الرحیق المختوم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد خون ریز معرکہ
عین اس وقت جبکہ اسلامی لشکر نرغے میں آکر مشرکین کی چکی کے دوپاٹوں کے درمیان پس رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد اگرد بھی خون ریز معرکہ آرائی جاری تھی۔ ہم بتاچکے ہیں کہ مشرکین نے گھیراؤ کی کارروائی شروع کی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ محض نو آدمی تھے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو یہ کہہ کر پکار اکہ میری طرف آؤ ! میں اللہ کا رسول ہوں، تو آپ کی آواز مشرکین نے سن لی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا۔ (کیونکہ اس وقت وہ مسلمانوں سے بھی زیادہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے ) چنانچہ انہوں نے جھپٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کردیا اور کسی مسلمان کی آمد سے پہلے پہلے اپناپور ابوجھ ڈال دیا۔ اس فوری حملے کے نتیجے میں ان مشرکین اور وہاں پر موجود نوصحابہ کے درمیان نہایت سخت معرکہ آرائی شروع ہوگئی۔ جس میں محبت وجان سپاری اور شجاعت وجانبازی کے بڑے بڑے نادر واقعات پیش آئے۔
صحیح مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُحد کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات انصار اور دوقریشی صحابہ کے ہمراہ الگ تھلگ رہ گئے تھے۔ جب حملہ آور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل قریب پہنچ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کون ہے جو انہیں ہم سے دفع کرے اور اس کے لیے جنت ہے ؟ یا (یہ فرمایا کہ ) وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا؟ اس کے بعد ایک انصاری صحابی آگے بڑھے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ اس کے بعد پھر مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل قریب آگئے ، اور پھر یہی ہوا۔ اس طرح باری باری ساتوں انصاری صحابی شہید ہوگئے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دو باقی ماندہ ساتھیوں ۔ یعنی قریشیوں۔ سے فرمایا : ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔ [1]
ان ساتوں میں سے آخری صحابی حضرت عمارہ بن یزید بن السکن تھے، وہ لڑتے رہے لڑتے رہے یہاں تک کہ زخموں سے چور ہوکر گر پڑے۔ [2]
ابن السکن کے گرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صرف دونوں قریشی صحابی رہ گئے تھے۔ چنانچہ صحیحین میں ابوعثمان رضی اللہ عنہ کا بیان مروی ہے کہ جن ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معرکہ آرائیاں کیں ان میں سے ایک لڑائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طلحہ بن عبید اللہ اور سعد (بن ابی وقاص)کے سوا کوئی نہ رہ گیا تھا۔ [3]اور یہ لمحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے لیے نہایت ہی نازک ترین لمحہ تھا۔ جبکہ مشرکین کے لیے انتہائی سنہری موقع تھا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ مشرکین نے اس موقعے سے فائدہ اٹھانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ انہوں نے اپنا تابڑ توڑ حملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مرکوز رکھا۔ اور چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کردیں۔ اسی حملے میں عُتبہ بن ابی وقاص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارا۔ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلو کے بل گر گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا داہنا نچلا رباعی[4] دانت ٹوٹ گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نچلا ہونٹ زخمی ہوگیا۔ عبد اللہ بن شہاب زہری نے آگے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی زخمی کردی۔ ایک اور اڑیل سوار عبداللہ بن قمئہ نے لپک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر ایسی سخت تلوار ماری کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینے سے زیادہ عرصے اس کی تکلیف محسوس کرتے رہے۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوہری زِرہ نہ کٹ سکی۔ اس کے بعد اس نے پہلے ہی کی طرح پھرایک زور دار تلوار ماری جوآنکھ سے نیچے کی اُبھری ہوئی ہڈی پر لگی اور اس کی وجہ سے خود [1]کی دوکڑیاں چہرے کے اندر دھنس گئیں۔ ساتھ ہی اس نے کہا : اسے لے ، میں قمئہ (توڑنے والے ) کا بیٹا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے سے خون پونچھتے ہوئے فرمایا : اللہ تجھے توڑ ڈالے۔ [2]
صحیح بخاری میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رباعی دانت توڑ دیا گیا اور سر زخمی کردیا گیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے سے خون پونچھتے جارہے تھے ، اور کہتے جارہے تھے ، وہ قوم کیسے کامیاب ہوسکتی ہے جس نے اپنے نبی کے چہرے کو زخمی کردیا۔ اور اس کا دانت توڑ دیا۔ حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہاتھا۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی :
﴿ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾(۳: ۱۲۸)
’’آپ کو کوئی اختیار نہیں اللہ چاہے توانہیں توبہ کی توفیق دے اور چاہے تو عذاب دے کہ وہ ظالم ہیں ۔‘‘[3]
طبرانی کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روزفرمایا :اس قوم پر اللہ کا سخت عذاب ہو جس نے اپنے پیغمبر کا چہرہ خون آلود کر دیا۔ پھر تھوڑی دیر رک کر فرمایا :
(( اللہم اغفر لقومي فإنہم لا یعلمون )) [4]
’’اے اللہ! میری قوم کو بخش دے ،وہ نہیں جانتی ۔‘‘
صحیح مسلم کی روایت میں بھی یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باربار کہہ رہے تھے۔
(( رب اغفر لقومی فإنہم لا یعلمون۔)) [5]
’’اے پروردگار ! میری قوم کو بخش دے وہ نہیں جانتی ۔‘‘
قاضی عیاض کی شفا میں یہ الفاظ ہیں :
(( اللہم اہد قومي فإنہم لا یعلمون )) [1]
’’اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے۔ وہ نہیں جانتی ۔‘‘
اس میں شبہ نہیں کہ مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاکام تمام کردینا چاہتے تھے مگر دونوں قریشی صحابہ، یعنی حضرت سعد بن ابی وقاص اور طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہما نے نادر الوجود جانبازی اور بے مثال بہادر ی سے کام لے کر صرف دوہوتے ہوئے مشرکین کی کامیابی ناممکن بنادی۔ یہ دونوں عرب کے ماہر ترین تیر انداز تھے۔ انہوں نے تیر مارمار کر مشرکین حملہ آوروں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پرے رکھا۔
جہاں تک سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش کے سارے تیر ان کے لیے بکھیر دیئے۔ اور فرمایا: چلا ؤ۔ تم پر میرے ماں باپ فداہوں۔[2]ان کی صلاحیت کا اندازہ اس سے لگا یا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوا کسی اور کے لیے ماں باپ کے فدا ہونے کی بات نہیں کہی۔[3]
