الرحیق المختوم
صلح حدیبیہ
عمرہ ٔ حدیبیہ کا سبب :
جب جزیرہ ٔ نمائے عرب میں حالات بڑی حد تک مسلمانوں کے موافق ہوگئے تو اسلامی دعوت کی کامیابی اور فتح ِ اعظم کے آثار رفتہ رفتہ نمایاں ہونا شروع ہوئے۔ اور مسجدِ حرام میں جس کا دروازہ مشرکین نے مسلمانوں پر چھ بر س سے بند کررکھا تھا مسلمانوں کے لیے عبادت کا حق ِ تسلیم کیے جانے کی تمہیدات شروع ہوگئیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کے اندر یہ خواب دکھلایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسجد حرام میں داخل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کی کنجی لی۔ اور صحابہ سمیت بیت اللہ کا طواف اور عمرہ کیا۔ پھر کچھ لوگوں نے سر کے بال منڈائے اور کچھ نے کٹوانے پر اکتفاکی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ا س خواب کی اطلاع دی تو انھیں بڑی مسرت ہوئی۔ اورانہوں نے یہ سمجھا کہ اس سال مکہ میں داخلہ نصیب ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو یہ بھی بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ ادا فرمائیں گے۔ لہٰذا صحابہ کرام بھی سفر کے لیے تیار ہوگئے۔
مسلمانوں کی روانگی کا اعلان:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور گردوپیش کی آبادیوں میں اعلان فرمادیا کہ لو گ آپ کے ہمراہ روانہ ہوں ، لیکن بیشتر اعراب نے تاخیر کی۔ ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے دھوئے۔ مدینہ پر ابن اُم ِ مکتوم یا نمیلہ لیثی کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ اور اپنی قصواء نامی اونٹنی پر سوار ہوکر یکم ذی قعد ہ ۶ ھ روز دوشنبہ کو روانہ ہوگئے۔ آپ کے ہمراہ اُم المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ چودہ سو (اور کہا جاتا ہے کہ پندرہ سو ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہمرکاب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافرانہ ہتھیار یعنی میان کے اندر بند تلواروں کے سوااور کسی قسم کا ہتھیار نہیں لیاتھا۔
مکہ کی جانب مسلمانوں کی حرکت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رُخ مکہ کی جانب تھا۔ ذو الحلیفہ پہنچ کر آپ نے ہدی[1]کو قلادے پہنائے۔ کوہان چیر کر نشان بنایا۔ اور عمرہ کا احرام باندھا تاکہ لوگوں کو اطمینان رہے کہ آپ جنگ نہیں کریں گے۔ آگے آگے قبیلہ خزاعہ کا ایک
جاسوس بھیج دیا تاکہ وہ قریش کے عزائم کی خبر لائے۔ عسفان کے قریب پہنچے تو اس جاسوس نے آکر اطلاع دی کہ میں کعب بن لوی کو اس حالت میں چھوڑ کر آرہا ہوں کہ انھوں نے آپ سے مقابلہ کرنے کے لیے احابیش (حلیف قبائل ) کو جمع کررکھا ہے۔ اور بھی جمعیتیں فراہم کی ہیں۔ اور وہ آپ سے لڑنے اورآپ کو بیت اللہ سے روکنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ اس اطلاع کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا اور فرمایا : کیا آپ لوگوں کی یہ رائے ہے کہ یہ لوگ جو قریش کی اعانت پر کمر بستہ ہیں ہم ان کے اہل وعیال پر ٹوٹ پڑیں اور قبضہ کرلیں ؟ اس کے بعد اگر وہ خاموش بیٹھتے ہیں تو اس حالت میں خاموش بیٹھتے ہیں کہ جنگ کی مار اور غم والم سے دوچار ہوچکے ہیں اور بھاگتے ہیں تو وہ بھی اس حالت میں کہ اللہ ایک گردن کا ٹ چکا ہوگا۔ یا آپ لوگوں کی یہ رائے ہے کہ ہم خانہ کعبہ کا رُخ کریں۔ اور جو راہ میں حائل ہواس سے لڑائی کریں ؟ اس پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ مگر ہم عمرہ اداکرنے آئے ہیں۔ کسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں۔ البتہ جو ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوگا اس سے لڑائی کریں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اچھا تب چلو۔ چنانچہ لوگوں نے سفر جاری رکھا۔
بیت اللہ سے مسلمانوں کو روکنے کی کوشش:
ادھر قریش کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کا عِلم ہوا تو اس نے ایک مجلس ِ شوریٰ منعقد کی۔ اور طے کیا کہ جیسے بھی ممکن ہو مسلمانوں کو بیت اللہ سے دور رکھا جائے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب احابیش سے کتراکر اپنا سفر جاری رکھاتو بنی کعب کے ایک آدمی نے آکر آپ کو اطلاع دی کہ قریش نے مقام ذی طویٰ میں پڑاؤ ڈال رکھا ہے اور خالد بن ولید دوسو سواروں کا دستہ لے کر کُرَاع الغمیم میں تیا ر کھڑے ہیں (کُراع الغمیم ، مکہ جانے والی مرکزی اور کاروانی شاہراہ پر واقع ہے ) خالد نے مسلمانوں کو روکنے کی بھی کوشش کی۔ چنانچہ انہوں نے اپنے سواروں کو ایسی جگہ تعینات کیا جہاں سے دونوں فریق ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ خالد نے ظہر کی نماز میں یہ بھی دیکھا کہ مسلمان رکوع اور سجدے کررہے ہیں تو کہنے لگے کہ یہ لوگ غافل تھے۔ ہم نے حملہ کردیا ہوتا تو انھیں مارلیاہوتا۔ اس کے بعد طے کیا کہ عصر کی نماز میں مسلمانوں پر اچانک ٹوٹ پڑیں گے ، لیکن اللہ نے اسی دوران صلوٰۃ خوف (حالت جنگ کی مخصوص نماز) کا حکم نازل کردیا۔ اور خالد کے ہاتھ سے موقع جاتا رہا۔
خونریز ٹکراؤ سے بچنے کی کوشش اور راستے کی تبدیلی :
ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کُراع الغمیم کا مرکزی راستہ چھوڑ کر ایک دوسرا پُر پیچ راستہ اختیار کیا جو پہاڑی گھاٹیوں کے درمیان سے ہوکر گزرتا تھا۔ یعنی آپ داہنے جانب کترا کر حمش کے درمیان سے گزرتے ہوئے ایک ایسے راستے پر چلے جو ثنیۃ المرار پر نکلتا تھا۔ ثنیۃالمرار سے حدیبیہ میں اترتے ہیں۔ اور حدیبیہ مکہ کے زیریں علاقہ میں واقع ہے۔ اس راستے کو اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ کُراع الغمیم کا وہ مرکزی راستہ جو تنعیم سے گزر کر حرم تک جاتا تھا ، اور جس پر خالد بن ولید کا رسالہ تعینات تھا وہ بائیں جانب چھوٹ گیا۔ خالد نے مسلمانوں کے گرد وغبار کو دیکھ کر جب یہ محسوس کیاکہ انہوں نے راستہ تبدیل کردیا ہے تو گھوڑے کو ایڑ لگائی اور قریش کو اس نئی صورت ِ حال کے خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے بھاگم بھاگ مکہ پہنچے۔
ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سفر بدستور جاری رکھا ، جب ثنیۃ المرار پہنچے تو اونٹنی بیٹھ گئی۔ لوگو ں نے کہا : حل حل ، لیکن وہ بیٹھی ہی رہی۔ لوگوں نے کہا : قصواء اڑگئی ہے۔ آپ نے فرمایا :قصواء اڑی نہیں ہے اور نہ اس کی یہ عادت ہے ، لیکن اسے اس ہستی نے روک رکھا ہے جس نے ہاتھی کوروک دیا تھا۔ پھر آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ لوگ کسی بھی ایسے معاملے کا مطالبہ نہیں کریں گے جس میں اللہ کی حُرمتوں کی تعظیم کررہے ہوں لیکن میں اسے ضرور تسلیم کر لوں گا۔ اس کے بعد آپ نے اونٹنی کو ڈانٹا تو وہ اچھل کر کھڑی ہوگئی ، پھر آپ نے راستہ میں تھوڑی سی تبدیلی کی اور اقصائے حدیبیہ میں ایک چشمہ پر نزول فرمایا۔ جس میں تھو ڑا سا پانی تھا اور اسے لوگ ذراذرا سالے رہے تھے، چنانچہ چند ہی لمحوں میں ساراپانی ختم ہوگیا۔ اب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیاس کی شکایت کی۔ آپ نے ترکش سے ایک تیر نکالا۔ اور حکم دیا کہ چشمے میں ڈال دیں۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد واللہ! اس چشمے سے مسلسل پانی ابلتا رہا یہاں تک کہ تمام لوگ آسودہ ہوکر واپس ہوگئے۔
بدیل بن ورقاء کا توسط :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مطمئن ہوچکے تو بُدَیل بن ورقاء خزاعی اپنے قبیلہ خزاعہ کے چند افراد کی معیّت میں حاضر ہوا۔ تہامہ کے باشندوں میں یہی قبیلہ (خزاعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیر خواہ تھا۔ بدیل نے کہا : میں کعب بن لؤی کو دیکھ کر آرہا ہوں کہ وہ حدیبیہ کے فراواں پانی پر پڑ اؤ ڈالے ہوئے ہیں۔ ان کے ہمراہ عورتیں اور بچے بھی ہیں۔ وہ آپ سے لڑنے اور آپ کو بیت اللہ سے روکنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں۔ قریش کو لڑائیوں نے توڑ ڈالا ہے۔ اور سخت ضرر پہنچا یا ہے اس لیے اگر وہ چاہیں تو ان سے ایک مدت طے کرلوں۔ اور وہ میرے اور لوگوں کے درمیان سے ہٹ جائیں۔ اور اگر وہ چاہیں تو جس چیز میں لوگ داخل ہوئے ہیں اس میں وہ بھی داخل ہوجائیں۔ورنہ ان کو راحت تو حاصل ہی رہے گی۔
اور اگر انہیں لڑائی کے سو ا کچھ منظور نہیں تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اپنے دین کے معاملے میں ان سے اس وقت تک لڑتا رہوں گا جب تک کہ میری گردن جدا نہ ہوجائے یا جب تک اللہ اپنا امر نافذنہ کردے۔
بُدَیل نے کہا : آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں میں اسے قریش تک پہنچادوں گا۔ اس کے بعد وہ قریش کے پاس پہنچا۔ اور بولا: میں ان صاحب کے پا س سے آرہا ہوں میں نے ان سے ایک بات سنی ہے ، اگر چاہو تو پیش کردوں۔ اس پر بیوقوفوں نے کہا:ہمیں کوئی ضرورت نہیں کہ تم ہم سے ان کی کوئی بات بیان کرو۔لیکن جو لوگ سوجھ بوجھ رکھتے تھے انہوں نے کہا : لاؤ سناؤ تم نے کیا سنا ہے ؟ بدیل نے کہا : میں نے انہیں یہ اور یہ بات کہتے سنا ہے۔ اس پر قریش نے مکرز بن حفص کو بھیجا۔ اسے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بد عہد آدمی ہے، چنانچہ جب اس نے آپ کے پاس آکر گفتگوکی تو آپ نے اس سے وہی بات کہی جو بدیل اور ا س کے رفقاء سے کہی تھی۔ اس نے واپس پلٹ کر قریش کو پوری بات سے باخبر کیا۔
قریش کے ایلچی :
اس کے بعد حلیس بن علقمہ نامی بنوکنانہ کے ایک آدمی نے کہا: مجھے ان کے پاس جانے دو۔ لو گوں نے کہا: جاؤ۔ جب وہ نمودار ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا : یہ فلاں شخص ہے۔ یہ ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہے جو ہَدْی کے جانوروں کا بہت احترام کرتی ہے۔لہٰذا جانوروں کو کھڑا کردو۔ صحابہ نے جانوروں کو کھڑا کردیا۔ اور خود بھی لبیک پکارتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔ اس شخص نے یہ کیفیت دیکھی تو کہا : سبحان اللہ ! ان لوگوں کو بیت اللہ سے روکنا ہرگز مناسب نہیں۔ اور وہیں سے اپنے ساتھیوں کے پاس واپس پلٹ گیا۔ اور بو لا : میں نے ہدی کے جانور دیکھے ہیں جن کے گلوں میں قلادے ہیں۔ اورجن کی کوہان چیری ہوئی ہیں۔ اس لیے میں مناسب نہیں سمجھتا کہ انہیں بیت اللہ سے روکا جائے۔ اس پر قریش اور اس شخص میں کچھ ایسی باتیں ہوئیں کہ وہ تاؤ میں آگیا۔
اس موقع پر عروہ بن مسعود ثقفی نے مداخلت کی اور بو لا : اس شخص (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تمہارے سامنے ایک اچھی تجویز پیش کی ہے۔ لہٰذا اسے قبول کرلو۔ اور مجھے ان کے پاس جانے دو۔ لوگوں نے کہا : جاؤ ! چنانچہ وہ آپ کے پاس حاضر ہوا۔ اور گفتگو شروع کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی وہی بات کہی جو بدیل سے کہی تھی۔ اس پر عروہ نے کہا : اے محمد ! یہ بتایئے کہ اگر آپ نے اپنی قوم کا صفایا بھی کردیا تو کیا اپنے آپ سے پہلے کسی عرب کے متعلق سنا ہے کہ اس نے اپنی قوم کا صفایا کردیا ہو۔ اور اگر دوسری صورتِ حال پیش آئی تو اللہ کی قسم! میں ایسے چہرے اور ایسے اوباش لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو اسی لائق ہیں کہ آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں۔
اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: لات کی شرمگاہ کا لٹکتا ہوا چمڑا چوس۔ ہم حضور کو چھوڑ کر بھاگیں گے ؟ عروہ نے کہا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا : ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس نے حضرت ابو بکر کو مخاطب کرکے کہا : دیکھو اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایسی بات نہ ہوتی کہ تم نے مجھ پر ایک احسان کیا تھا اور میں نے اس کا بدلہ نہیں دیا ہے ، تو میں يقيناً تمہاری اس بات کا جواب دیتا۔
اس کے بعد عروہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا۔ وہ جب گفتگو کرتا تو آپ کی ڈاڑھی پکڑ لیتا۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے پاس ہی کھڑے تھے۔ ہاتھ میں تلوار تھی اور سر پر خُود ، عروہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی پر ہاتھ بڑھاتا تو وہ تلوار کے دستے سے اس کے ہاتھ پر مارتے اور کہتے کہ اپنا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے پرے رکھ۔ آخر عروہ نے اپناسر اٹھایا ، اور بولا: یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا: مغیرہ بن شعبہ ہیں۔ اس پر اس نے کہا: ____او ___بدعہد ____! کیا میں تیری بدعہدی کے سلسلے میں دوڑ دھوپ نہیں کررہاہوں ؟ واقعہ یہ پیش آیا تھا کہ جاہلیت میں حضرت مغیرہ کچھ لوگوں کے ساتھ تھے۔ پھر انہیں قتل کرکے ان کا مال لے بھاگے تھے۔ اور آکر مسلمان ہوگئے تھے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں اسلام تو قبول کرلیتا ہوں ، لیکن مال سے میرا کوئی واسطہ نہیں (اس معاملے میں عروہ کے دوڑدھوپ کی وجہ یہ تھی کہ حضرت مغیرہ اس کے بھتیجے تھے )
اس کے بعد عروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام کے تعلق ِ خاطر کا منظر دیکھنے لگا۔ پھر اپنے رفقاء کے پاس واپس آیا اور بولا : اے قوم ! واللہ میں قیصر وکسریٰ اور نجاشی جیسے بادشاہوں کے پاس جاچکا ہوں۔ واللہ میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اُس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد کے ساتھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم ! وہ کھنکار بھی تھوکتے تھے تو کسی نہ کسی آدمی کے ہاتھ پر پڑتا تھا۔ اور وہ شخص اسے اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتا تھا۔ اور جب وہ کوئی حکم دیتے تھے تواس کی بجاآوری کے لیے سب دوڑ پڑتے تھے۔ اور جب وضو کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ اس کے وضو کے پانی کے لیے لوگ لڑپڑیں گے۔ اور جب کوئی بات بولتے تھے تو سب اپنی آوازیں پست کرلیتے تھے۔ اور فرطِ تعظیم کے سبب انہیں بھرپورنظر نہ دیکھتے تھے۔ اور انہوں نے تم پر ایک اچھی تجویز پیش کی ہے۔ لہٰذااسے قبول کرلو۔
وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ تم سے روکے :
جب قریش کے پُر جوش اور جنگ بازنوجوان نے دیکھا کہ ان کے سر برآوردہ حضرات صلح کے جو یا ہیں تو انہوں نے صلح میں ایک رخنہ اندازی کا پروگرام بنایا۔ اور یہ طے کیا کہ رات میں یہاں سے نکل کر چپکے سے مسلمانوں کے کیمپ میں گھس جائیں اور ایسا ہنگامہ برپا کردیں کہ جنگ کی آگ بھڑک اٹھے۔ پھر انہوں نے اس پروگرام کی تنفیذ کے لیے عملی قدم بھی اٹھا یا۔ چنانچہ رات کی تاریکی میں ستر یااسیّ نوجوانوں نے جبل تنعیم سے اتر کر مسلمانوں کے کیمپ میں چپکے سے گھسنے کی کوشش کی لیکن اسلامی پہرے داروں کے کمانڈر محمد بن مسلمہ نے ان سب کو گرفتار کر لیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی خاطر ان سب کو معاف کرتے ہوئے آزاد کر دیا۔ اسی کے بارے میں اللہ کا یہ ارشاد نازل ہوا:
﴿وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ﴾(۴۸: ۲۴)
’’وہی ہے جس نے بطن ِ مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے روکے۔ اور تمہارے ہاتھ ان سے روکے۔ اس کے بعد کہ تم کو ان پر قابو دے چکا تھا۔‘‘
حضرت عثما ن رضی اللہ عنہ کی سفارت :
اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوچا کہ ایک سفیر روانہ فرمائیں جو قریش کے سامنے مؤکد طریقے پر آپ کے موجودہ سفر کے مقصد وموقف کی وضاحت کردے۔ اس کام کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بلایا لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے معذرت کی کہ اے اللہ کے رسول ! اگر مجھے اذّیت دی گئی تو مکہ میں بنی کعب کا ایک فرد بھی ایسا نہیں جو میری حمایت میں بگڑ سکتا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بھیج دیں۔ ان کا کنبہ قبیلہ مکہ ہی میں ہے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام اچھی طرح پہنچا دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بلایا۔ اور قریش کے پاس روانگی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: انہیں بتلادو کہ ہم لڑنے نہیں آئے ہیں۔ عمرہ کرنے آئے ہیں۔ انہیں اسلام کی دعوت بھی دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ حکم بھی دیا کہ وہ مکہ میں اہل ایمان مردوں اور عورتوں کے پاس جاکر انہیں فتح کی بشارت سنا دیں۔ اور یہ بتلادیں کہ اللہ عزوجل اب اپنے دین کومکہ میں ظاہر وغالب کرنے والا ہے۔ یہاں تک کہ ایمان کی وجہ سے کسی کو یہاں روپوش ہونے کی ضرورت نہ ہوگی۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لے کر روانہ ہوئے۔ مقام بلدح میں قریش کے پاس سے گذرے تو انہوں نے پوچھا : کہاں کا ارادہ ہے ؟ فرمایا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اور یہ پیغام دے کر بھیجا ہے۔ قریش نے کہا : ہم نے آپ کی بات سن لی۔ آپ اپنے کام پر جایئے۔ ادھر سعید بن عاص نے اُٹھ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مرحبا کہا۔ اور اپنے گھوڑے پر زین کس کر آپ کو سوار کیا۔ اور ساتھ بٹھا کر اپنی پناہ میں مکہ لے گیا ، وہاں جاکر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سربراہان ِ قریش کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام سنایا۔ اس سے فارغ ہوچکے تو قریش نے پیشکش کی کہ آپ بیت اللہ کا طواف کرلیں۔ مگر آپ نے یہ پیش کش مسترد کردی اور یہ گورا نہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طواف کرنے سے پہلے خود طواف کر لیں۔
حضرت عثما ن رضی اللہ عنہ کی شہادت کی افواہ اور بیعت رضوان :
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنی سفارت کی مہم پوری کر چکے تھے ، لیکن قریش نے انہیں اپنے پاس روک لیا۔ غالباً وہ چاہتے تھے کہ پیش آمدہ صورتِ حال پر باہم مشورہ کر کے کوئی قطعی فیصلہ کرلیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کے لائے ہوئے پیغام کا جواب دے کر واپس کریں، مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دیر تک رُکے رہنے کی وجہ سے مسلمانوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ انہیں قتل کردیا گیا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا: ہم اس جگہ سے ٹل نہیں سکتے یہاں تک کہ لوگوں سے معرکہ آرائی کرلیں۔ پھر آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بیعت کی دعوت دی۔ صحابہ کرام ٹوٹ پڑے۔ اور اس پر بیعت کی کہ میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نہیں سکتے۔ ایک جماعت نے موت پر بیعت کی۔ یعنی مر جائیں گے مگر میدان ِ جنگ نہ چھوڑیں گے۔ سب سے پہلے ابو سنان اسدی نے بیعت کی۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے تین بار بیعت کی۔ شروع میں ، درمیان میں اور اخیر میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا ہاتھ پکڑکر فرمایا: یہ عثمان کا ہاتھ ہے، پھر جب بیعت مکمل ہوچکی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور انہوں نے بھی بیعت کی۔ اس بیعت میں صرف ایک آدمی نے جو منافق تھا شرکت نہیں کی ، اس کا نام جد بن قیس تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیعت ایک درخت کے نیچے لی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ دست مبارک تھا مے ہوئے تھے۔ اور حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے درخت کی بعض ٹہنیاں پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر سے ہٹا رکھی تھیں۔ اسی بیعت کا نام بیعت ِ رضوان ہے۔ اور اسی کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے:
﴿ لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ﴾(۴۸: ۱۸)
’’اللہ مومنین سے راضی ہوا۔ جب کہ وہ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کررہے تھے۔‘‘
صلح اور دفعات ِ صلح:
بہر حال قریش نے صورتِ حال کی نزاکت محسوس کرلی۔ لہٰذا جھٹ سُہیل بن عَمرو کو معاملات صلح طے کرنے کے لیے روانہ کیا۔ اور یہ تاکید کردی کہ صلح میں لازما ً یہ بات طے کی جائے کہ آپ اس سال واپس چلے جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ عرب یہ کہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے شہر میں جبراً داخل ہوگئے۔ ان ہدایات کو لے کر سہیل بن عمرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آتا دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا۔ تمہارا کا م تمہارے لیے سہل کردیا گیا۔ اس شخص کو بھیجنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ قریش صلح چاہتے ہیں۔ سُہیل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر دیر تک گفتگو کی۔ اور بالآخر طَرفَین میں صلح کی دفعات طے ہوگئیں جو یہ تھیں:
1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سال مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس جائیں گے۔ اگلے سال مسلمان مکہ آئیں گے۔ اور تین روز قیام کریں گے۔ ان کے ساتھ سوار کا ہتھیار ہوگا۔ میانوں میں تلواریں ہوں گی۔ اور ان سے کسی قسم کا تعرض نہیں کیا جائے گا۔
2۔ دس سال تک فریقین جنگ بندرکھیں گے۔ اس عرصے میں لوگ مامون رہیں گے۔ کوئی کسی پر ہاتھ نہیں اُٹھائے گا۔
3۔ جو محمد ؐ کے عہدوپیمان میں داخل ہونا چاہے داخل ہوسکے گا۔ اور جو قریش کے عہدوپیمان میں داخل ہونا چاہے داخل ہوسکے گا۔ جو قبیلہ جس فریق میں شامل ہوگا اس فریق کا ایک جزو سمجھا جائے گا۔ لہٰذا ایسے کسی قبیلے پر زیادتی ہوئی تو خود اس فریق پر زیادتی متصور ہوگی۔
