات مان کر میرے ساتھ ہوجائیں گے۔ چنانچہ یہ پہلا شخص تھا جو میدان ِ اُحدمیں احابیش اور اہل ِ مکہ کے غلاموں کے ہمراہ مسلمانوں کے سامنے آیا۔ اور اپنی قوم کو پکار کر اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا : قبیلہ اوس کے لوگو! میں ابو عامر ہوں۔ ان لوگوں نے کہا : اوفاسق ! اللہ تیر ی آنکھ کو خوشی نصیب نہ کرے۔ اس نے یہ جواب سنا تو کہا : اوہو ! میری قوم میرے بعد شر سے دوچار ہوگئی ہے۔ (پھر جب لڑائی شروع ہوئی تو اس شخص نے بڑی پُر زور جنگ کی اور مسلمانوں پر جم کر پتھر برسائے) اس طرح قریش کی جانب سے اہلِ ایمان کی صفوں میں تفرقہ ڈالنے کی دوسری کوشش بھی ناکام رہی۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ تعداد کی کثرت اور سازوسامان کی فراوانی کے باوجودمشرکین کے دلوں پر مسلمانوں کا کس قدر خوف اور ان کی کیسی ہیبت طاری تھی۔ جوش وہمت دلانے کے لیے قریشی عورتوں کی تگ وتاز: ادھر قریشی عورتیں بھی جنگ میں اپنا حصہ ادا کر نے اٹھیں۔ ان کی قیادت ابو سفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ کر رہی تھی۔ ان عورتوں نے صفوں میں گھوم گھوم کر اور دف پیٹ پیٹ کر لوگوں کو جوش دلایا۔ لڑائی کے لیے بھڑ کایا ، جانبازوں کو غیرت دلائی ، اور نیزہ بازی وشمشیر زنی ، مار دھاڑ اور تیرا فگنی کے لیے جذبات کو بر انگیختہ کیا۔ کبھی وہ علمبرداروں کو مخاطب کر کے یوں کہتیں : ویہا بنی عبد الدار ویہا حماۃ الأدبار ضرباً بکل بتار دیکھو ! عبد الدار ! دیکھو! پشت کے پاسدار خوب کرو شمشیر کاوار اور کبھی اپنی قوم کو لڑائی کا جوش دلاتے ہوئے یوں کہتیں : إن تقبلوا نعانق ونفرش النمارق أو تدبروا نفارق فراق غیر وامق ’’اگر پیش قدمی کرو گے تو ہم گلے لگائیں گی۔ اور قالینیں بچھائیں گی۔ اور اگر پیچھے ہٹو گے تو روٹھ جائیں گی اور الگ ہوجائیں گی۔ ‘‘ جنگ کا پہلا ایندھن: اس کے بعددونوں فریق بالکل آمنے سامنے اور قریب آگئے۔ اور لڑائی کا مرحلہ شروع ہوگیا۔ جنگ کا پہلا ایندھن مشرکین کا علمبردارطلحہ بن ابی طلحہ عبدری بنا۔ یہ شخص قریش کا نہایت بہادر شہسوار تھا۔ اسے مسلمان کبش الکتیبہ (لشکر کا مینڈھا ) کہتے تھے۔ یہ اونٹ پر سوار ہوکر نکلا اور مُبارزت کی دعوت دی ، اس کی حدسے بڑی ہوئی شجاعت کے سبب عام صحابہ مقابلے سے کترا گئے۔ لیکن حضرت زبیر آگے بڑھے اور ایک لمحہ کی مہلت دیئے بغیر شیر کی طرح جست لگا کر اونٹ پر جاچڑھے۔ پھر اسے اپنی گرفت میں لے کر زمین پر کود گئے اور تلوار سے ذبح کردیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ولولہ انگیز منظر دیکھا تو فرطِ مسرت سے نعر ۂ تکبیر بلند کیا۔ مسلمانوں نے بھی نعرۂ تکبیر لگایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی تعریف کی اور فرمایا : ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے۔ اور میرے حواری زبیر ہیں۔[1] معرکہ کا مرکزِ ثقل اور علمبرداروں کا صفایا: اس کے بعد ہر طرف جنگ کے شُعلے بھڑ ک اُٹھے۔ اور پورے میدان میں پُر زور مار دھاڑ شروع ہوگئی۔ مشرکین کا پرچم معرکے کا مرکزِ ثقل تھا۔ بنو عبد الدار نے اپنے کمانڈر طلحہ بن ابی طلحہ کے قتل کے بعد یکے بعد دیگرے پرچم سنبھالا۔ لیکن سب کے سب مارے گئے۔ سب سے پہلے طلحہ کے بھائی عثمان بن ابی طلحہ نے پرچم اٹھایا اور یہ کہتے ہوئے آگے بڑھا : إن علی أہل اللواء حقًا أن تخضب الصعدۃ أو تندقا ’’پرچم والوں کا فرض ہے کہ نیزہ (خون سے ) رنگین ہوجائے یا ٹوٹ جائے۔‘‘ اس شخص پر حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے حملہ کیا اور اس کے کندھے پر ایسی تلوار ماری کہ وہ ہاتھ سمیت کندھے کو کاٹتی اور جسم کو چیرتی ہوئی ناف تک جاپہنچی، یہاں تک کہ پھیپھڑا دکھا ئی دینے لگا۔ اس کے بعد ابو سعد بن ابی طلحہ نے جھنڈا اٹھایا۔ اس پر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے تیر چلایا۔ اور وہ ٹھیک اس کے گلے میں لگا ، جس سے اس کی زبا ن باہر نکل آئی اور وہ اسی وقت مر گیا ۔ لیکن بعض سیرت نگاروں کا کہنا ہے کہ ابوسعد نے باہر نکل کر دعو ت ِ مُبارَزَت دی۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر مقابلہ کیا، دونوں نے ایک دوسرے پر تلوار کا ایک وار کیا، لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو سعد کو مارلیا۔ اس کے بعد مسافع بن طلحہ بن ابی طلحہ نے جھنڈا اٹھا لیا، لیکن اسے عاصم بن ثابت بن ابی افلح رضی اللہ عنہ نے تیر مارکر قتل کردیا۔ اس کے بعد اس کے بھائی کلاب بن طلحہ بن ابی طلحہ نے جھنڈا اٹھایا۔ مگر اس پر حضرت زُبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ٹوٹ پڑے، اور لڑبھڑ کر اس کاکام تمام کردیا۔ پھر ان دونوں کے بھائی جلاس بن طلحہ بن ابی طلحہ نے جھنڈا اٹھایا۔ مگر اسے طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے نیزہ مار کر ختم کردیا۔ اور کہا جاتا ہے کہ عاصم بن ثابت بن ابی افلح رضی اللہ عنہ نے تیر مار کر ختم کیا۔ یہ ایک ہی گھر کے چھ افراد تھے۔ یعنی سب کے سب ابوطلحہ عبد اللہ بن عثمان بن عبد الدار کے بیٹے یا پوتے تھے۔ جو مشرکین کے جھنڈے کی حفاظت کرتے ہوئے مارے گئے۔ اس کے بعد قبیلہ بنی عبد الدار کے ایک اور شخص اَرْطَاۃ بن شُرَحْبِیل نے پر چم سنبھا لا۔ لیکن اسے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ، اور کہا جاتا ہے کہ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا۔ اس کے بعد شُرَیح بن قارظ نے جھنڈا اٹھا یا۔ مگر اسے قزمان نے قتل کردیا ۔ قزمان منافق تھا۔ اور اسلام کے بجائے قبائلی حمیت کے جوش میں مسلمانوں کے ہمراہ لڑنے آیاتھا ۔ شریح کے بعد ابو زید بن عمرو بن عبد مناف عبدری نے جھنڈا سنبھالا۔ مگر اسے بھی قزمان نے ٹھکانے لگا دیا۔ پھر شُرَحْبیل بن ہاشم عبدری کے ایک لڑکے نے جھنڈا اٹھایا۔ مگر وہ بھی قزمان کے ہاتھوں مارا گیا۔ یہ بنو عبد الدار کے دس افراد ہوئے جنہوں نے مشرکین کا جھنڈااٹھایا اور سب کے سب مارے گئے۔ اس کے بعد اس قبیلے کا کوئی آدمی باقی نہ بچا جو جھنڈا اٹھاتا۔ لیکن اس موقعے پر ان کے ایک حبشی غلام نے ۔ جس کا نام صواب تھا ۔ لپک کر جھنڈا اٹھا لیا۔ اور ایسی بہادری اور پامردی سے لڑاکہ اپنے سے پہلے جھنڈا اٹھانے والے اپنے آقاؤں سے بھی بازی لے گیا۔ یعنی یہ شخص مسلسل لڑتا رہا، یہاں تک کہ اس کے دونوں ہاتھ یکے بعد دیگر ے کاٹ دیے گئے لیکن اس کے بعد بھی اس نے جھنڈا گرنے نہ دیا، بلکہ گھٹنے کے بل بیٹھ کر سینے اور گردن کی مدد سے کھڑا کیے رکھا یہاں تک کہ جان سے مار ڈالاگیا۔ اور اس وقت بھی یہ کہہ رہاتھا کہ یا اللہ ! اب تو میں نے کوئی عذر باقی نہ چھوڑا؟ اس غلام (صواب) کے قتل کے بعد جھنڈا زمین پر گر گیا۔ اور اِسے کوئی اٹھانے والا باقی نہ بچا، اس لیے وہ گراہی رہا۔ بقیہ حصوں میں جنگ کی کیفیت : ایک طرف مشرکین کا جھنڈا معرکے کا مرکزِ ثقل تھا تو دوسری طرف میدان کے بقیہ حصوں میں بھی شدید جنگ جاری تھی۔ مسلمانوں کی صفوں پر ایمان کی رُوح چھائی ہوئی تھی۔ اس لیے وہ شرک وکفر کے لشکر پر اس سیلاب کی طرح ٹوٹے پڑ رہے تھے جس کے سامنے کوئی بند ٹھہر نہیں پاتا۔ مسلمان اس موقعے پر اَمِتْ اَمِت کہہ رہے تھے۔ اور اس جنگ میں یہی ان کا شعار تھا۔ ادھر ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی سُرخ پٹی باندھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار تھامے، اور اس کے حق کی ادائیگی کا عزم ِ مصمم کیے پیش قدمی کی۔ اور لڑتے ہوئے دور تک جاگھسے وہ جس مشرک سے ٹکراتے اس کا صفایا کردیتے۔ انہوں نے مشرکین کی صفوں کی صفیں اُلٹ دیں۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تلوار مانگی اور آپ نے مجھے نہ دی تو میرے دل پر اس کا اثر ہو ا۔ اور میں نے اپنے جی میں سوچا کہ میں آپ کی پھوپھی حضرت صفیہ کا بیٹا ہوں ، قریشی ہوں۔ اور میں نے آپ کے پاس جاکر ابو دجانہ سے پہلے تلوار مانگی ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہ دی ، اور انہیں دے دی۔ اس لیے واللہ ! میں دیکھوں گا کہ وہ اس سے کیا کام لیتے ہیں ؟ چنانچہ میں ان کے پیچھے لگ گیا۔ انہوں نے یہ کیا کہ پہلے اپنی سرخ پٹی نکالی اورسر پر باندھی۔ اس پر انصار نے کہا: ابو دُجانہ نے موت کی پٹی نکال لی ہے۔ پھر وہ یہ کہتے ہوئے میدان کی طرف بڑھے۔ أنا الذی عاہدنی خلیلی ونحن بالسفح لدی النخیل أن لا أقوم الدہر في الکیول اضرب بسیف اللّٰه والرسول ’’میں نے اس نخلستان کے دامن میں اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کیا ہے کہ کبھی صفوں کے پیچھے نہ رہوں گا۔ (بلکہ آگے بڑھ کر ) اللہ اور اس کے رسول ؐ کی تلوار چلاؤں گا۔‘‘ اس کے بعد انہیں جو بھی مل جاتا اسے قتل کردیتے۔ ادھر مشرکین میں ایک شخص تھا جو ہمارے کسی بھی زخمی کو پاجاتا تو اس کا خاتمہ کردیتا تھا۔ یہ دونوں رفتہ رفتہ قریب ہورہے تھے۔ میں نے اللہ سے دعا کی کہ دونوں میں ٹکر ہوجائے۔ اور واقعتا ٹکر ہوگئی۔ دونوں نے ایک دوسر ے پر ایک ایک وار کیا۔ پہلے مشرک نے ابو دجانہ پر تلوار چلائی، لیکن ابو دجانہ نے یہ حملہ ڈھال پر روک لیا۔ اور مشرک کی تلوار ڈھال میں پھنس کر رہ گئی۔ اس کے بعد ابودجانہ نے تلوار چلائی اور مشرک کو وہیں ڈھیر کردیا۔