اور جہاں تک حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے تو ان کے کارنامے کا اندازہ نسائی کی ایک روایت سے لگا یا جاسکتا ہے۔ جس میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مشرکین کے اس وقت کے حملے کا ذکر کیا ہے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی ذرا سی نفری کے ہمراہ تشریف فرماتھے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جالیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کون ہے جو ان سے نمٹے ؟حضر ت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں۔ اس کے بعد حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے انصار کے آگے بڑھے اور ایک ایک کر کے شہید ہونے کی تفصیل ذکر کی ہے جسے ہم صحیح مسلم کے حوالے سے بیان کر چکے ہیں۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ سب شہید ہوگئے تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے۔ اور گیارہ آدمیوں کے برابر تنہا لڑائی کی۔ یہاں تک کہ ان کے ہاتھ پر تلوار کی ایک ایسی ضرب لگی جس سے ان کی انگلیاں کٹ گئیں۔ اس پر ان کے منہ سے آواز نکلی حس (سی)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بسم اللہ کہتے تو تمہیں فرشتے اٹھا لیتے اور لوگ دیکھتے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ پھر اللہ نے مشرکین کو پلٹادیا۔[1]
اکلیل میں حاکم کی روایت ہے ا نہیں اُحد کے روز انتالیس تا پینتیس زخم آئے۔ اور ان کی بچلی اور شہادت کی انگلیاں شل ہوگئیں۔[2]
امام بخاری نے قیس بن ابی حازم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ دیکھا کہ وہ شل تھا۔ اس سے اُحد کے دن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بچایا تھا۔[3]
ترمذی کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں اس روز فرمایا: جو شخص کسی شہید کو روئے زمین پر چلتا ہوا دیکھنا چاہے وہ طلحہ رضی اللہ عنہ بن عبید اللہ کو دیکھ لے۔[4]
اور ابوداؤد طیالسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ جب جنگ ِاحد کا تذکرہ فرماتے تو کہتے کہ یہ جنگ کل کی کل طلحہ رضی اللہ عنہ کے لیے تھی۔ [5] (یعنی اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کا اصل کا رنامہ انہیں نے انجام دیا تھا) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں یہ بھی کہا :
یا طلحۃ بن عبید اللّٰه قد وجبت لک الجنان وبوأت المہا العینا [6]
’’اے طلحہ بن عبید اللہ تمہارے لیے جنتیں واجب ہوگئیں۔ اور تم نے اپنے یہاں حورعین کا ٹھکا نا بنا لیا ۔‘‘
اسی نازک ترین لمحہ اور مشکل ترین وقت میں اللہ نے غیب سے اپنی مدد نازل فرمائی۔چنانچہ صحیحین میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُحد کے روز دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوآدمی تھے۔ سفید کپڑے پہنے ہوئے۔ یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے انتہائی زوردار لڑائی لڑرہے تھے۔ میں نے اس پہلے اور اس کے بعد ان دونوں کو کبھی نہیں دیکھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یہ دونوں حضرت جبریل وحضرت میکائیل تھے۔[7]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ کے اکٹھا ہونے کی ابتدا:
یہ سارا حادثہ چند لمحات کے اندر اندر بالکل اچانک اور نہایت تیز رفتاری سے پیش آگیا۔ ورنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منتخب صحابہ کرام جو لڑائی کے دوران صفِ اوّل میں تھے، جنگ کی صورت ِ حال بدلتے ہی یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنتے ہی آپ کی طرف بے تحاشا دوڑ کر آئے کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ناگوار حادثہ پیش نہ آجائے۔ مگر یہ لوگ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوچکے تھے۔ چھ انصاری شہید ہوچکے تھے ساتویں زخمی ہوکر گر چکے تھے۔ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ جان توڑ کر مدافعت کررہے تھے۔ ان لوگوں نے پہنچتے ہی اپنے جسموں اور ہتھیاروں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد ایک باڑھ تیار کردی۔ اور دشمن کے تابڑ توڑ حملے روکنے میں انتہائی بہادری سے کام لیا۔ لڑائی کی صف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پلٹ کر آنے والے سب سے پہلے صحابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یارِ غار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔
ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اُحد کے دن سارے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پلٹ گئے تھے۔ (یعنی محافظین کے سوا تمام صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قیام گاہ میں چھوڑ کر لڑائی کے لیے اگلی صفوں میں چلے گئے تھے۔ پھر گھیراؤ کے حادثے کے بعد ) میں پہلا شخص تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پلٹ کر آیا۔ دیکھا تو آپ کے سامنے ایک آدمی تھا۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑرہا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچا رہا تھا۔ میں نے (جی ہی جی میں ) کہا:تم طلحہ رضی اللہ عنہ ہو ؤ۔ تم پر میرے ماں باپ فداہوں۔ تم طلحہ ہوؤ۔ تم پر میرے ماں باپ فداہوں۔ (چونکہ مجھ سے یہ لمحہ فوت ہو گیا تھا، اس لیے میں نے کہا کہ میری قوم ایک آدمی ہو تو یہ زیادہ پسندیدہ بات ہے۔ اتنے میں ابو عبیدہ بن جراح میرے پاس آگئے۔ وہ اس طرح دوڑ رہے تھے۔ گویا چڑیا (اُڑ رہی ) ہے۔ یہاں تک کہ مجھ سے آملے۔ اب ہم دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑے۔ دیکھا تو آپ کے آگے طلحہ بچھے پڑے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے بھائی کو سنبھالو اس نے (جنت ) واجب کرلی۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ (ہم پہنچے تو ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی ہوچکا تھا۔ اور خُود کی دوکڑیاں آنکھ کے نیچے رخسار میں دھنس چکی تھیں۔ میں نے انہیں نکالنا چاہا تو ابو عبیدہ نے کہا: اللہ کا واسطہ دیتا ہوں مجھے نکالنے دیجیے۔ اس کے بعد انہوں نے منہ سے ایک کڑی پکڑ ی۔ اور آہستہ آہستہ نکالنی شروع کی تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت نہ پہنچے۔ اور بالآخر ایک کڑی اپنے منہ سے کھینچ کر نکال دی لیکن ( اس کوشش میں ) ان کا ایک نچلا دانت گرگیا۔ اب دوسری میں نے کھینچنی چاہی تو ابو عبیدہ نے پھر کہا : ابوبکر ! اللہ کا واسطہ دیتا ہوں مجھے کھینچنے دیجیے ! اس کے بعد دوسری بھی آہستہ آہستہ کھینچی۔ لیکن ان کا دوسرا نچلا دانت بھی گرگیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے بھائی طلحہ رضی اللہ عنہ کو سنبھالو۔ (اس نے جنت ) واجب کرلی۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اب ہم طلحہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور انہیں سنبھالا۔ ان کو دس سے زیادہ زخم آچکے تھے۔[1]تہذیب تاریخ دمشق میں ہے کہ ہم ان کے پاس بعض گڑھوں میں ائے تو کیا دیکھتے ہیں کہ انہیں نیزے ، تیراور تلوار کے کم وبیش ساٹھ زخم لگے ہوئے ہیں۔ اور ان کی انگلی کٹ گئی ہے۔ ہم نے کسی قدر ان کا حال درست کیا۔ (اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن دفاع وقتال میں کیسی جانبازی اور بے جگری سے کام لیا تھا۔)