4۔ قریش کا جو آدمی اپنے سر پرست کی اجازت کے بغیر ۔ یعنی بھاگ کر۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائے گا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کردیں گے ، لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے جو شخص ۔ پناہ کی غرض سے بھاگ کر ۔ قریش کے پاس آئے گا قریش اسے واپس نہ کریں گے۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا کہ تحریر لکھ دیں۔ اور یہ املا کرایا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اس پر سہیل نے کہا: ہم نہیں جانتے رحمن کیا ہے ؟ آپ یوں لکھئے : بِاِسْمِک اللہمَّ(اے اللہ تیرے نام سے ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ یہی لکھو۔ اس کے بعد آپ نے یہ املا کرایا۔ یہ وہ بات ہے جس پر محمد رسول اللہ نے مصالحت کی۔ اس پر سہیل نے کہا : اگر ہم جانتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تو پھر ہم نہ تو آپ کو بیت اللہ سے روکتے ، اور نہ جنگ کرتے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم محمد بن عبد اللہ لکھوایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں اگر چہ تم لوگ جھٹلاؤ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ محمد بن عبد اللہ لکھیں۔ اور لفظ ’’رسول اللہ ‘‘ مٹادیں ، لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے گوارا نہ کیا کہ اس لفظ کو مٹائیں۔ لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے مٹادیا۔ اس کے بعد پوری دستاویز لکھی گئی۔
پھر جب صلح مکمل ہوچکی تو بنو خُزاعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدوپیمان میں داخل ہوگئے۔ یہ لوگ درحقیقت عبدالمطلب کے زمانے ہی سے بنوہاشم کے حلیف تھے جیسا کہ آغازِ کتاب میں گزرچکا ہے۔ اس لیے اس عہدوپیمان میں داخلہ درحقیقت اسی قدیم حلف کی تاکید اور پختگی تھی۔ دوسری طرف بنو بکر قریش کے عہدوپیمان میں داخل ہوگئے۔
ابو جَندل کی واپسی:
نوشتہ صلح ابھی لکھا ہی جارہاتھا کہ سہیل کے بیٹے ابو جندل اپنی بیڑیاں گھسیٹتے آپہنچے۔ وہ زیریں مکہ سے نکل کر آئے تھے۔ انہوں نے یہاں پہنچ کر اپنے آپ کو مسلمانوں کے درمیان ڈال دیا۔ سہیل نے کہا : یہ پہلا شخص ہے جس کے متعلق میں آپ سے معاملہ کرتا ہوں کہ آپ اسے واپس کردیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی تو ہم نے نوشتہ مکمل نہیں کیا ہے۔ اس نے کہا : تب میں آپ سے کسی بات پر صلح کا کوئی معاملہ ہی نہ کروں گا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو تم اس کو میری خاطر چھوڑدو۔ اس نے کہا : میں آپ کی خاطر بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ آپ نے فرمایا : نہیں نہیں اتنا تو کرہی دو۔ اس نے کہا نہیں میں نہیں کرسکتا۔ پھر سہیل نے ابو جند ل کے چہرے پر چانٹا رسید کیا۔ اور مشرکین کی طرف واپس کرنے کے لیے ان کے کرتے کاگلا پکڑ کر گھسیٹا۔ ابو جندل زور زور سے چیخ کر کہنے لگے : مسلمانو! کیا میں مشرکین کی طرف واپس کیا جاؤں گا کہ وہ مجھے میرے دین کے متعلق فتنے میں ڈالیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابو جندل ! صبر کرو۔ اور اسے باعث ِ ثواب سمجھو۔ اللہ تمہارے لیے اور تمہارے ساتھ جو دوسرے کمزور مسلمان ہیں ان سب کے لیے کشادگی اور پناہ کی جگہ بنائے گا۔ ہم نے قریش سے صلح کر لی ہے۔ اور ہم نے ان کو اور انہوں نے ہم کواس پر اللہ کا عہد دے رکھا ہے۔ اس لیے ہم بد عہدی نہیں کرسکتے۔
اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ اچھل کر ابو جندل کے پاس پہنچے۔ وہ ان کے پہلو میں چلتے جارہے تھے اور کہتے جارہے تھے: ابو جندل ! صبر کرو۔ یہ لوگ مشرک ہیں۔ ان کا خون تو بس کتے کا خون ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی تلوار کا دستہ بھی ان کے قریب کرتے جارہے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے امید تھی کہ وہ تلوار لے کر اپنے باپ (سہیل ) کو اڑادیں گے ، لیکن انہوں نے اپنے باپ کے بارے میں بخل سے کام لیا۔ اور معاہدۂ صلح نافذ ہو گیا۔
عمرہ سے حلال ہونے کے لیے قربانی اور بالوں کی کٹائی:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاہدہ ٔ صلح لکھوا کر فارغ ہوچکے تو فرمایا : اٹھو ! اور اپنے اپنے جانور قربان کردو ، لیکن واللہ کوئی بھی نہ اٹھا۔ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔ مگر پھر بھی کوئی نہ اٹھا تو آپ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ اور لوگوں کے اس پیش آمدہ طرزِ عمل کا ذکر کیا۔ ام المومنین نے کہا : یارسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا چاہتے ہیں ؟ تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جایئے اور کسی سے کچھ کہے بغیر چُپ چاپ اپنا جانور ذبح کردیجیے۔ اور اپنے حجام کو بلا کر سر منڈا لیجئے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ اور کسی سے کچھ کہے بغیر یہی کیا۔ یعنی اپنا ہَدی کا جانور ذبح کردیا۔ اور حجام بلا کر سرمنڈا لیا۔ جب لوگوں نے دیکھا تو خود بھی اٹھ کر اپنے اپنے جانور ذبح کردیے۔ اور اس کے بعد باہم ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے۔ کیفیت یہ تھی کہ معلوم ہوتا تھا فرطِ غم کے سبب ایک دوسرے کو قتل کردیں گے۔ اس موقعہ پر گائے اور اونٹ سات سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کیے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہل کا ایک اونٹ ذبح کیا۔ جس کی ناک میں چاندی کا ایک حلقہ تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مشرکین جل بھن کر رہ جائیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرمنڈانے والوں کے لیے تین بار مغفرت کی دعا کی۔ اور قینچی سے کٹانے والوں کے لیے ایک بار۔ اسی سفر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت کعب بن عجرہ کے سلسلے میں یہ حکم بھی نازل فرمایا کہ جو شخص اذّیت کے سبب اپنا سر (حالت احرام میں ) منڈالے وہ روزے یا صدقے یا ذبیحے کی شکل میں فدیہ دے۔