[1] اس کے بعد ابو دجانہ صفوں پر صفیں درہم برہم کرتے ہوئے آگے بڑھے، یہاں تک کہ قریشی عورتوں کی کمانڈر تک جاپہنچے۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ یہ عورت ہے۔ چنانچہ ان کا بیان ہے کہ میں نے ایک انسان کو دیکھا وہ لوگوں کو بڑے زور وشور سے جوش وولولہ دلارہا تھا۔ اس لیے میں نے اس کو نشانے پر لے لیا لیکن جب تلوار سے حملہ کرنا چاہا تو اس نے ہائے پکار مچائی اور پتہ چلا کہ عورت ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کو بٹہ نہ لگنے دیا کہ اس سے کسی عورت کو ماروں۔ یہ عورت ہند بنت عتبہ تھی۔ چنانچہ حضرت زُبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے ابو دجانہ کو دیکھاکہ انہوں نے ہند بنت عتبہ کے سر کے بیچوں بیچ تلوار بلند کی، اور پھر ہٹالی۔ میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔[2] ادھر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی بپھرے ہوئے شیر کی طرح جنگ لڑرہے تھے۔ اور بے نظیر مار دھاڑ کے ساتھ قلب لشکر کی طرف بڑھے اور چڑھے جارہے تھے۔ ان کے سامنے سے بڑے بڑے بہادر اس طرح بکھر جاتے تھے جیسے چومکھی ہوا میں پتے اُڑرہے ہوں۔ انہوں نے مشرکین کے علمبرداروں کے صفائے میں نمایاں رول ادا کرنے کے علاوہ ان کے بڑے بڑے جانبازوں اور بہادروں کا بھی حال خراب کر رکھا تھا لیکن صد حیف کہ اسی عالم میں ان کی شہادت واقع ہوگئی۔ مگر انہیں بہادروں کی طرح رُو در رُو لڑ کر شہیدنہیں کیا گیا بلکہ بزدلوں کی طرح چھپ چھپا کر بے خبری کے عالم میں مارا گیا۔ اللہ کے شیر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت: حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا قاتل وحشی بن حرب تھا۔ ہم ان کی شہادت کا واقعہ اسی کی زبانی نقل کرتے ہیں۔ اس کا بیان ہے کہ میں جُبیر بن مُطْعم کا غلام تھا۔ اور ان کا چچا طُعیمہ بن عِدِی جنگ بدر میں مارا گیا تھا۔ جب قریش جنگ احد پر روانہ ہونے لگے تو جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا : اگر تم محمدؐ کے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ کو میرے چچا کے بدلے قتل کردو تو تم آزاد ہو۔ وحشی کا بیان ہے کہ (اس پیش کش کے نتیجے میں ) میں بھی لوگوں کے ساتھ روانہ ہوا۔ میں حبشی آدمی تھا۔اور حبشیوں کی طرح نیزہ پھینکنے میں ماہر تھا۔ نشانہ کم ہی چوُکتا تھا۔ جب لوگو ں میں جنگ چھڑ گئی تو میں نکل کر حمزہ کو دیکھنے لگا۔ میری نگاہیں انہی کی تلاش میں تھیں۔ بالآخر میں نے انہیں لوگوں کی پہنائی میں دیکھ لیا۔ وہ خاکستری اونٹ معلوم ہورہے تھے۔ لوگوں کو درہم برہم کرتے جارہے تھے، ان کے سامنے کو ئی چیز ٹک نہیں پاتی تھی۔ واللہ ! میں ابھی ان کے ارادے سے تیار ہی ہورہا تھا اور ایک درخت یا پتھر کی اوٹ میں چھپ کر انہیں قریب آنے کا موقع دیناچاہتا تھا کہ اتنے میں سباع بن عبد العزیٰ مجھ سے آگے بڑھ کر ان کے پاس جاپہنچا۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے اسے للکارتے ہوئے کہا : او شرمگاہ کی چمڑی کا ٹنے والی کے بیٹے ! یہ لے۔ اور ساتھ ہی اس زور کی تلوار ماری کہ گویا اس کا سر تھا ہی نہیں۔ وحشی کا بیان ہے کہ اس کے ساتھ ہی میں نے اپنا نیزہ تولا اور جب میری مرضی کے مطابق ہوگیا تو ان کی طرف اچھال دیا۔ نیزہ ناف کے نیچے لگا اور دونوں پاؤں کے بیچ سے پار ہو گیا۔ انہوں نے میری طرف اٹھنا چاہا۔ لیکن مغلوب ہوگئے میں نے ان کو اسی حال میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ اس کے بعد میں نے ان کے پاس جاکر اپنا نیزہ نکال لیا۔ اور لشکر میں واپس جاکر بیٹھ گیا۔ (میرا کام ہوچکا تھا ) مجھے ان کے سوا کسی اور سے سروکار نہ تھا۔ میں نے انہیں محض اس لیے قتل کیا تھا کہ آزاد ہو جاؤں۔ چنانچہ جب مکہ آیا تو مجھے آزادی مل گئی۔[1] مسلمانوں کی بالادستی: اللہ کے شیر اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شیر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے نتیجے میں مسلمانوں کو جو سنگین خسارہ اور ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچا اس کے باوجود جنگ میں مسلمانوں ہی کا پلہ بھاری رہا۔ حضرت ابو بکر وعمر ، علی وزبیر ، مصعب بن عُمیر ، طلحہ بن عبید اللہ ، عبد اللہ بن جحش ، سعد بن معاذ ، سعد بن عبادہ ، سعد بن ربیع اور نضر بن انس وغیرہم رضی اللہ عنہم نے ایسی پامردی وجانبازی سے لڑائی لڑی کہ مشرکین کے چھکے چھوٹ گئے۔حوصلے ٹوٹ گئے اور ان کی قوتِ بازو جواب دے گئی۔ عورت کی آغوش سے تلوار کی دھار پر: اور آیئے ! ذرا ادھر دیکھیں۔ اپنی جان فروش شہبازوں میں ایک اور بزرگ حضرت حَنْظَلۃ الغَسیل رضی اللہ عنہ نظر آرہے ہیں۔ جو آج ایک نرالی شان سے میدانِ جنگ میں تشریف لا ئے ہیں ۔ آپ اسی ابو عامر راہب کے بیٹے ہیں جسے بعد میں فاسق کے نام سے شہرت ملی۔ اور جس کا ذکر ہم پچھلے صفحات میں کر چکے ہیں۔ حضرت حنظلہ نے ابھی نئی نئی شادی کی تھی۔ جنگ کی منادی ہوئی تو وہ بیوی سے ہم آغوش تھے۔ آواز سنتے ہی آغوش سے نکل کر جہاد کے لیے رواں دواں ہوگئے۔ اور جب مشرکین کے ساتھ میدانِ کارزار گرم ہوا تو ان کی صفیں چیر تے پھاڑتے ان کے سپہ سالار ابو سفیان تک جاپہنچے اور قریب تھاکہ اس کاکام تمام کردیتے۔ مگر اللہ نے خود ان کے لیے شہادت مقدر کررکھی تھی۔ چنانچہ انہوں نے جوں ہی ابو سفیان کو نشانے پر لے کر تلوار بلند کی شَدّاد بن اوس نے دیکھ لیا اور جھٹ حملہ کردیا جس سے خود حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے۔ تیر اندازوں کاکارنامہ : جبل رماۃ پر جن تیر اندازوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعین فرمایا تھا انہوں نے بھی جنگ کی رفتار مسلمانوں کے موافق چلانے میں بڑا اہم رول ادا کیا۔ مکی شہسواروں نے خالد بن ولید کی قیادت میں اور ابو عامر فاسق کی مدد سے اسلامی فوج کا بایا ں بازو توڑ کر مسلمانوں کی پشت تک پہنچنے اور ان کی صفوں میں کھلبلی مچاکر بھر پور شکست سے دوچار کرنے کے لیے تین بار پُر زور حملے کیے۔ لیکن مسلمان تیر اندازوں نے انہیں اس طرح تیروں سے چھلنی کیا کہ ان کے تینوں حملے ناکام ہو گئے۔[1]