پھر ان ہی نازک ترین لمحات کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جانباز صحابہ کی ایک جماعت بھی آن پہنچی۔ جن کے نام یہ ہیں:
1۔ ابو دجانہ 2۔ مصعب بن عمیر 3۔ علی بن ابی طالب
4۔ سہل بن حُنیف 5۔ مالک بن سنان(ابو سعید خدری کے والد ) 6۔ ام عمارہ نُسیبہ بنت کعب مازنیہ
7۔ قتادہ بن نعمان 8۔ عمر بن الخطاب
9۔ حاطب بن ابی بلتعہ اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہما
مشرکین کے دباؤ میں اضافہ:
ادھر مشرکین کی تعدادبھی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جارہی تھی۔ جس کے نتیجے میں ان کے حملے سخت ہوتے جارہے تھے اور ان کا دباؤ بڑھتا جارہا تھا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان چند گڑھوں میں سے ایک گڑھے میں جاگرے۔ جنہیں ابو عامر فاسق نے اسی قسم کی شرارت کے لیے کھود رکھا تھا۔ اور اس کے نتیجے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھُٹنا موچ کھا گیا۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھاما۔ اور طلحہ بن عبید اللہ نے ( جو خود بھی زخموں سے چُور تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آغوش میں لیا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر کھڑے ہوسکے۔
نافع بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ایک مہاجر صحابی کو سنا فرمارہے تھے : میں جنگ اُحد میں حاضر تھا۔ میں نے دیکھا کہ ہر جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تیر برس رہے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیروں کے بیچ میں ہیں لیکن سارے تیر آپؐ سے پھیر دیے جاتے ہیں۔ (یعنی آگے گھیرا ڈالے ہوئے صحابہ انہیں روک لیتے تھے۔ ) اور میں نے دیکھا کہ عبد اللہ بن شہاب زہری کہہ رہا تھا: مجھے بتاؤ محمد کہاں ہے ؟ اب یاتو میں رہوں گا یا وہ رہے گا۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بازو میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم كےساتھ کوئی بھی نہ تھا۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکل گیا۔ اس پر صفوان نے اسے ملامت کی۔ جواب میں اس نے کہا: واللہ ! میں نے اسے دیکھا ہی نہیں۔ اللہ کی قسم! وہ ہم سے محفوظ کردیا گیا ہے۔ اس کے بعد ہم چار آدمی یہ عہد وپیمان کر کے نکلے کہ انہیں قتل کردیں گے لیکن ان تک پہنچ نہ سکے۔[1]
نادرۂ روزگار جانبازی:
بہرحال اس موقع پر مسلمانوں نے ایسی نادرۂ روزگار جانبازی اور تابناک قربانیوں سے کام لیا جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ چنانچہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سپربنا لیا۔ وہ اپنا سینہ اوپر اٹھا لیا کرتے تھے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمن کے تیروں سے محفوظ رکھ سکیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اُحد کے روز لوگ (یعنی عام مسلمان) شکست کھاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (آنے کے بجائے اِدھر اُدھر )بھاگ گئے۔ اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے اپنی ایک ڈھال لے کر سپر بن گئے۔ وہ ماہر تیر انداز تھے ، بہت کھینچ کر تیر چلاتے تھے۔ چنانچہ اس دن دویاتین کمانیں توڑ ڈالیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے کوئی آدمی تیروں کا ترکش لیے گزرتا تو آپ فرماتے کہ انہیں ابو طلحہ کے لیے بکھیر دو۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم قوم کی طرف سر اٹھا کر دیکھتے تو ابو طلحہ کہتے : میرے ماں باپ آپ پر قربان ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر اٹھا کر نہ جھانکیں۔ آپ کوقوم کا کوئی تیر نہ لگ جائے ، میرا سینہ آپ کے سینہ کے آگے ہے۔[2]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمیت ایک ہی ڈھال سے بچاؤ کررہے تھے اور ابو طلحہ بہت اچھے تیر انداز تھے۔ جب وہ تیر چلاتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم گردن اٹھا کر دیکھتے کہ ان کا تیر کہاں گرا۔[3]
حضرت ابو دجانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہوگئے۔ اور اپنی پیٹھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ڈھال بنادیا۔ ان پر تیر پڑ رہے تھے لیکن وہ ہلتے نہ تھے۔
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے عُتبہ بن وقاص کا پیچھا کیا۔ جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دندان مبارک شہید کیا تھا۔ اور اسے اس زور کی تلوار ماری کہ اس کا سر چھٹک گیا۔ پھر اس کے گھوڑے اور تلوار پر قبضہ کرلیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بہت زیادہ خواہاں تھے کہ اپنے اس بھائی ۔ عُتبہ ۔ کو قتل کریں۔ مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ بلکہ یہ سعادت حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کی قسمت میں تھی۔
حضرت سَہل رضی اللہ عنہ بن حُنیف بھی بڑے جانباز تیر انداز تھے۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت کی اور اس کے بعد مشرکین کو نہایت زور شور سے دفع کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی تیر چلارہے تھے۔ چنانچہ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کمان سے اتنے تیر چلائے کہ اس کاکنارہ ٹوٹ گیا۔ پھر اس کمان کو حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے لے لیا، اور وہ انہیں کے پاس رہی۔ اس روز یہ واقعہ بھی ہوا کہ حضرت قتادہ کی آنکھ چوٹ کھا کر چہرے پر ڈھلک آئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے پپوٹے کے اندر داخل کردی۔ اس کے بعد ان کی دونوں آنکھوں میں یہی زیادہ خوبصورت لگتی تھی۔ اور اسی کی بینائی زیادہ تیز تھی۔
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے لڑتے لڑتے منہ میں چوٹ کھائی ، جس سے ان کا سامنے کا دانت ٹوٹ گیا۔ اور انہیں بیس یا بیس سے زیادہ زخم آئے جن میں سے بعض زخم پاؤں میں لگے اور وہ لنگڑے ہوگئے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے والد مالک بن سنان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے خون چوس کر صاف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تھوک دو۔ انہوں نے کہا : واللہ اسے تو میں ہرگز نہ تھوکوں گا۔ اس کے بعد پلٹ کر لڑنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص کسی جنتی آدمی کو دیکھنا چاہتا ہو وہ انہیں دیکھے۔ اس کے بعد وہ لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔
ایک نادر کارنامہ خاتون صحابیہ حضرت ام عمارہ نسیبہ بنت کعب رضی اللہ عنہا نے انجام دیا۔ وہ چند مسلمانوں کے درمیان لڑتی ہوئی ابن قمئہ کے سامنے اڑگئیں۔ ابن قمئہ نے ان کے کندھے پر ایسی تلوار ماری کہ گہرا زخم ہوگیا۔ انہوں نے بھی ابن قمئہ کو اپنی تلوار کی کئی ضرب لگائی لیکن کمبخت دوزِرہیں پہنے ہوئے تھا ، اس لیے بچ گیا۔ حضرت ام ِ عمارہ رضی اللہ عنہا نے لڑتے بھڑتے بارہ زخم کھائے۔
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے بھی انتہائی پامردی وجانبازی سے جنگ کی۔