مہاجر ہ عورتوں کی واپسی سے انکار:
اس کے بعد کچھ مومنہ عورتیں آگئیں۔ ان کے اولیاء نے مطالبہ کیا کہ حدیبیہ میں جو صلح مکمل ہوچکی ہے اس کی روسے انہیں واپس کیا جائے ، لیکن آپ نے یہ مطالبہ اس دلیل کی بنا پر مسترد کردیا کہ اس دفعہ کے متعلق معاہدے میں جو لفظ لکھاگیا تھا وہ یہ تھا :
(( وعلی أن لا یأتیک منا رجل وإن کان علی دینک إلا رددتہ علینا)) [1]
’’اور (یہ معاہدہ اس شرط پر کیا جارہا ہے کہ ) ہمارا جو آدمی آپ کے پاس جائے گا آپ اسے لازما ً واپس کر دیں گے، خواہ وہ آپ ہی کے دین پر کیوں نہ ہو۔‘‘
لہٰذا عورتیں اس معاہدے میں سرے سے داخل ہی نہ تھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلے میں یہ آیت بھی نازل فرمائی :
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللّٰهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ وَآتُوهُمْ مَا أَنْفَقُوا وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَاسْأَلُوا مَا أَنْفَقْتُمْ وَلْيَسْأَلُوا مَا أَنْفَقُوا ذَلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ وَاللّٰهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ (۶۰: ۱۰ )
یعنی ’’اے اہل ایمان جب تمہارے پاس مومنہ عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو ان کا امتحان لو۔ اللہ ان کے ایمان کو بہتر جانتا ہے۔ پس اگر انہیں مومنہ جانو تو کفار کی طرف نہ پلٹاؤ۔ نہ وہ کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لیے حلال ہیں۔ البتہ ان کے کافر شوہروں نے جو مہر ان کو دیے تھے اسے واپس دے دو۔ (پھر ) تم پر کوئی حرج نہیں کہ ان سے نکاح کر لو جب کہ انہیں ان کے مہر ادا کرو۔ اور کافرہ عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ رکھو۔‘‘
اس آیت کے نازل ہونے کے بعد جب کوئی مومنہ عورت ہجرت کرکے آتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی روشنی میں اس کا امتحان لیتے کہ
﴿ يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ إِنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ (۶۰: ۱۲)
یعنی’’اے نبی ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں آئیں اور اس بات پر بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں گی ، چوری نہ کریں گی ، زنانہ کریں گی ، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی۔ اپنے ہاتھ پاؤں کے درمیا ن سے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی اور کسی معروف بات میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی توان سے بیعت لے لو۔ اور ان کے لیے اللہ سے دعائے مغفرت کرو۔ يقيناً اللہ غفور رحیم ہے۔ )‘‘
چنانچہ جو عورتیں اس آیت میں ذکر کی ہوئی شرائط کی پابندی کا عہد کرتیں۔ آپ ان سے فرماتے کہ میں نے تم سے بیعت کر لی ، پھر انہیں واپس نہ پلٹا تے۔
اس حکم کے مطابق مسلمانوں نے اپنی کافرہ بیویوں کو طلاق دے دی۔ اس وقت حضرت عمر کی زوجیت میں دوعورتیں تھیں جو شرک پر قائم تھیں۔ آپ نے ان دونوں کوطلاق دے دی ، پھر ایک سے معاویہ نے شادی کرلی اور دوسری سے صفوان بن امیہ نے۔
اس معاہدے کی دفعات کا حاصل :
یہ ہے صلح حدیبیہ۔ جو شخص اس کی دفعات کا ان کے پس منظر سمیت جائزہ لے گا اسے کوئی شبہ نہ رہے گا کہ یہ مسلمانوں کی فتح عظیم تھی۔ کیونکہ قریش نے اب تک مسلمانوں کا وجود تسلیم نہیں کیا تھا اور انہیں نیست ونابود کرنے کا تہیہ کیے بیٹھے تھے۔ انہیں انتظار تھا کہ ایک نہ ایک دن یہ قوت دم توڑ دے گی۔ اس کے علاوہ قریش جزیرۃ العرب کے دینی پیشوا اور دنیاوی صدر نشین ہونے کی حیثیت سے اسلامی دعوت اور عام لوگوں کے درمیان پوری قوت کے ساتھ حائل رہنے کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ اس پس منظر میں دیکھئے تو صلح کی جانب محض جھک جانا ہی مسلمانوں کی قوت کا اعتراف اور اس بات کا اعلان تھا کہ اب قریش اس قوت کو کچلنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ پھر تیسری دفعہ کے پیچھے صاف طور پر یہ نفسیاتی کیفیت کارفرما نظر آتی ہے کہ قریش کو دنیاوی صدرنشینی اور دینی پیشوائی کا جو منصب حاصل تھا اسے انہوں نے بالکل بھُلا دیا تھا۔ اور اب انہیں صرف اپنی پڑی تھی۔ ان کو اس سے کوئی سروکار نہ تھا کہ بقیہ لوگوں کا کیا بنتا ہے۔ یعنی اگر سارے کا سارا جزیرۃ العرب حلقہ بگوش ِ اسلام ہوجائے تو قریش کو اس کی کوئی پروانہیں اور وہ اس میں کسی طرح کی مداخلت نہ کریں گے۔ کیا قریش کے عزائم اور مقاصد کے لحاظ سے یہ ان کی شکستِ فاش نہیں ہے؟ اور مسلمانوں کے مقاصد کے لحاظ سے یہ فتحِ مبین نہیں ہے ؟ آخر اہلِ اسلام اور اعدائے اسلام کے درمیان جو خونریز جنگیں پیش آئی تھیں ان کا منشاء اور مقصد اس کے سوا کیا تھا کہ عقیدے اور دین کے بارے میں لوگوں کو مکمل آزادی اور خودمختاری حاصل ہوجائے۔ یعنی اپنی آزاد مرضی سے جو شخص چاہے مسلمان ہو اور جو چاہے کافررہے۔ کوئی طاقت ان کی مرضی اور ارادے کے سامنے روڑا بن کر کھڑی نہ ہو۔ مسلمانوں کا یہ مقصد تو ہرگز نہ تھا کہ دشمن کے مال ضبط کیے جائیں۔ انہیں موت کے گھاٹ اتارا جائے۔ اور انہیں زبردستی مسلمان بنایا جائے۔ یعنی مسلمانوں کا مقصو د صرف وہی تھا جسے علامہ اقبال نے یوں بیان کیا ہے ؎
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی!