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن قمئہ اور اس کے ساتھیوں کے پے در پے حملوں کا دفاع کررہے تھے۔ انہی کے ہاتھ میں اسلامی لشکر کا پھریرا تھا۔ ظالموں نے ان کے داہنے ہاتھ پر اس زور کی تلوار ماری کہ ہاتھ کٹ گیا۔ اس کے بعد انہوں نے بائیں ہاتھ میں جھنڈا پکڑ لیا۔ اور کفار کے مد مقابل ڈٹے رہے بالآخر ان کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے جھنڈے پر گھٹنے ٹیک کر اسے سینے اور گردن کے سہارے لہرائے رکھا۔ اور اسی حالت میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ان کا قاتل ابن قمئہ تھا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ کیونکہ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ بن عمیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم شکل تھے۔ چنانچہ وہ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ کو شہید کرکے مشرکین کی طرف واپس چلاگیا اور چلا ّچلاّ کر اعلان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے۔[1]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر اور معرکہ پر اس کا اثر:
اس کے اس اعلان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر مسلمانوں اور مشرکین دونوں میں پھیل گئی۔ اور یہی وہ نازک ترین لمحہ تھا۔ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ تھلگ نرغے کے اندر آئے ہوئے بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ان کے عزائم سرد پڑ گئے اور ان کی صفیں اتھل پتھل اور بد نظمی وانتشار کا شکار ہوگئیں۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی یہی خبر اس حیثیت سے مفید ثابت ہوئی کہ اس کے بعد مشرکین کے پُرجوش حملوں میں کسی قدر کمی آگئی۔ کیونکہ وہ محسوس کررہے تھے کہ ان کا آخری مقصد پورا ہوچکا ہے۔ چنانچہ اب بہت سے مشرکین نے حملہ بند کرکے مسلمان شہداء کی لاشوں کا مُثلہ کرنا شروع کردیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیہم معرکہ آرائی اور حالات پر قابو:
حضرت مُصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کودیا۔ انہوں نے جم کر لڑائی کی۔ وہاں پر موجود باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی بے مثال جانبازی وسرفروشی کے ساتھ دفاع اور حملہ کیا۔ جس سے بالآخر اس بات کا امکان پیدا ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کی صفیں چیر کر نرغے میں آئے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانب راستہ بنائیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قدم آگے بڑھایا اور صحابہ کرام کی جانب تشریف لائے۔ سب سے پہلے حضرت کعب بن مالک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا۔ خوشی سے چیخ پڑے کہ مسلمانو! خوش ہوجاؤ۔ یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ خاموش رہو ۔ تاکہ مشرکین کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی اور مقام موجودگی کا پتہ نہ لگ سکے ۔ مگر ان کی آواز مسلمانوں کے کان تک پہنچ چکی تھی۔ چنانچہ مسلمان آپ کی پناہ میں آنا شروع ہوگئے۔ اور رفتہ رفتہ تقریباً تیس صحابہ جمع ہوگئے۔
جب اتنی تعداد جمع ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ کی گھاٹی، یعنی کیمپ کی طرف ہٹنا شروع کیا مگر چونکہ اس واپسی کے معنی یہ تھے کہ مشرکین نے مسلمانوں کو نرغے میں لینے کی جو کارروائی کی تھی وہ بے نتیجہ رہ جائے۔ اس لیے مشرکین نے اس واپسی کو ناکام بنانے کے لیے اپنے تابڑ توڑحملے جاری رکھے۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حملہ آوروں کا ہجوم چیر کر راستہ بناہی لیا۔ اور شیرا ن ِ اسلام کی شجاعت وشہ زوری کے سامنے ان کی ایک نہ چلی۔ چنانچہ اسی اثناء میں مشرکین کا ایک اڑیل شہسوار عثمان بن عبداللہ بن مغیرہ یہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب بڑھا کہ یا تو میں رہوں گا یا وہ رہے گا۔ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی دودوہاتھ کرنے کے لیے ٹھہر گئے مگر مقابلے کی نوبت نہ آئی۔ کیونکہ اس کا گھوڑا ایک گڑھے میں گر گیا۔ اور اتنے میں حارث بن صمہ نے اس کے پاس پہنچ کر اسے للکارا۔ اور اس کے پاؤں پر اس زور کی تلوار ماری کہ وہیں بٹھادیا ، پھر اس کاکام تمام کرکے اس کا ہتھیار لے لیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اگئے مگر اتنے میں مکی فوج کے ایک دوسرے سوار عبد اللہ بن جابر نے پلٹ کر حضرت حارثہ بن صمہ پر حملہ کردیا اور ان کے کندھے پر تلوار مار کر زخمی کردیا۔ مگر مسلمانوں نے لپک کر انہیں اٹھا لیا۔ اور اُدھر خطرات سے کھیلنے والے مرد مجاہد حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ ، جنہوں نے آج سرخ پٹی باندھ رکھی تھی ، عبداللہ بن جابر پر ٹوٹ پڑے اور اسے ایسی تلوارماری کہ اس کا سر اڑگیا۔
کرشمۂ قدرت دیکھئے کہ اسی خونریز مار دھاڑ کے دوران مسلمانوں کو نیند کی چھپکیاں بھی آرہی تھیں اور جیسا کہ قرآن نے بتلایا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے امن وطمانیت تھی۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں تھا جن پر اُحد کے روز نیند چھارہی تھی ، یہاں تک کہ میرے ہاتھ سے کئی بار تلوار گرگئی۔حالت یہ تھی کہ وہ گرتی تھی اور میں پکڑتا تھا ،پھر گرتی تھی اور پھر پکڑتا تھا۔[1]
خلاصہ یہ کہ اس طرح کی جانبازی وجان سپاری کے ساتھ یہ دستہ منظم طور سے پیچھے ہٹتا ہوا پہاڑ کی گھاٹی میں واقع کیمپ تک جاپہنچا۔ اور بقیہ لشکر کے لیے بھی اس محفوظ مقام تک پہنچنے کا راستہ بنادیا۔ چنانچہ باقی ماندہ لشکر بھی اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگیا۔ اور حضرت خالد کی فوجی عبقریت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فوجی عبقریت کے سامنے ناکام ہوگئی۔
اُبی بن خلف کا قتل:
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹی میں تشریف لاچکے تو اُبی بن خلف یہ کہتا ہوا آیا کہ محمد کہاں ہے ؟ یاتو میں رہوں گا یا وہ رہے گا۔ صحابہ نے کہا : یارسول اللہ !ہم میں سے کوئی اس پر حملہ کرے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے آنے دو۔ جب قریب آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حارث بن صمہ سے ایک چھوٹا سا نیزہ لیا۔ اور لینے کے بعد جھٹکا دیا تو اس طرح لوگ ادھر ادھر اڑ گئے جیسے اُونٹ اپنے بدن کو جھٹکا دیتا ہے تو مکھیاں اُڑ جاتی ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مد مقابل پہنچے۔ اس کی خود اور زِرہ کے درمیان حلق کے پاس تھوڑی سی جگہ کھُلی دکھائی پڑی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پر ٹکا کر ایسا نیزہ مارا کہ وہ گھوڑے سے کئی بار لڑھک لڑھک گیا۔ جب قریش کے پاس گیا ۔ درآں حالیکہ گردن میں کوئی بڑی خراش نہ تھی۔ البتہ خون بند تھا اور بہتا نہ تھا ۔ توکہنے لگا : مجھے واللہ! محمد نے قتل کردیا۔لوگوں نے کہا : اللہ کی قسم ! تمہارا دل چلا گیا ہے۔ ورنہ تمہیں واللہ کوئی خاص چوٹ نہیں ہے۔ اس نے کہا : وہ مکے میں مجھ سے کہہ چکا تھا کہ میں تمہیں قتل کروں گا۔[1]اس لیے اللہ کی قسم! اگر وہ مجھ پرتھوک دیتا تو بھی میری جان چلی جاتی۔ بالآخر اللہ کا یہ دشمن مکہ واپس ہوتے ہوئے مقام سرف پہنچ کر مر گیا۔[2] ابو الاسود نے حضرت عروہ سے روایت کی ہے کہ یہ بیل کی طرح آواز نکالتا تھا اور کہتا تھا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو تکلیف مجھے ہے اگر وہ ذی المجاز کے سارے باشندوں کوہوتی تو وہ سب کے سب مرجاتے۔[3]
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھاتے ہیں:
پہاڑ کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی کے دوران ایک چٹان پڑگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چڑھنے کی کوشش کی مگر چڑھ نہ سکے۔ کیونکہ ایک تو آپ کا بدن بھاری ہوچکا تھا۔ دوسرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوہری زِرہ پہن رکھی تھی۔ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت چوٹیں بھی آئی تھیں۔ لہٰذا حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بن عبیداللہ نیچے بیٹھ گئے۔ اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوار کرکے کھڑے ہوگئے۔ اس طرح آپ چٹان پر پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’طلحہ نے (جنت ) واجب کرلی۔ ‘‘[1]
مشرکین کا آخری حملہ:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹی کے اندر اپنی قیادت گاہ میں پہنچ گئے تو مشرکین نے مسلمانوں کو زک پہنچانے کی آخری کوشش کی۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ اس اثناء میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹی کے اندر تشریف فرماتھے۔ ابو سفیان اور خالد بن ولید کی قیادت میں مشرکین کاایک دستہ چڑھ آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دُعا فرمائی کہ اے اللہ ! یہ ہم سے اوپر نہ جانے پائیں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب اور مہاجرین کی ایک جماعت نے لڑکر انہیں پہاڑ سے نیچے اتار دیا۔[2]
مغازی اموی کا بیان ہے کہ مشرکین پہاڑ پر چڑھ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ان کے حوصلے پست کرو ، یعنی انہیں پیچھے دھکیل دو۔ انہوں نے کہا : میں تنہا ان کے حوصلے کیسے پست کروں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہی بات دہرائی۔ بالآخر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا۔ اور ایک شخص کو مارا تو وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پھر اپنا تیر لیا ، اسے پہچانتا تھا۔ اور اس سے دوسرے کو مار ا تو اس کا بھی کام تمام ہوگیا اس کے بعد پھر تیر لیا۔ اسے پہچانتا تھا اور اس سے ایک تیسرے کو مارا تو اس کی بھی جان جاتی رہی۔ اس کے بعد مشرکین نیچے اُتر گئے۔ میں نے کہا یہ مبارک تیر ہے۔ پھر میں نے اسے اپنے ترکش میں رکھ لیا۔ یہ تیر زندگی بھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس رہا۔ اور ان کے بعد ان کی اولاد کے پاس رہا۔[3]
شہداء کا مُثلہ:
یہ آخری حملہ تھا جو مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کیا تھا ، چونکہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انجام کا صحیح علم نہ تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کا تقریباً یقین تھا، اس لیے انہوں نے اپنے کیمپ کی طرف پلٹ کر مکہ واپسی کی تیاری شروع کردی۔
کچھ مشرکین مرد اور عورتیں مسلمان شہداء کے مثلہ میں مشغول ہوگئے۔ یعنی شہیدوں کی شرمگاہیں اورکان ، ناک وغیرہ کاٹ لیے۔ پیٹ چیر دیے۔ ہند بنت عتبہ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چاک کردیا اور مُنہ میں ڈال کر چبایا اور نگلنا چاہا لیکن نگل نہ سکی تو تھوک دیا۔ اور کٹے ہوئے کانوں اور ناکوں کاپازیب اور ہار بنایا۔[1]
آخرتک جنگ لڑنے کے لیے مسلمانوں کی مستعدی:
پھر اس آخری وقت میں دوایسے واقعات پیش آئے جن سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جانبازوسرفروش مسلمان اخیر تک جنگ لڑنے کے لیے کس قدر مستعد تھے۔ اور اللہ کی راہ میں جان دینے کا کیسا ولولہ خیز جذبہ رکھتے تھے۔
1۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیا ن ہے کہ میں ان مسلمانوں میں تھا جو گھاٹی سے باہر آئے تھے۔ میں نے دیکھا کہ مشرکین کے ہاتھوں مسلمان شہداء کا مُثلہ کیا جارہا ہے تو رک گیا۔ پھر آگے بڑھا ، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مشرک جو بھاری بھرکم زِرہ میں ملبوس تھا شہیدوں کے درمیا ن سے گزررہا ہے۔ اور کہتا جارہا ہے کہ کٹی ہوئی بکریوں کی طرح ڈھیر ہوگئے۔ اور ایک مسلمان اس کی راہ تک رہا ہے۔ وہ بھی زِرہ پہنے ہوئے ہے۔ میں چند قدم اور بڑھ کر اس کے پیچھے ہولیا۔ پھر کھڑے ہوکر آنکھوں ہی آنکھوں میں مسلم اور کافر کو تولنے لگا۔ محسوس ہوا کہ کافر اپنے ڈیل ڈول اور سازوسامان دونوں لحاظ سے بہتر ہے۔ اب میں دونوں کا انتظار کرنے لگا۔ بالآخر دونوں میں ٹکر ہوگئی اور مسلمان نے کافر کو ایسی تلوار ماری کہ وہ پاؤں تک کاٹتی چلی گئی۔ مشرک دوٹکڑے ہوکر گرا، پھر مسلمان نے اپنا چہرا کھولا اور کہا : او کعب ! کیسی رہی ؟ میں ابو دجانہ ہوں۔[2]
2۔ خاتمۂ جنگ پر کچھ مومن عورتیں میدانِ جہاد میں پہنچیں۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ اور امِ سُلیم کو دیکھا کہ پنڈلی کے پازیب تک کپڑے چڑھائے پیٹھ پر مشک لاد لاد کر لارہی تھیں۔ اور قوم کے منہ میں انڈیل رہی تھیں۔ [3]حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ احد کے روز حضرت اُم ِ سلیط رضی اللہ عنہ ہمارے لیے مشک بھر بھر کر لارہی تھیں۔[4]
ان ہی عورتوں میں حضرت امِ ایمن بھی تھیں۔ انہوں نے جب شکست خوردہ مسلمانوں کودیکھا کہ مدینے میں گھسنا چاہتے ہیں تو ان کے چہروں پر مٹی پھینکنے لگیں اور کہنے لگیں : یہ سوت کاتنے کا تکلالو اور ہمیں تلوار دو۔ [1]اس کے بعد تیزی سے میدان جنگ پہنچیں اور زخمیوں کو پانی پلانے لگیں۔ ان پر حِبان بن عرقہ نے تیر چلایا ، وہ گر پڑیں۔ اور پردہ کھل گیا۔ اس پر اللہ کے اس دشمن نے بھر پور قہقہہ لگایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات گراں گزری۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک بے ریش تیردے کر فرمایا: اسے چلاؤ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے چلایا تو وہ تیر حِبان کے حلق پر لگا۔ اور وہ چت گرا۔ اور اس کا پردہ کھل گیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ہنسے کہ جڑ کے دانت دکھائی دینے لگے۔ اورفرمایا: سعد نے اُمِ ایمن کا بدلہ چکا لیا۔ اللہ ان کی دعا قبول کرے۔[2]
گھاٹی میں قراریابی کے بعد:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھاٹی کے اندر اپنی قیام گاہ میں ذرا قرار پالیا تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مہر اس سے اپنی ڈھال میں پانی بھر لائے ۔ کہا جاتا ہے مہراس پتھر میں بنا ہوا وہ گڑھا ہوتا ہے جس میں زیادہ ساپانی آسکتا ہو۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ احد میں ایک چشمے کا نام تھا۔ بہرحال حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وہ پانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پینے کے لیے پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قدرے ناگوار بو محسوس کی اس لیے اسے پیا تو نہیں۔ البتہ اس سے چہرے کا خون دھولیا اور سر پر بھی ڈال لیا۔ اس حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : اس شخص پر اللہ کا غضب ہو جس نے اس کے نبی ؐ کے چہرے کو خون آلود کیا۔[3]