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس صلح کے ذریعے مسلمانوں کا مذکورہ مقصد اپنے تمام اجزا اور لوازم سمیت حاصل ہو گیا اور اس طرح حاصل ہوگیا کہ بسا اوقات جنگ میں فتح ِ مبین سے ہمکنارہونے کے باوجود حاصل نہیں ہوپاتا۔ پھر اس آزادی کی وجہ سے مسلمانوں نے دعوت وتبلیغ کے میدان میں نہایت زبردست کامیابی حاصل کی، چنانچہ مسلمان افواج کی تعداد جو اس صلح سے پہلے تین ہزار سے زائد کبھی نہ ہوسکی تھی وہ محض دوسال کے اندر فتح مکہ کے موقع پر دس ہزار ہوگئی۔
دفعہ نمبر ۲بھی درحقیقت اس فتح ِ مبین کا ایک جزو ہے کیونکہ جنگ کی ابتدا مسلمانو ں نے نہیں بلکہ مشرکین نے کی تھی۔ اللہ کا ارشاد ہے :
﴿ وَهُمْ بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(۹: ۱۳)
’’یعنی پہلی بار ان ہی لوگوں نے تم لوگو ں سے ابتداء کی۔‘‘
جہاں تک مسلمانوں کی طلایہ گردیوں اور فوجی گشتوں کا تعلق ہے تو مسلمانوں کا مقصود ان سے صرف یہ تھا کہ قریش اپنے احمقانہ غرورمیں اللہ کی راہ روکنے سے باز آجائیں اور مساویانہ بنیاد پر معاملہ کرلیں۔ یعنی ہر فریق اپنی اپنی ڈگرپر گامزن رہنے کے لیے آزاد رہے۔ اب غور کیجیے کہ دس سالہ جنگ بندرکھنے کا معاہدہ آخر اس غرور اور اللہ کی راہ میں رکاوٹ سے باز آنے ہی کا توعہد ہے ، جو اس بات کی دلیل ہے کہ جنگ کا آغاز کرنے والا کمزور اور بے دست وپا ہو کر اپنے مقصد میں ناکام ہوگیا۔
جہاں تک پہلی دفعہ کا تعلق ہے تو یہ بھی درحقیقت مسلمانوں کی ناکامی کے بجائے کامیابی کی علامت ہے کیونکہ یہ دفعہ درحقیقت اس پابندی کے خاتمے کا اعلان ہے جسے قریش نے مسلمانوں پر مسجد حرام میں داخلے سے متعلق عائد کررکھی تھی۔ البتہ اس دفعہ میں قریش کے لیے بھی تشفی کی اتنی سی بات تھی کہ وہ اس ایک سال مسلمانوں کو روکنے میں کامیاب رہے۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ وقتی اور بے حیثیت فائدہ تھا۔
اس کے بعد اس صلح کے سلسلے میں یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ قریش نے مسلمانوں کو یہ تین رعائتیں دے کر صرف ایک رعایت حاصل کی جو دفعہ ۴ میں مذکور ہے ، لیکن یہ رعایت حددرجہ معمولی اور بے وقعت تھی اور اس میں مسلمانوں کا کوئی نقصان نہ تھا۔ کیونکہ یہ معلوم تھا کہ جب تک مسلمان رہے گا۔ اللہ ، رسول اور مدینۃ الاسلام سے بھاگ نہیں سکتا۔ اس کے بھاگنے کی صرف ایک ہی صورت ہوسکتی ہے کہ وہ مرتد ہوجائے۔ خواہ ظاہراً خواہ درپردہ۔ اور ظاہر ہے کہ جب مُرتد ہوجائے تو مسلمانوں کو اس کی ضرورت نہیں بلکہ اسلامی معاشرے میں اس کی موجودگی سے کہیں بہتر ہے کہ وہ الگ ہوجائے اور یہی وہ نکتہ ہے جس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں اشارہ فرمایا تھا :
(( إنہ من ذہب منا إلیہم فأبعدہ اللّٰه )) [1]
’’جو ہمیں چھوڑ کران مشرکین کی طرف بھاگا اسے اللہ نے دور (یابرباد) کردیا۔‘‘
باقی رہے مکے کے وہ باشندے جو مسلمان ہوچکے تھے یا مسلمان ہونے والے تھے تو ان کے لیے اگرچہ اس معاہدے کی رو سے مدینہ میں پناہ گزین ہونے کی گنجائش نہ تھی لیکن اللہ کی زمین تو بہر حال کشادہ تھی۔ کیا حبشہ کی زمین نے ایسے نازک وقت میں مسلمانوں کے لیے اپنی آغوش وانہیں کردی تھی ، جب مدینہ کے باشندے اسلام کا نام بھی نہ جانتے تھے ؟ اسی طرح آج بھی زمین کا کوئی ٹکڑا مسلمانوں کے لیے اپنی آغوش کھول سکتا تھا، اور یہی بات تھی جس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں اشارہ فرمایاتھا :
(( ومن جاء نا منہم سیجعل اللّٰه لہ فرجاً ومخرجاً ))( صحیح مسلم باب صلح الحدیبیہ ۲/۱۰۵)
’’ان کا جو آدمی ہمارے پاس آئے گا۔ اللہ اس کے لیے کشادگی اور نکلنے کی جگہ بنادے گا۔‘‘
پھر اس قسم کے تحفظات سے اگرچہ نظر بظاہر قریش نے عزّووقار حاصل کیا تھا مگر یہ درحقیقت قریش کی سخت نفسیاتی گھبراہٹ ، پریشانی ، اعصابی دباؤ اور شکستگی کی علامت ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں اپنے بُت پرست سماج کے بارے میں سخت خوف لاحق تھا اور وہ محسوس کررہے تھے کہ ان کا یہ سماجی گھروندا ایک کھائی کے ایسے کھوکھلے اور اندر سے کٹے ہوئے کنارے پر کھڑاہے جو کسی بھی دم ٹوٹ گرنے والا ہے۔ لہٰذا اس کی حفاظت کے لیے اس طرح کے تحفظات حاصل کر لینا ضروری ہیں۔ دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس فراخ دلی کے ساتھ یہ شرط منظور کی کہ قریش کے یہاں پناہ لینے والے کسی مسلمان کو واپس نہ طلب کریں گے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو اپنے سماج کی ثابت قدمی اور پختگی پر پورا پورا اعتماد تھا اور اس قسم کی شرط آپ کے لیے قطعا ً کسی اندیشے کا سبب نہ تھی۔
مسلمانوں کا غم اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مناقشہ:
یہ ہے معاہدۂ صلح کی دفعات کی حقیقت لیکن ان دفعات میں دوباتیں بظاہر اس قسم کی تھیں کہ ان کی وجہ سے مسلمانوں کو سخت غم والم لاحق ہوا۔ ایک یہ کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا کہ آپ بیت اللہ تشریف لے جائیں گے اوراس کا طواف کرینگے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم طواف کیے بغیر واپس ہورہے تھے۔ دوسرے یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور حق پر ہیں۔ اور اللہ نے اپنے دین کو غالب کرنے کا وعدہ کیا ہے ، پھر کیا وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کا دباؤ قبول کیا۔ اور دب کر صلح کی ؟ یہ دونوں باتیں طرح طرح کے شکوک وشبہات اور گمان ووسوسے پیدا کررہی تھیں۔ ادھر مسلمانوں کے احساسات اس قدر مجروح تھے کہ وہ صلح کی دفعات کی گہرائیوں اور مآل پر غور کرنے کے بجائے حُزن وغم سے نڈھال تھے۔ اور غالباً سب سے زیادہ غم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کوتھا۔ چنانچہ انہوں نے خدمت ِ نبوی میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا ہم لوگ حق پر اور وہ لوگ باطل پر نہیں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیوں نہیں ؟ انہوں نے کہا : کیاہمارے مقتولین جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: تو پھر کیوں ہم اپنے دین کے بارے میں دباؤ قبول کریں ؟ اور ایسی حالت میں پلٹیں کہ ابھی اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خطاب کے صاحبزادے ! میں اللہ کا رسول ہو ں اور اس کی نافرمانی نہیں کرسکتا۔ وہ میری مدد کرے گا۔ اور مجھے ہرگز ضائع نہ کرے گا ، انہوں نے کہا:کیاآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ بیان نہیں کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس تشریف لائیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟ آپ نے فرمایا : کیوں نہیں ؟لیکن کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم اسی سال آئیں گے ؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو بہرحال تم بیت اللہ کے پاس آؤگے اور اس کا طواف کرو گے۔
اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ غصے سے بپھرے ہوئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے۔ اور ان سے وہی بات کہی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی تھیں۔ اور انہو ں نے بھی ٹھیک وہی جواب دیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔ اور اخیر میں اتنا اور اضافہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب تھامے رہویہاں تک کہ موت آجائے کیونکہ اللہ کی قسم آپ حق پر ہیں۔
اس کے بعد﴿ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ (۴۸: ۱)کی آیات نازل ہوئیں۔ جس میں اس صلح کو فتح ِ مبین قراردیا گیا ہے۔ اس کا نزول ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کوبلایا اور پڑھ کرسنایا۔ وہ کہنے لگے : یارسول اللہ ! یہ فتح ہے ؟ فرمایا : ہاں۔ اس سے ان کے دل کو سکون ہوگیا۔ اور واپس چلے گئے۔
بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنی تقصیر کا احساس ہوا تو سخت نادم ہوئے۔ خود ان کا بیان ہے کہ میں نے اس روز جو غلطی کی تھی اور جو بات کہہ دی تھی اس سے ڈرکر میں نے بہت سے اعمال کیے۔ برابر صدقہ وخیرات کرتا رہا۔ روزے رکھتا اور نماز پڑھتا رہا۔ اور غلام آزاد کرتا رہا ، یہاں تک کہ اب مجھے خیر کی امید ہے۔[1]
کمزور مسلمانوں کا مسئلہ حل ہوگیا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس تشریف لاکر مطمئن ہوچکے تو ایک مسلمان جسے مکہ میں اذیتیں دی جارہی تھیں چھوٹ کر بھاگ آیا۔ ان کا نام ابو بصیر تھا۔ وہ قبیلہ ثقیف سے تعلق رکھتے تھے۔ اور قریش کے حلیف تھے۔ قریش نے ان کی واپسی کے لیے دوآدمی بھیجے اور یہ کہلوایا کہ ہمارے اور آپ کے درمیان جو عہد وپیمان ہے اس کی تعمیل کیجیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بصیر کو ان دونوں کے حوالے کردیا۔ یہ دونوں انہیں ہمراہ لے کر روانہ ہوئے۔ اور ذُو الحلیفہ پہنچ کر اترے ، اور کھجور کھانے لگے۔ ابو بصیر نے ایک شخص سے کہا : اے فلاں ! اللہ کی قسم! میں دیکھتا ہوں کہ تمہاری یہ تلوار بڑی عمدہ ہے۔ اس شخص نے اسے نیام سے نکال کر کہا : ہاں ہاں ! واللہ یہ بہت عمدہ ہے۔ میں نے اس کا بارہا تجربہ کیا ہے۔ ابو بصیر نے کہا: ذرا مجھے دکھلاؤ ، میں بھی دیکھوں۔ اس شخص نے ابو بصیر کو تلوار دے دی۔ اور ابوبصیر نے تلوار لیتے ہی اسے مار کر ڈھیر کردیا۔
دوسر اشخص بھاگ کر مدینہ آیا اور دوڑتا ہو ا مسجد نبوی میں گھس گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا : اس نے خطرہ دیکھا ہے۔ وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر بولا : میرا ساتھی اللہ کی قسم قتل کردیا گیا۔ اور میں بھی قتل ہی کیا جانے والا ہوں۔ اتنے میں ابو بصیر آگئے۔ اور بولے : یا رسول اللہ! اللہ نے آپ کا عہد پورا کردیا۔ آپ نے مجھے ان کی طرف پلٹا دیا۔ پھر اللہ نے مجھے ان سے نجات دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی ماں کی بربادی ہو۔ اسے کوئی ساتھی مل جائے تو یہ تو جنگ کی آگ بھڑ کا دے گا۔ یہ بات سن کر ابو بصیر سمجھ گئے کہ اب انہیں پھر کافروں کے حوالے کیا جائے گا۔ اس لیے وہ مدینہ سے نکل کر ساحل سمندر پر آگئے۔ ادھر ابو جندل بن سہیل بھی چھوٹ بھاگے اور ابو بصیر سے آملے۔ اب قریش کا جو آدمی بھی اسلام لاکر بھاگتا وہ ابو بصیر سے آملتا۔ یہاں تک کہ ان کی ایک جماعت اکٹھی ہوگئی۔ اس کے بعد ان لوگوں کو ملک شام آنے جانے والے کسی بھی قریشی قافلے کا پتہ چلتاتو وہ اس سے ضرور چھیڑ چھاڑ کرتے اور قافلے والوں کو مار کر ان کا مال لوٹ لیتے۔ قریش نے تنگ آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ اور قرابت کا واسطہ دیتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ آپ انہیں اپنے پاس بلالیں۔ اور اب جو بھی آپ کے پاس جائے گا مامون رہے گا۔
اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بلوالیا اور وہ مدینہ آگئے۔[1]
بردران قریش کا قبولِ اسلام:
اس معاہدہ ٔ صلح کے بعد ۷ھ کے اوائل میں حضرت عَمرو بن عاص ،خالد بن ولید اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم مسلمان ہوگئے۔ جب یہ لوگ خدمتِ نبوی میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا : مکہ نے اپنے جگر گوشو ں کو ہمارے حوالے کردیا ہے۔[2]