حضرت سَہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زخم کس نے دھویا ؟ پانی کس نے بہایا ؟ اور علاج کس چیز سے کیا گیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لختِ جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زخم دھورہی تھیں۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ڈھال سے پانی بہا رہے تھے۔ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ پانی کے سبب خون بڑھتا ہی جارہا ہے تو چٹائی کا ایک ٹکڑ ا لیا۔اور اسے جلا کر چپکا دیا ، جس سے خون رک گیا۔[4]
ادھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ شیریں اور خوش ذائقہ پانی لائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا : اور دعائے خیر دی۔ [1] زخم کے اثر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز بیٹھے بیٹھے پڑھی۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ ہی کر نماز ادا کی۔[2]
ابو سفیان کی شماتت اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دودو باتیں:
مشرکین نے واپسی کی تیاری مکمل کرلی تو ابو سفیان جبل اُحد پر نمودار ہوا۔ اور بآواز بلند بو لا: کیا تم میں محمد ہیں ؟ لوگوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔اس نے پھر کہا : کیا تم میں ابو قحافہ کے بیٹے (ابوبکر ) ہیں؟ لوگوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے پھر سوال کیا : کیا تم میں عمر بن خطاب ہیں ؟ لوگوں نے اب کی مرتبہ بھی جواب نہ دیا ۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کا جواب دینے سے منع فرمادیا تھا۔ ابو سفیان نے ان تین کے سوا کسی اور کے بارے میں نہ پوچھا۔ کیونکہ اسے اور اس کی قوم کو معلوم تھا کہ اسلام کا قیام ان ہی تینوں کے ذریعے ہے۔ بہرحال جب کوئی جواب نہ ملا تو اس نے کہا : چلو ان تینوں سے فرصت ہوئی۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بے قابو ہوگئے۔ اور بولے: او اللہ کے دشمن ! جن کا تو نے نام لیا ہے وہ سب زندہ ہیں۔ اور ابھی اللہ نے تیری رسوائی کا سامان باقی رکھا ہے۔اس کے بعد ابو سفیان نے کہا: تمہارے مقتولین کا مُثلہ ہوا ہے۔ لیکن میں نے نہ اس کا حکم دیا تھا اور نہ اس کا براہی منایا ہے۔ پھر نعرہ لگا یا : اُعلُ ھُبَل۔ ھبل بلند ہو۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ جواب کیوں نہیں دیتے۔ صحابہ نے عرض کیا: کیا جواب دیں ؟ آپ نے فرمایا: کہو: ((اللّٰہ أعلی وأجل)) ’’اللہ اعلیٰ اور برتر ہے۔ ‘‘
پھر ابو سفیان نے نعرہ لگایا : لنا عزی ولا عزی لکم۔ ’’ہمارے لیے عُزیٰ ہے۔ اور تمہارے لیے عُزیٰ نہیں ۔‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جواب کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ نے دریافت کیا : کیا جواب دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کہو: ((اللّٰہ مولانا ولا مولی لکم)) ’’اللہ ہمار امولیٰ ہے اور تمہاراکوئی مولیٰ نہیں ۔‘‘
اس کے بعد ابو سفیان نے کہا : کتنا اچھا کارنامہ رہا۔ آج کا دن جنگ بدر کے دن کا بدلہ ہے اور لڑائی ڈول ہے۔[1]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں کہا : برابر نہیں۔ ہمارے مقتولین جنت میں ہیں۔ اور تمہارے مقتولین جہنم میں۔
اس کے بعد ابو سفیان نے کہا : عمر! میرے قریب آؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ۔ دیکھو کیا کہتا ہے ؟ وہ قریب آئے تو ابو سفیان نے کہا : عمر ! میں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا ہم نے محمد کو قتل کردیا ہے ؟حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ ! نہیں۔ بلکہ اس وقت وہ تمہاری باتیں سن رہے ہیں۔ ابو سفیان نے کہا : تم میرے نزدیک ابن قمئہ سے زیادہ سچے اور راست باز ہو۔[2]
بدر میں ایک اور جنگ لڑنے کا عہد وپیمان:
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ ابوسفیان اور اس کے رُفقاء واپس ہونے لگے تو ابو سفیان نے کہا : آئندہ سال بدر میں پھر لڑنے کا وعدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا : کہہ دو ٹھیک ہے۔ اب یہ بات ہمارے اور تمہارے درمیا ن طے رہی۔[3]
مشرکین کے موقف کی تحقیق:
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا۔ اور فرمایا: قوم (مشرکین ) کے پیچھے پیچھے جاؤ۔ اور دیکھو وہ کیا کررہے ہیں ؟ اور ان کاارادہ کیا ہے ؟ اگر انہوں نے گھوڑے پہلو میں رکھے ہوں اور اونٹوں پر سوارہوں تو ان کا ارادہ مکہ کا ہے۔ اور اگر گھوڑوں پر سوار ہوں ، اور اونٹ ہانک کر لے جائیں تو مدینے کا ارادہ ہے۔ پھر فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر انہوں نے مدینے کا ارادہ کیا تو میں مدینے جاکر ان سے دودوہاتھ کروں گا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس کے بعد میں ان کے پیچھے نکلا تو دیکھا کہ انہوں نے گھوڑے پہلو میں کررکھے ہیں۔ اونٹوں پر سوار ہیں۔ اور مکے کا رُخ ہے[4]
شہیدوں اور زخمیوں کی خبر گیری:
قریش کی واپسی کے بعد مسلمان اپنے شہیدوں اور زخمیوں کی کھوج خبر لینے کے لیے فارغ ہوگئے۔ حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ احد کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا کہ میں سعد بن الربیع کو تلاش کروں اور فرمایا کہ اگر وہ دکھائی پڑجائیں تو انہیں میرا سلام کہنا۔ اور یہ کہنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت کررہے ہیں کہ تم اپنے آپ کو کیسا پارہے ہو؟ حضرت زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مقتولین کے درمیان چکر لگاتے ہوئے ان کے پاس پہنچا تو ان کی آخری سانس آجارہی تھی۔ انہیں نیزے ، تلوار اور تیر کے ستر سے زیادہ زخم آئے تھے۔ میں نے کہا: اے سعد ! اللہ کے رسول آپ کو سلام کہتے ہیں اور دریافت فرمارہے ہیں کہ مجھے بتاؤ اپنے آپ کو کیسا پارہے ہو ؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلا م۔ آپ سے عرض کرو کہ یارسول اللہ ! جنت کی خوشبو پارہا ہوں۔ اور میری قوم انصار سے کہو کہ اگر تم میں سے ایک آنکھ بھی ہلتی رہی ، اور دشمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گیا تو تمہارے لیے اللہ کے نزدیک کوئی عذر نہ ہوگا۔ اور اسی وقت ان کی روح پرواز کر گئی۔[1]
لوگوں نے زخمیوں میں اُصیرم کو بھی پایا۔ جن کا نام عمرو بن ثابت تھا۔ ان میں تھوڑی سی رمق باقی تھی۔ اس سے قبل انہیں اسلام کی دعوت دی جاتی تھی مگر وہ قبول نہیں کرتے تھے۔ اس لیے لوگوں نے (حیرت سے ) کہا: یہ اصیرم کیسے آیا ہے ؟ اسے تو ہم نے اس حالت میں چھوڑا تھا کہ وہ اس دین کا انکاری تھا۔ چنانچہ ان سے پوچھا گیا کہ تمہیں یہاں کیا چیز لے آئی ؟ قوم کی حمایت کا جوش ؟ یا اسلام کی رغبت ؟ انہوں نے کہا : اسلام کی رغبت۔ درحقیقت میں اللہ اور اس کے رسول ؐ پر ایمان لے آیا۔ اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں شریک ِ جنگ ہوا۔ یہاں تک کہ اب اس حالت سے دوچار ہوں جو آپ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ اور اسی وقت ان کا انتقال ہوگیا۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جنتیوں میں سے ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حالانکہ اس نے اللہ کے لیے ایک وقت کی بھی نماز نہیں پڑھی تھی۔[2]
(کیونکہ اسلام لانے کے بعد ابھی کسی نماز کا وقت آیا ہی نہ تھا کہ شہید ہوگئے )
ان ہی زخمیوں میں قُزمان بھی ملا۔ اس نے جنگ میں خوب خوب داد ِ شجاعت دی تھی۔ اور تنہا سات یا آٹھ مشرکین کو تہ تیغ کیا تھا۔ وہ جب ملا تو زخموں سے چور تھا ، لوگ اسے اٹھا کر بنو ظفر کے محلے میں لے گئے۔ اور مسلمانوں نے خوشخبری سنائی۔ کہنے لگا : واللہ! میری جنگ تو محض اپنی قوم کے ناموس کے لیے تھی۔ اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں لڑائی ہی نہ کرتا۔ اس کے بعد جب اس کے زخموں نے شدت اختیار کی تو اس نے اپنے آپ کو ذبح کر کے خودکشی کرلی۔ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا جب بھی ذکر کیا جاتا تھا تو فرماتے تھے کہ وہ جہنمی ہے۔[1] (اور اس واقعے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی پر مہر تصدیق ثبت کردی) حقیقت یہ ہے کہ اِعلائِ کلمۃُ اللہ کے بجائے وطنیت یا کسی بھی دوسری راہ میں لڑنے والوں کا انجام یہی ہے۔ چاہے وہ اسلام کے جھنڈے تلے بلکہ رسول اور صحابہ کے لشکر ہی میں شریک ہوکر کیوں نہ لڑرہے ہوں۔
اس کے بالکل بر عکس مقتولین میں بنو ثعلبہ کا ایک یہودی تھا۔ اس نے اس وقت جبکہ جنگ کے بادل منڈلارہے تھے ، اپنی قوم سے کہا : اے جماعت یہود ! اللہ کی قسم تم جانتے ہو کہ محمد کی مدد تم پر فرض ہے۔ یہود نے کہا : مگر آج سَبت (سنیچر ) کا دن ہے۔ اس نے کہا: تمہارے لیے کوئی سبت نہیں ، پھر اس نے اپنی تلوار لی۔ ساز وسامان اٹھا یا۔ اور بولا: اگر میں مارا جاؤں تو میرا مال محمد( صلی اللہ علیہ وسلم)کے لیے ہے۔ وہ اس میں جو چاہیں گے کریں گے۔ اس کے بعد میدانِ جنگ میں گیا اور لڑتے بھِڑتے مارا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مُخیریق بہترین یہودی تھا۔[2]
اس موقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی شہداء کا معائنہ فرمایا۔ اور فرمایا کہ میں ان لوگوں کے حق میں گواہ رہوں گا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی کیا جاتا ہے۔ اسے اللہ قیامت کے روز اس حالت میں اٹھائے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا۔ رنگ تو خون ہی کا ہوگا لیکن خوشبو مشک کی خوشبو ہوگی۔[3]
کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ نے اپنے شہداء کو مدینہ منتقل کرلیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اپنے شہیدوں کو واپس لاکر ان کی شہادت گاہوں میں دفن کریں، نیز شہداء کے ہتھیار اور پوستین کے لباس اتار لیے جائیں ،پھر انہیں غسل دیئے بغیر جس حالت میں ہوں اسی حالت میں دفن کردیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دودوتین تین شہیدوں کو ایک ہی قبر میں دفن فرمارہے تھے۔ اور دودوآدمیوں کو ایک ہی کپڑے میں اکٹھا لپیٹ دیتے تھے۔ اور دریافت فرماتے تھے کہ ان میں سے کس کو قرآن زیادہ یاد ہے۔ لوگ جس کی طرف اشارہ کرتے اسے لحد میں آگے کرتے اور فرماتے کہ میں قیامت کے روز ان لوگوں کے بارے میں گواہی دوں گاعبد اللہ بن عمرو بن حرام اور عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ ایک ہی قبر میں دفن کیے گئے ، کیونکہ ان دونوں میں دوستی تھی۔[1]
حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کی لاش غائب تھی۔ تلاش کے بعد ایک جگہ اس حالت میں ملی کہ زمین سے اوپر تھی اور اس سے پانی ٹپک رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بتلایا کہ فرشتے انہیں غسل دے رہے ہیں۔ پھر فرمایا: ان کی بیوی سے پوچھو کیا معاملہ ہے ؟ ان کی بیوی سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے واقعہ بتلایا۔ یہیں سے حضرت حنظلہ کا نام غَسیل الملائکہ۔ (فرشتوں کے غسل دیے ہوئے ) پڑگیا۔[2]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا حضرت حمزہ کا حال دیکھا تو سخت غمگین ہوئے۔ آپ کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں ، وہ بھی اپنے بھائی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھنا چاہتی تھیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے صاحبزادے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ انہیں واپس لے جائیں۔ وہ اپنے بھائی کا حال دیکھ نہ لیں مگر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ نے کہا : آخر ایسا کیوں ؟ مجھے معلوم ہوچکاہے کہ میرے بھائی کا مثلہ کیا گیا ہے۔ لیکن یہ اللہ کی راہ میں ہے اس لیے جو کچھ ہوا ہم اس پر پوری طرح راضی ہیں۔ میں ثواب سمجھتے ہوئے ان شاء اللہ ضرور صبر کروں گی۔ اس کے بعد وہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں۔ انہیں دیکھا۔ ان کے لیے دعا کی۔ إنا للّٰہ پڑھی اور اللہ سے مغفرت مانگی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں حضرت عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے ساتھ دفن کردیا جائے۔ وہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے بھانجے بھی تھے اور رضاعی بھائی بھی۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بن عبد المطلب پر جس طرح روئے اس سے بڑھ کر روتے ہوئے ہم نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبلے کی طرف رکھا۔ پھر ان کے جنازے پر کھڑے ہوئے اور اس طرح روئے کہ آواز بلند ہوگئی۔[3]
درحقیقت شہداء کا منظر تھا ہی بڑا دلدوز اورزہرہ گزار۔ چنانچہ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے لیے ایک سیاہ دھاریوں والی چادر کے سوا کوئی کفن نہ مل سکا۔ یہ چادر سر پر ڈالی جاتی تو پاؤں کھُل جاتے۔ اور پاؤں پر ڈالی جاتی تو سر کھُل جاتا۔ بالآخر چادر سے سر ڈھک دیا گیا اور پاؤں پر اذخر[1]گھاس ڈال دی گئی۔[2]
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مُصعب بن عُمیر رضی اللہ عنہ کی شہادت واقع ہوئی ۔ اور وہ مجھ سے بہتر تھے ۔ تو انہیں ایک چادر کے اندر کفنایا گیا۔ حالت یہ تھی کہ اگر ان کا سر ڈھانکا جاتا تو پاؤں کھل جاتے۔ اور پاؤں ڈھانکے جاتے تو سر کھل جاتا تھا۔ ان کی یہی کیفیت حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے بھی بیان کی ہے اور اتنا مزید اضافہ فرمایا ہے کہ (اس کیفیت کو دیکھ کر ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ چادر سے ان کا سر ڈھانک دو اور پاؤں پر اِذخر ڈال دو۔[3]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ عزوجل کی حمد وثنا کرتے اور اس سے دعافرماتے ہیں:
امام احمد کی روایت ہے کہ احد کے روز جب مشرکین واپس چلے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا : برابر ہوجاؤ۔ ذرا میں اپنے رب عزوجل کی ثناء کروں۔ اس حکم پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں باندھ لیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا :
’’اے اللہ !تیرے ہی لیے ساری حمد ہے۔ اے اللہ ! جس چیز کو تو کشادہ کردے اسے کوئی تنگ نہیں کرسکتا۔ اور جس چیز کو تو تنگ کردے اسے کوئی کشادہ نہیں کرسکتا۔ جس شخص کو تو گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔اور جس شخص کو تو ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا۔ جس چیز کو توروک دے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ اور جو چیز تو دے دے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ جس چیز کو تو دور کردے اسے کوئی قریب نہیں کرسکتا۔ اورجس چیز کو تو قریب کردے اسے کوئی دور نہیں کرسکتا۔اے اللہ ! ہمارے اوپر اپنی برکتیں رحمتیں اور فضل ورزق پھیلا دے۔
اے اللہ ! میں تجھ سے برقرار رہنے والی نعمت کا سوال کرتا ہوں۔ جو نہ ٹلے اور نہ ختم ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے فقر کے دن مددکا اور خوف کے دن امن کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ ! جو کچھ تونے ہمیں دیا ہے اس کے شر سے اور جو کچھ نہیں دیا ہے اس کے بھی شر سے تیری پناہ چاہتاہوں۔ اے اللہ! ہمارے نزدیک ایما ن کو محبوب کردے۔ اور اسے ہمارے دلوں میں خوشنما بنا دے۔ اور کفر ، فسق اور نافرمانی کو ناگوار بنادے اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں کردے۔ اے اللہ ! ہمیں مسلمان رکھتے ہوئے وفات دے اور مسلمان ہی رکھتے ہوئے زندہ رکھ۔ اور رسوائی اور فتنے سے دوچار کیے بغیر صالحین میں شامل فرما۔ اے اللہ ! تو ان کا فروں کو مار اور ان پر سختی اور عذاب کر جو تیرے پیغمبروں کو جھٹلاتے اور تیری راہ سے روکتے ہیں۔ اے اللہ ! ان کافروں کو بھی مار جنہیں کتاب دی گئی۔ یا الٰہ الحق ! ‘‘[1]
مدینے کوواپسی اور محبت وجاں سپاری کے نادر واقعات:
شہداء کی تدفین اور اللہ عزوجل کی ثناء ودعا سے فارغ ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے کا رخ فرمایا۔ جس طرح دورانِ کارزار اہلِ ایمان صحابہ سے محبت وجاں سپاری کے نادر واقعات کا ظہور ہوا تھا اسی طرح اثناء راہ میں اہل ِ ایمان صحابیات سے صدق وجاں سپاری کے عجیب عجیب واقعات ظہور میں آئے۔
چنانچہ راستے میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت حَمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔ انہیں ان کے بھائی عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی گئی۔ انہوں نے انا للہ پڑھی اور دعائے مغفرت کی۔ پھر ان کے ماموں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کی شہادت کی خبر دی گئی۔ انہوں نے پھر انا للہ پڑھی اور دعائے مغفرت کی۔ اس کے بعد ان کے شوہر حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی گئی تو تڑپ کر چیخ اٹھیں۔ اور دھاڑ مار کررونے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’,عورت کا شوہر اس کے یہاں ایک خصوصی درجہ رکھتا ہے۔‘‘[2]
اسی طرح آپ کا گزر بنودینار کی ایک خاتون کے پاس سے ہوا۔ جس کے شوہر ، بھائی ، اور والد تینوں خلعتِ شہادت سے سرفراز ہوچکے تھے۔ جب انہیں ان لوگوں کی شہادت کی خبردی گئی تو کہنے لگیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا ہوا ؟ لوگوں نے کہا : ام فلاں ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم بخیر ہیں۔ اور بحمد للہ جیسا تم چاہتی ویسے ہی ہیں۔ خاتون نے کہا : ذرا مجھے دکھلادو۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مبارک دیکھ لوں۔ لوگوں نے انہیں اشارے سے بتلایا۔ جب ان کی نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی تو بے ساختہ پکار اٹھیں: کل مصیبۃ بعدک جلل ’’ آپ کے بعد ہر مصیبت ہیچ ہے۔‘‘[3]
اثناء راہ ہی میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی والدہ آپ کے پاس دوڑتی ہوئی آئیں۔ اس وقت حضرت سعدبن معاذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ کہنے لگے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری والدہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں مرحبا ہو۔ اس کے بعد ان کے استقبال کے لیے رک گئے۔ جب وہ قریب آگئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے صاحبزادے عمرو بن معاذ کی شہادت پر کلمات ِ تعزیت کہتے ہوئے انہیں تسلی دی اور صبر کی تلقین فرمائی۔ کہنے لگیں: جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہ سلامت دیکھ لیا تو میرے لیے ہر مصیبت ہیچ ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء اُحد کے لیے دعا فرمائی۔ اور فرمایا : اے اُمِ سعد ! تم خوش ہوجاؤ۔ اور شہداء کے گھروالوں کو خوش خبری سنادو کہ ان کے شہداء سب کے سب ایک ساتھ جنت میں ہیں اور اپنے گھروالوں کے بارے میں ان سب کی شفاعت قبول کرلی گئی ہے۔
کہنے لگیں : اے اللہ کے رسول ! ان کے پسماندگان کے لیے بھی دعا فرمادیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! ان کے دلوں کاغم دور کر۔ ان کی مصیبت کا بدل عطا فرما۔ اور باقی ماندگان کی بہترین دیکھ بھال فرما۔[1]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں:
اسی روز ۔ شنبہ ۷/شوال ۳ ھ کو سرِ شام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے۔ گھر پہنچ کر اپنی تلوار حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دی۔ اور فرمایا : بیٹی ! اس کا خون دھو دو۔ اللہ کی قسم !یہ آج میرے لیے بہت صحیح ثابت ہوئی۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی تلوار لپکائی۔ اور فرمایا: اس کا بھی خون دھودو۔ واللہ! یہ بھی آج بہت صحیح ثابت ہوئی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم نے بے لاگ جنگ کی ہے تو تمہارے ساتھ سہل بن حُنیف اور ابو دجانہ نے بھی بے لاگ جنگ کی ہے۔[2]
بیشتر روایتیں متفق ہیں کہ مسلمان شہداء کی تعداد ستر تھی۔ جن میں بھاری اکثریت انصار کی تھی ، یعنی ان کے ۶۵ آدمی شہید ہوئے تھے۔ ۴۱ خزرج سے اور ۲۴ اوس سے۔ ایک آدمی یہود سے قتل ہوا تھا۔ اور مہاجرین شہداء کی تعداد صرف چار تھی۔
باقی رہے قریش کے مقتولین تو ابن اسحاق کے بیان کے مطابق ان کی تعداد ۲۲ تھی ، لیکن اصحاب مغازی اور اہل ِ سِیَر نے اس معرکے کی جو تفصیلات ذکر کی ہیں اور جن میں ضمناً جنگ کے مختلف مرحلوں میں قتل ہونے والے مشرکین کا تذکرہ آیا ہے ان پر گہری نظر رکھتے ہوئے دقت پسندی کے ساتھ حساب لگایا جائے تو یہ تعداد ۲۲ نہیں بلکہ ۳۷ہوتی ہے۔ واللہ اعلم[3]
مدینے میں ہنگامی حالت:
مسلمانوں نے معرکۂ اُحد سے واپس آکر (۸ /شوال ۳ ھ شنبہ ویک شنبہ کی درمیانی ) رات ہنگامی حالت میں گزاری۔ جنگ نے انہیں چوُر چوُر کر رکھا تھا۔ اس کے باوجود وہ رات بھر مدینے کے راستوں اور گزرگاہوں پر پہرہ دیتے رہے۔ اور اپنے سپہ سالارِ اعظم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی حفاظت پر تعینات رہے کیونکہ انہیں ہر طرف سے خدشات لاحق تھے۔